30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یقینازنا مال کوختم کر دیتاہے اور چہرے کانور مٹادیتاہے اور زانی کو ہمیشہ کے لئے جہنم کا حقدار بنادیتاہے ۔
نبی کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرت ِ سَیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا : ’’جب بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بار گاہ میں حاضر ہوگا تو شرک کے بعد اس کا کوئی گناہ زنا سے بڑھ کر نہ ہوگا اور اسی طر ح وہ شخص جو اپنے نطفے کو حرام رحم میں رکھتا ہے وہ بھی ایسا ہی ہے (یعنی اس کاگناہ بھی شرک کے بعدسب سے بڑاہوگا)۔ قیامت کے دن زانی کی شرمگاہ سے ایسی پیپ نکلے گی کہ اگر اس میں سے ایک قطرہ سطح زمین پرڈال دیا جائے تو اس کی بو کی وجہ سے ساری دنیا والوں کا جینادوبھر ہوجائے ۔‘‘(کنزالعمال ، کتاب الحدو د ، الباب الثانی فی الوداع الحدو د ، رقم۱۲۹۹۰ ، ج۵ ، ص۱۲۵، بتصرفٍ’’ ما ذنب بعد الورک اعظم عند اللہ من نطفۃ وضعھا رجل فی رحم لا یحل لہ)
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کاارشادِ پاک ہے : ’’ زنا سے بچتے رہوکیونکہ یہ جسم کی تازگی کو ختم کرتا ہے اور طویل محتاجی کا سبب ہے اور آخرت میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نارا ضی، حساب کی سختی اور ہمیشہ کے لئے جہنم میں جلنے کا سبب ہے ۔‘‘
(شعب الایمان ، باب فی تحریم الفر وج ، رقم ۵۴۷۵، ج ۴ ، ص ۳۷۹)
یَامَنْ عَصٰی اللہَ فِیْ الشَّبَابِ وَقَدْ اَدْرَکَہُ الشَّیْبُ رَاقِبِ اللہَ
صُحُفُکَ بِالسَّیِّئَاتِ قَدْمُلِئَتْ بِاَیِّ وَجْہٍ تَرَ اکَ تَقْرَأُھَا
اَعْدِدْ جَوَابًااِذَا سُئِلْتَ غَدًا وَقَرَّبَ النَّارَ مِنْکَ مَوْلَاھَا
یَامَعْشَرَالْمُسْلِمِیْنَ کَمْ رَجُلٍ تَلُوْمُہُ النَّارُ حِیْنَ یَصْلَاھَا
ترجمہ : (۱)اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں جوانی گزارنے والے ، تیر ابڑھاپاآچکااب تواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حقوق کی پاسداری کرلے ۔
(۲)تیر اعمال نامہ گناہوں سے بھرچکاہے اس گناہوں سے بھرے نامۂ اعمال کوکیسے پڑھے گا۔
(۳)کل قیامت میں جب سوال کئے جائیں گے اور مولیٰ(قہار)عَزَّ وَجَلَّ جہنم کوتجھ سے قریب کردے گا(اس وقت کے لئے )جوابات کی تیاری کرلے ۔
(۴)اے گروہ ِمسلمین!بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جب جہنم میں داخل ہوں گے تووہ انہیں ملامت کرتی ہوگی ۔
سرکارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہ ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزول ِسکینہ ، فیض گنجینہ ، شہنشاہ ِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’ اپنے بندے یا بندی کو زنا کرتے دیکھ کراللہ عَزَّ وَجَلَّ کوسب سے زیادہ غیرت آتی ہے ۔خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! اگر تم وہ باتیں جان لو جنہیں میں جانتاہوں تو کم ہنسو اور زیادہ روؤگے ، سن لو ! کہ جہنم میں آگ کے تابوت میں کچھ لوگ قید ہوں گے کہ جب وہ راحت مانگیں گے تو ان کے لئے تا بوت کھول دیئے جائیں گے اور جب ان کے شعلے جہنمیوں تک پہنچیں گے تو وہ بیک زبان فریاد کرتے ہوئے کہیں گے : ’’یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ان تابوت والوں پر لعنت فرما یہ وہ لوگ ہیں جو عورتوں کی شرمگاہوں پر حرام طریقے سے قبضہ کرتے تھے ۔‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب النکاح ، باب الغیرۃ ، رقم ۵۲۲۱، ج ۳ ، ص ۴۶۹، مختصراً)
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌعنِ العُیُوب ، عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جب جنت کو پیدا فرمایاتو اس سے فرمایا : ’’ کلام کر۔‘‘ تو وہ بولی : ’’ جومجھ میں داخل ہوگا وہ سعادت مند ہے ۔‘‘تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا : ’’ مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! تجھ میں آٹھ قسم کے لوگ داخل نہ ہوں گے : شراب کا عادی، زنا پراصرار کرنے والا ، چغل خور، دیوث، (ظالم)سپاہی، ہیجڑا اور رشتہ داری توڑنے والااور وہ شخص جو خدا کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ فلاں کام ضرور کرو ں گا پھر وہ کام نہیں کرتا۔‘‘ (اتحاف السادۃ المتقین ، کتاب آفات اللسان ، ج ۹ ، ص ۳۴۵۔۳۴۶)
زناپر اصرار کرنے والے سے مراد ہمیشہ زنا کرتا رہنے والا نہیں ، اسی طرح شراب کے عادی سے مرادیہ نہیں جو ہمیشہ شراب پیتارہے بلکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع