30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۳)محبت کی صداقت یوں ظاہرہوگئی جیسے دیکھنے والوں پررات میں ستارے ظاہر ہوجاتے ہیں۔
(۱۴)کامیابی آقا سے محبت ہی میں ہے ، اس راہِ محبت میں محب جب بھی تواضع کرتا ہے اس کوبلندیاں نصیب ہوتی ہیں۔
حضرت ِ سَیِّدُنا قتا دہ بن نعمان انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجوکہ مشہور تیرانداز تھے ، غزوہ بدر اور اُحد میں شریک ہوئے ۔ غزوہ اُحد میں ان کی آنکھ تیر لگنے کے سبب ان کے رخسارپربہہ پڑی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا س آنکھ کو ہاتھ میں تھامے سرکارِ مدینہ قرارِقلب وسینہ ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزول ِسکینہ ، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مدنی حبیب، طبیبوں کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اے قتادہ ! یہ کیا ہے ؟‘‘ عرض کیا : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! یہ وہی ہے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ملاحظہ فرمارہے ہیں۔‘‘تو نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور، محبوب رب اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان سے فرمایا : ’’ اگر تم چاہوتو صبر کرو تو تمہارے لئے جنت ہوگی اور اگر چاہو تو میں یہ آنکھ تمہیں لوٹا دوں اور تمہارے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کروں تو تم اس میں کسی کمی کونہ پاؤ گے ۔‘‘ عرض کیا : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! بے شک جنت بہت بڑی جزا اور بہت بڑی عطا ہے مگر میں اپنی بیویوں سے بھی محبت کرتا ہوں اورمجھے اس بات کا ڈرہے کہ کہیں وہ مجھے یہ کہہ کرٹھکرانہ دیں کہ’’ یہ نابینا ہے ۔‘‘میں چاہتا ہوں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مجھے یہ آنکھ بھی لوٹادیں او راللہ عَزَّ وَجَلَّ سے میرے لئے جنت کا سوال بھی کریں۔‘‘ تو رحمتِ دوعالم، سرورِکونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ اے قتادہ ! میں ایسا ہی کرو ں گا ۔‘‘پھرسرکارِمدینہ، راحتِ قلب وسینہ، صاحبِ معطر پسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے وہ آنکھ اپنے دست مبارک میں پکڑی او ر اسے اس کی جگہ پر لگا دیا تو وہ آنکھ پہلے سے بہتر اور خوبصورت ہوگئی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں ان کے لئے جنت کی دعا فرمائی۔
جب ان کے بیٹے حضرت ِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے زمانہ خلافت میں ان کے پاس حاضر ہوئے تو حضرت ِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے پوچھا اے جوان ! تم کون ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا :
اَنَا ابْنُ الَّذِیْ سَالَتْ عَلٰی الْخَدِّعَیْنُہُ فَرُدَّتْ بِکَفِّ الْمُصْطَفٰی اَحْسَنَ الرَّدِّ
فَعَا دَتْ کَمَا کَانَتْ بِاَحْسَنِ حَالِھَا فَیَا حُسْنَ مَاعَیْنِ وَیَا حُسْنَ مَارَدِّ
ترجمہ : (۱)میں اس صاحب کافرزندہوں جن کی آنکھ رخسارپر بہہ گئی تودستِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اسے بہترین اندازسے اس کے مقام پرلوٹادیا۔
(۲) پس وہ آنکھ پہلے سے کہیں زیادہ اچھی حالت میں آگئی ، پس یہ آنکھ اورآنکھ لوٹانے والے کیاہی خوب تھے ۔
تو حضرت ِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَدِیْر نے فرمایا : ’’وسیلہ کے ذریعے ہم تک پہنچنے والوں کو چاہئے کہ انہی جیسے لوگو ں کے وسیلہ سے آیا کریں۔‘‘(الاستیعاب قتادۃ بن النعمان، باب حرف القاف ، ج ۳ ، ص ۳۳۸)
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭…
پیارے اسلامی بھائیو!
تو بہ کرنے والے تنہائی پانے کے لئے ویران مقامات کی طرف اس طر ح بھاگتے ہیں جس طر ح خوفزدہ انسان دارالامان (یعنی امن والی جگہ)کی طرف بھاگتا ہے ۔ یہ لوگ وقتِ سحر میں آنسو بہا کر سکون حاصل کرتے ہیں۔سجدو ں نے ان کی پیشانیوں پر نشانِ معرفت کھینچ دیئے ۔یہ لوگ ساری ساری رات عبادت میں مصروف رہتے ہیں پھر جب سحر پھوٹتی ہے تو ان کی آنکھوں سے اشکوں کے دھارے بہہ نکلتے ہیں۔پھر جب طلوعِ فجر ہوتی ہے تو یہ مشاہدات میں کھو جاتے ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بڑائی بیان کرتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع