30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کردیتاہوں کیونکہ جوتیرے حق میں بہترہے میں اسے جانتاہوں ، پھر تو میری بارگاہ میں گڑ گڑا کر سوال کرتاہے تو میں تجھ پر اپنی رحمت اورکرم سے عنایت فرماتاہوں اور تجھے تیرا سوال عطا فرماتاہوں ، پھر تو میری عطا کردہ شے سے میری نافرمانی پر مدد مانگتا ہے تو میں تجھے ذلیل و رسوا کردیتا ہوں میں تیری کس قدر بہتری چاہتا ہوں اور تو میری کتنی نافرمانیاں کرتاہے ، قریب ہے کہ میں تجھ سے ایسا ناراض ہوجاؤں کہ اس کے بعد کبھی راضی نہ ہوں۔‘‘
اوربعض آسمانی کتابوں میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے : ’’اے میرے بندے ! تُوکب تک میری نافرمانی کرتارہے گا حالانکہ میں نے تجھے اپنا رزق کھلایا اور تجھ پر احسان کیا، کیامیں نے تجھے اپنے دستِ قدرت سے پیدا نہیں فرمایا ؟ کیا میں نے تجھ میں روح نہیں پھونکی ؟ کیا تو نہیں جانتاکہ میں اپنی اطا عت کرنے والوں کیساتھ کیسامعاملہ فرماتاہوں اور اپنی نافرمانی کرنے والوں کی کیسی گرفت فرماتا ہوں ؟ کیاتجھے حیاء نہیں آتی کہ مصائب میں مجھے یاد کرتاہے مگر خوش حالی میں بھول جاتاہے ، نفسا نی خواہشات نے تیری چشمِ بصیرت کواندھا کردیاہے ، تو کب تک سستی کرے گا؟ اگر تواپنے گناہ سے توبہ کرے گا تومیں تجھے اپنی امان عطا فرماؤ ں گا، ایسے گھر کو چھوڑدے جس کی صفائی (حقیقت میں ) میلی ہے او ر اس کی امید یں جھوٹی ہیں۔ تو نے میرے قُرب کو گھٹیا لوگو ں کے ہاتھوں بیچ دیا حالانکہ میرا کوئی شریک نہیں ، تیرے پاس اس وقت کیا جواب ہوگاجب تیرے اعضاء تیرے خلاف گواہی دیں گے جسے تو سنے گا اور دیکھے گا۔‘‘
یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ﳝ- ( پ ۳ ، آل عمران : ۳۰)
ترجمہ کنز الایمان : جس دن ہرجان نے جو بھلاکام کیا حاضر پائے گی ۔
تَعْصِیْ الْاِلٰہَ وَاَنْتَ تَزْعَمُ حُبَّہُ ھٰذَا مَحَالٌ فِی الْقِیَاسِ بَدِیْعُ
لَوْکَانَ حُبُّکَ صَادِقًا لَاَطَعْتَہُ اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ مُطِیْعُ
ترجمہ : (۱)تُواللہ کی نافرمانی کرنے کے باوجود اس کی محبت کا دعوی کرتا ہے ، یہ عجیب وانوکھی بات عقل میں آنے والی نہیں۔
(۲)اگر تیری محبت میں صداقت ہوتی تو تُوضرور اس کی اطاعت کرتا کیونکہ محب تو اپنے محبوب کی بات ماناکرتا ہے ۔
حضرت ِ سیِّدُنا مالک بن دینا ر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ میں اپنے ایک پڑوسی کے پاس گیا۔وہ موت کی سختیوں میں مبتلاتھا ، کبھی اس پر غشی طار ی ہوتی اور کبھی اِفاقہ ہوجاتا۔اس کے سینے سے گرم سانسیں نکل رہی تھیں۔وہ اپنی دنیا میں منہمک رہا کرتا اوراپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں غفلت کیا کرتاتھا ۔میں نے اسے مشورہ دیا : ’’اے میرے بھائی!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بار گا ہ میں تو بہ کر اور غفلت سے اپنا دامن چھڑا لے ، شایداللہ عَزَّ وَجَلَّ تیرے درد میں کمی فرمادے او ر تجھے شفا دے دے اور اپنے کرم سے تیرے گناہ معاف فرمادے ۔‘‘ تو وہ کہنے لگا : ’’ ہائے افسوس ! موت سر پر کھڑی ہے اور عنقریب میں مرنے والا ہوں ، افسو س ہے اس زندگی پر جسے میں نے فضول کاموں میں گنوادیا، میں اپنے گناہوں سے تو بہ کرتاہوں۔‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’اسی و قت میں نے اس کے گھر کے ایک کو نے سے غیبی آواز سنی، کوئی کہنے والاکہہ رہا تھا کہ ہم نے تجھے کئی باراَمان دی مگر تجھے بہت بڑا دھوکے باز پایا۔‘‘
ہم برے خاتمہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پنا ہ چاہتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں اپنے پچھلے گناہوں کی بخشش کا سوال کرتے ہیں۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلی اللہ تعالیہ علیہ وسلم
میرے اسلامی بھائی !
اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ (کی رضا کے حصول )کو اپنی توجہ کا مرکزبنالے ، … غفلت اور نفسانی خواہشات سے باز آجا ، … اپنی بقیہ عمر پیہم اِطا عت میں گزاراوردنیاوی خواہشات سے بچنے پرصبرکر ، …اے احکام شریعت کے پابندانسان! نافرمانیوں اور گناہوں سے دُور بھاگ کیونکہ دنیا میں اطاعت پر صبر کرنا جہنم کی آگ پر صبر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع