30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں رہتا۔‘‘یعنی زانیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے دور اور اس کے عذاب کا حقدار ہوجاتاہے ۔(صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان نقصان الایمان ۔۔۔۔۔الخ ، رقم ۵۷، ص ۴۸)
زِنا کی اِجازت مانگنے والا نوجوان :
ایک نوجوان نے رَحْمۃٌلِّلْعٰلَمِین ، شفیع المذنبین ، اَنِیس الغریبین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مجھے زنا کی اجازت دیتے ہیں ؟‘‘اس پر وہاں موجود صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس نوجوان کوڈانٹا تو حسنِ اخلاق کے پیکر ، نبیوں کے تاجور، محبوب ِ ربِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اسے چھوڑدو ۔‘‘پھر اس نوجوان سے فرمایا : ’’میرے قریب آجاؤ۔‘‘ تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے قریب حاضر ہوگیا ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس سے پوچھا : ’’ تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ کوئی تمہاری ماں کے ساتھ ایسا کام کرے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : ’’ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر قربان جاؤں یقینا میں اس بات کو پسندنہیں کرتا ۔‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اسی طرح لوگ بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کی ماں کے ساتھ کوئی ایسا کام کرے ۔‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ا س سے پوچھا : ’’کیاتم اپنی بیٹی کے لئے یہ بات پسند کرتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا : ’’ نہیں۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اسی طر ح لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے معاملہ میں یہ بات پسند نہیں کرتے ۔‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس کی بہن، خالہ اور پھوپھی کے بارے میں یہی سوال کیا تو وہ انکار کرتارہااور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے رہے : ’’ اسی طر ح لوگ بھی یہ بات پسند نہیں کرتے ۔‘‘
پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنا دست مبارک اس نوجوان کے سینے پررکھ کردعا فرمائی : ’’ اللّٰھُمَّ طَھِّرْ قَلْبَہٗ وَاغْفِرْذَنْبَہٗ وَحَصِّنْ فَرْجَہٗیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس کے دل کو پاک فرما، اس کا گناہ معاف فرمااور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔‘‘ا س کے بعد یہ نوجوان زناکو سخت ناپسند کرنے لگ گیا۔ (المعجم الکبیر ، رقم ۷۶۷۹، ج۸ ، ص ۱۶۲ ۔ ۱۶۳)
منقول ہے کہ جب عورت کو پیدا کیاگیا تو ابلیس نے اس سے کہا : ’’ تو میرا آدھا لشکر ہے ، تو میری رازگاہ ہے ، تو میرا ایسا تیر ہے کہ جسے میں جب بھی چلاؤں گا نشانے پر لگے گا ۔‘‘(اتحاف السادۃ المتقین ، کتاب کسر الشھوتیں ، باب القول فی شھوۃ الفر ج ، ج ۹، ص ۹۲)
اس لئے پیارے اسلامی بھائی!(اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پررحم فرمائے ) شیطان کے تیروں سے بچتے رہو۔
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ پاک ہے : ’’ زنا کبیرہ گناہو ں میں سے بہت بڑا گناہ ہے اور زانی پر قیامت تکاللہ عَزَّ وَجَلَّ ، ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت برستی رہے گی اور اگر وہ تو بہ کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔‘‘(رواہ النسائی طرفہ الاخیرفی السنن، کتاب قطع السارق، باب تعظیم السرقۃ، رقم۴۸۷۶، ص۲۴۰۳، )
سرکارِ مدینہ قرارِقلب وسینہ ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول ِسکینہ ، فیض گنجینہ ، شہنشاہ ِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن کی علامت یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نماز اور روزے میں اس کا دل لگادے اور منافق کی علامت یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے پیٹ اور شرمگاہ کی تسکین کو اس کی خواہش بنادے ۔‘‘
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌعنِ العُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’زنا تنگدستی پیدا کرتا ہے اور چہرے کا نور ختم کردیتاہے ۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے : ’’میں نے عہدکررکھاہے کہ میں زانی کو تنگدست کردو ں گا اگر چہ کچھ عرصہ بعد سہی ۔ ‘‘(کنزالعمال ، کتاب الحدو د ، الباب الثانی فی انواع الحدو د ، رقم ۱۳۰۱۸ ، ج۵ ، ص ۱۲۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع