30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غضبناک ہوگئے اور ان کی گرفت کا ارادہ فرمایا مگرپھر ان کی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ساتھ صحبت یعنی صحابیت کا خیال آیا تو رُک گئے ۔اسی اثناء میں حضرت ِ سَیِّدُنا علی المر تضی کرم اللہ وجہہ الکریم وہاں سے گزر ے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے چہرہ پر غضب کے آثار ملاحظہ فرمائے تو پوچھا : ’’ اے امیر المؤمنین! آپ کو کس بات نے غضبناک کیا ہے ؟‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پورا قصہ سنادیاتو مولاعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے کہا : ’’ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ان سے ناراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کا قول کہ’’میں فتنے سے محبت کرتاہوں۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان کی تاویل ہے :
اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌؕ- (پ۲۸، التغابن : ۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان : تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ (آزمائش ) ہی ہیں۔
اور ان کے اس قول کہ’’ میں حق کو ناپسند کرتا ہوں۔‘‘ میں حق سے مراد موت ہے جس سے کسی کو چارہ نہیں اورنہ کوئی اس سے بچ سکتاہے او را ن کے اس قول کہ’’ وہ بات کہتا ہوں جو پیدا نہیں کی گئی‘‘سے مراد قرآن پاک ہے کہ یہ قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن مخلوق نہیں اور ان کے ا س قول کہ’’ اس بات کی گواہی دیتاہوں جسے میں نے دیکھا نہیں ‘‘کا مطلب یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تصدیق کرتاہوں حالانکہ اسے دیکھا نہیں اور ان کے ا س قول کہ’’ بغیر وضو صلوٰۃ پڑھتا ہوں۔‘‘کامطلب یہ ہے کہ نبی ٔمکرَّم ، نورِ مجسّم، رَسُولِ اکرم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر بغیر وضو کے درودِپاک پڑھتا ہوں ، ان کے ا س قول کہ’’ میرے پاس زمین پر ایسی چیز ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس آسمانوں میں نہیں ہے ۔‘‘ سے مراد بیوی اور بچے ہیں کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس ان میں سے کوئی چیز نہیں۔
حضرت ِ سَیِّدُنا عمر بن خطا ب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : ’’ اے ابو الحسن ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں کتنی ذہانت عطافرمائی ہے ، بے شک تم نے میرا ایک بہت بڑا مسئلہ حل کردیاہے ۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
اِہل دمشق میں سے ایک شخص تھاجس کا نام ابوعبدالرب تھااور وہ پورے دمشق میں سب سے زیادہ مالدار تھا۔ ایک مرتبہ وہ سفر پر نکلاتو اسے ایک نہر کے کنارے کسی چراگاہ میں رات ہوگئی چنانچہ اس نے وہیں پڑا ؤ ڈال دیا۔ اسے چراگاہ کی ایک جانب سے ایک آواز سنائی دی کہ کوئی کثرت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعریف کررہاتھا ۔وہ شخص اس آواز کی تلاش میں نکلا تو دیکھا کہ ایک شخص چٹا ئی میں لپٹا ہوا ہے ۔ اس نے اس شخص کوسلام کیا اور اس سے پوچھا کہ ’’تم کون ہو؟‘‘ تو اس شخص نے کہا : ’’ایک مسلمان ہوں۔‘‘ اس دمشقی نے اس سے پوچھا : ’’یہ کیا حالت بنارکھی ہے ۔‘‘ تو اس نے جواب دیا : ’’یہ نعمت ہے جس کا شکر ادا کرنا مجھ پر واجب ہے ۔‘‘ دمشقی نے کہا : ’’تم چٹائی میں لپٹے ہوئے ہو یہ کونسی نعمت ہے ؟‘‘ اس نے کہا : ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا فرمایا تو میری تخلیق کواچھا کیا اور میری پیدا ئش وپرورش کو اسلام میں رکھا اور میرے اعضاء کو تندرست کیا اور جن چیزوں کا ذکر مجھے ناپسندہے انہیں چھپایا تو جو میری طر ح شام کرتاہو اس سے بڑھ کر نعمت میں کون ہوگا َ؟‘‘
وہ دمشقی کہتا ہے کہ میں نے ان سے کہا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے ، آپ میرے ساتھ چلنا پسند فرمائیں گے ، ہم یہیں آپ کے برابر نہر کے کنارے ٹھہرے ہوئے ہیں ؟‘‘اس شخص نے کہا : ’’وہ کیوں ؟‘‘ میں نے کہا : ’’اس لئے کہ آپ کچھ کھانا وغیرہ کھالیں اور ہم آپ کی خدمت میں کچھ ایسی چیز یں پیش کریں جو آپ کو چٹائی میں لپٹنے سے بے نیاز کردیں۔‘‘ اس نے کہا : ’’مجھے ان چیز وں کی حاجت نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے میرے ساتھ چلنے سے انکار کردیا اور میں واپس لوٹ آیا ۔ (اس کی باتیں سننے کے بعد)میرے نزدیک اپنے آپ کی کوئی حیثیت نہ رہی ۔ میں نے (اپنے دل میں )کہا : ’’ میں نے دمشق میں اپنے سے زیادہ مالدار کوئی نہیں دیکھا پھر بھی میں مزید کی تلاش میں ہوں۔‘‘پھر میں نے بارگاہِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ میں عرض کی : ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں تیری بارگاہ میں اپنے اس حال سے تو بہ کرتا ہوں۔‘‘یوں میں نے توبہ کرلی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع