30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴)اگر توزندہ ہے تو تجھ پرلازم ہے کہ جہاں سے چلاتھاجیتے جی وہیں پلٹ آ۔
حضرت سیِّدُناامام عبداللہ بن عمربیضاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی۶۸۵ھ) ارشادفرماتے ہیں : ’’جوشخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوراس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی فرمانبرداری کرتاہے دُنیامیں اس کی تعریفیں ہوتی ہیں اور آخرت میں سعادت مندی سے سرفراز ہوگا۔‘‘(تفسیربیضاوی، پ۲۲، الاحزاب، تحت الایۃ : ۷۱، ج۴، ص۳۸۸)
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس سے پوچھا : ’’ اے عورت ! تجھے کیا صدمہ پہنچا ہے ؟ ‘‘عرض کرنے لگی : ’’ یامحمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! میرا بچہ میرے سامنے کھیل رہا تھا کہ اچانک غائب ہوگیا اور اس کے بغیر میرا گھر ویران ہوگیا ہے ۔‘‘
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌعنِ العُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ اگراللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے ذریعہ تمہارے بچے کو لوٹادے تو کیا تم مجھ پر ایمان لے آؤ گی۔‘‘ عورت بولی : ’’ جی ہاں ! مجھے انبیاء کرام حضرت ِ سَیِّدُنا ابراہیم ، حضرت ِ سَیِّدُنا اسحق اور حضرت ِ سَیِّدُنا یعقوب علیہم السلام کے حق ہونے کی قسم ! میں ضرور ایمان لے آؤں گی۔‘‘
رَحْمۃٌلِّلْعٰلَمِین ، شفیع المذنبین ، اَنِیس الغریبین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اٹھے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں پھر دیر تک دعا مانگتے رہے ۔جب دعا مکمل ہوئی تو بچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سامنے موجود تھا ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بچے سے پوچھا کہ ’’تو کہاں تھا؟‘‘ بولا : ’’ میں اپنی ماں کے سامنے کھیل رہا تھا کہ اچانک (عفریت نامی ) ایک کافر جن میرے سامنے آیا اور مجھے اٹھا کر سمندر کی طرف لے گیا ۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دعا مانگی تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک مؤمن جن کو اس پر مسلط کردیا جو جسامت میں اس سے بڑا اور طاقتور تھا۔ اس نے مجھے کافر جن سے چھین کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں پہنچا دیا اوراب میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سامنے حاضر ہوں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر رحمت ناز ل فرمائے ۔‘‘وہ عورت یہ واقعہ سنتے ہی کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوگئی ۔
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
پیارے اسلامی بھائیو!
یادرکھو کہ زنا کبیرہ گناہ ہے اور زانی دنیا وآخرت میں بد بخت ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی پاک کتاب میں متعدد مقامات پراس سے ممانعت فرمائی ہے ۔ چنانچہ،
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے :
وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ۱۵، بنی اسرائیل : ۳۲)
ترجمہ کنز الایمان : او ر بدکاری کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے :
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵) اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ(۶) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ(۷) (پ۱۸، المومنون : ۵۔۶۔۷)
ترجمہ کنزالایمان : اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پرجوان کے ہاتھ کی ملک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں تو جوان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ حقیقت بنیادہے : ’’ زانی جب زنا کرتا ہے تو مومن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع