30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب صبح ہوئی تولوگوں نے سفر کی تیاری شروع کی اور میری سواری میرے پاس لے آئے تومیں نے یہ سوچ کراس کا رخ دمشق کی جانب پھیر دیا کہ اگر میں دوبارہ تجارت میں مصروف ہوگیا تومیں تو بہ میں سچا نہیں۔ میری قوم نے اس تبدیلی کی وجہ پوچھی تومیں نے انہیں اپنی تو بہ کے بارے میں بتادیا ، انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لئے اصرار کیا مگر میں نے انکار کردیا۔
راوی کہتے ہیں کہ دمشق پہنچنے کے بعداس شخص نے اپنا مال راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں صدقہ کردیا اور عبادت میں مصروف ہوگیا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے پاس کفن کی قیمت کے علاوہ کچھ نہ تھا۔
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
ذَکَرَالْوَعِیْدَ فَطَرَفُہُ لَایَھْجَعُ َجَفَاالرُّقَادَ فَبَانَ عَنْہُ المَضْجَعُ
مُتَفَرِّدًا بِغَلِیْلِہِ یَشْکُوْالَّذِیْ مِنْہُ الْجَوَانِحُ وَالْحَشَا یَتَوَجَّعُ
لَمَّاتَیَقَّنَ صِدْقَ مَا جَائَ تْ بِہِ الْ آیَاتُ صَارَ اِلٰی الْاِنَابَۃِ یَسْرَعُ
فَجَفَا الْاَحِبَّۃَفِیْ مَحَبَّۃِ رَبِّہِ وَسَمَا اِلَیْہِ بِھِمَّۃٍ مَّا یُقْلِعُ
وَتَمَتَّعَتْ بِوِدَادِہِ اَعضَاؤُہُ اِذْخَصَّھَامِنْہُ بِوُدٍّ یَّنْفَعُ
کَمْ فِیْ الظَّلَامِ لَہُ اِذَا نَامَ الْوَرٰی مِنْ زَفْرَۃٍفِیْ اِثْرِھَا یَتَوَجَّعُ
وَیَقُوْلُ فِیْ دَعْوَاتِہِ یَاسَیِّدِیْ اَلْعَیْنُ یُسْعِدُھَا دُمُوْعٌ رُجَّعُ
اِنِّیْ فَزِعْتُ اِلَیْکَ فَارْحَمْ عَبْرَتِیْ وَاِلَیْکَ مِنْ ذُلِّ الْخَطِیْئَۃِ اَفزَعُ
مَنْ ذَا سِوَاکَ یُجِیْرُنِیْ مِنْ زَلَّتِیْ یَامَنْ لِعِزَّتِہِ اَذِلُّ وَاَخْضَعُ
فَامْنُنْ عَلَیَّ بِتَوْبَۃٍ اَحْیَابِھَا اِنِّیْ بِمَا اجْتَرَمَتْ یَدَایَ مُرَوَّعُ
قُلْ ا تَصْبرُُعَنْکَ یَامَنْ حُبُّہُ فِیْ الْجَارِحَاتِ سَقَامُہُ یَتَسَرَّعُ
کَیْفَ اصْطِبَارُ مُتَیِّمٍ فِیْ حُبِّہِ قِدَمًالِکَاْسَاتِ الْھَوٰی یَتَجَرَّعُ
لَاحَتْ وَعَنْ صِدْقِ الْمَحَبَّۃِ مَابَدَتْ لِلنَّاظِرِیْنَ نُجُوْمُ لَیْلٍ تَطْلُعُ
مَاالْفَوْزُ اِلَّافِی مَحَبَّۃِ سَیِّدِہِ فِیْھَا الْمُحِبُّ اِذَا تَوَاضَعَ یُرْفَعُ
ترجمہ : (۱)اسے (گناہوں کی) سزایادآئی تواس کی آنکھ نہ سوئی ، اوراس نے نیندکوخودسے دورکیاتو اس کی آرام گاہ بھی اس سے علیحدہ ہوگئی ۔
(۲)وہ اپنی پیاس میں تنہاہے جس کی شکایت کروٹیں کرتی ہیں اورآنتیں دردمیں مبتلاء ہیں۔
(۳)جب آیات کے لائے ہوئے احکام کی سچائی کایقین کرلیا تو تیزی کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طر ف رجوع کرنے والا ہوگیا۔
(۴)اس نے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں دوست واحباب سے تعلق توڑلیا اورایسی توجہ سے اس کی طر ف متوجہ ہوگیاجوغیرکی محبت ختم کردیتی ہے ۔
(۵)اس کے اعضاء نے محبت الٰہی عَزَّ وَجَلَّ سے خوب فیض حاصل کیاکیونکہ اس نے اپنے اعضاء کونفع بخش محبت کے ساتھ خاص کیاتھا۔
(۶)اس پرکتنی ہی ایسی تاریک راتیں گزریں جب لوگ محوِخواب ہوتے تویہ اس اندھیرے میں دردسے آہ وزاری کررہاہوتا۔
(۷)وہ اپنی دعاؤں میں عرض کرتاہے : اے میرے آقا! بہتے ہوئے آنسوآنکھ کو خوش بخت بنارہے ہیں۔
(۸)بے شک میں تیری پناہ میں آیاتومیری اشک باری پر رحم فرمااورگناہوں کی ذلت سے بھی تیری ہی پناہ طلب کرتاہوں۔
(۹)اے وہ ذات!جس کی بارگاہِ عزت کے لئے میں عاجزی وانکساری کرتاہوں ، تیرے سواکون مجھے لغزشوں سے بچانے والاہے ۔
(۱۰)تومجھ پراحسان کرتے ہوئے میری توبہ قبول فرماتاکہ اس کے باعث پرسکون زندگی گزار وں ، کیونکہ میں اپنے ہاتھوں کئے گئے جرائم سے خوف میں مبتلاء ہوں۔
(۱۱)اے وہ ذات جس کی محبت میری نس نس میں بسی ہوئی ہے ، دردِمحبت بڑھتاجارہا ہے اب ملاقات نہ ہونے پرصبرنہیں ہوسکتا۔(یعنی مجھے موت دے کراپنے دیدارکاشرف عطافرما)
(۱۲)تیری محبت میں مستغرق ہوجانے والاوہ شخص جوطویل عرصے تک شہوات کے جام انڈیلتارہاہواب اُسے تیری ملاقات کے بغیرکیسے صبرہوسکتاہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع