30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زندگی میں اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے اور اور بھی زیادہ گمراہ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
اللہ ورسول عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خوشنودی کے حصول اور باکردار مسلمان بننے کے لئے ’’دعوتِ ا سلامی‘‘ کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے ’’ مدنی انعامات ‘‘نامی رسالہ حاصل کر کے اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کیجئے ۔اور اپنے اپنے شہروں میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنتو ں بھرے اجتماع میںپابندیٔ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں کی بہاریں لُوٹئے ۔ دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے لیے بے شمار مدنی قافلے شہر بہ شہر، گائوں بہ گائوں سفر کرتے رہتے ہیں، آپ بھی سنتوں بھرا سفر اختیار فرما کراپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کریں۔ اِنْ شَائَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں حیرت انگیز طور پر’’ مدنی انقلاب‘‘ برپا ہوتا دیکھیں گے ۔
؎ ش کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو !
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے :
اے ابن آدم! تعجب ہے اس شخص پرجو موت پر یقین رکھتا ہے پھربھی خوش ہوتا ہے ۔
٭… تعجب ہے اس پرجوحساب و کتاب پر یقین رکھتا ہے پھربھی مال جمع کرنے میں مصروف ہے ۔
٭… تعجب ہے اس پرجوقبرپر یقین رکھنے کے باوجودہنستاہے ۔
٭… تعجب ہے اس پرجسے آخرت پریقین ہے پھربھی پُرسکون ہے ۔
٭…تعجب ہے اس پرجو دُنیا(کی حقیقت کوجانتا)اور اس کے زوال پر یقین رکھتا ہے پھر بھی اس پرمطمئن ہے ۔
٭… تعجب ہے اس پرجوگفتگوتوعالموں جیسی کرتاہے لیکن اس کادِل جاہلوں جیسا ہے ۔
٭… تعجب ہے اس شخص پرجو پانی کے ذریعے پاکی تو حاصل کرتاہے مگراس کا دِل آلودہ ہے ۔
٭… تعجب ہے اس پرجو لوگوں کے عیوب تلاش کرنے میں تومصروف رہتا ہے لیکن اپنے عیوب سے غافل ہے ۔
٭… تعجب ہے اس شخص پرجوجانتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے ہرعمل سے باخبر ہے پھر بھی اس کی نافرمانی کرتاہے ۔
٭… تعجب ہے اس پر جو جانتاہے کہ اسے اکیلے مرنا، اکیلے قبر میں داخل ہونا اور اکیلے ہی حساب دینا ہے پھر بھی لوگوں سے اُنسیت رکھتاہے ۔
(اے ابن آدم!سن!)میں ہی معبودِحقیقی ہوں اور محمد میرے خاص بندے اور رسول ہیں۔ (مجموعۃ رسائل الامام الغزالی، المواعظ فی الاحادیث القدسیۃ، ص۵۶۵)
ایک مرتبہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور، محبوب رب اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی عورت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں روتی ہوئی حاضر ہوئی اور یہ اشعار پڑھنے لگی :
بِاَبِیْ اَفْدِیْکَ یَانُوْرَ الْفَلَکِ لَیْتَ شَعْرِیْ اَیُّ شَیْیٍٔ قَتَلَکْ
غِبْتَ عَنِّی غَیْبَۃً مُّوْحِشَۃً اَتُرٰ ی ذِئْبٌ یَھُودِیٌّ اَکَلَکْ
اِنْ تَکُنْ مَیْتًا فَمَا اَسْرَعَ مَا کَانَ فِیْ اَمْرِ اللَّیَالِیْ اَجَلَکْ
اَوْ تَکُنْ حَیًّا فَلَا بُدَّ لِمَنْ عَاشَ اَنْ یَّرْجِعَ مِنْ حَیْثُ سَلَکْ
ترجمہ : (۱)اے میرے چاند(یعنی میرے بیٹے )میرا باپ تم پرفدا ، کاش! مجھے تیرے قاتل کاعلم ہوتا۔
(۲)تیرامجھ سے یوں اوجھل ہوناوحشت ناک ہے ، کیا تجھے یہودی بھیڑیا کھاگیاہے ۔
(۳)اگرتوفوت ہوچکاہے توراتوں رات تیرایہ مرجاناکس قدرجلدہواہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع