30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رحمت ایک ہاتھ اس کے قریب آجاتی ہے ، اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میری رحمت دونوں بازوؤں کے پھیلا ؤ کے بقدر اس کے قریب ہوجاتی ہے ۔اور اگر وہ چل کرمیری طرف آتا ہے تو میری رحمت دوڑتی ہوئی اس کی طرف آتی ہے ۔‘‘
(صحیح مسلم ، کتاب الذکر والدعاء ، باب الحث علی ذکراللہ تعالٰی، رقم ۲۶۷۵، ص۱۴۳۹)
حضرت ِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ خاتِمُ المرسلین ، رَحمۃٌ للعالمین ، اَنیسُ الغرِ یبین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان ِ خوشبودار ہے : ’’ تم میں سے جو شخص رات میں عبادت کرنے سے عاجز ہو اور دشمن سے جہاد کرنے میں کمزور ہو اور مال خرچ کرنے میں کنجوس ہو تو اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکرکثرت سے کرے ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی محبۃ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ، فصل فی ادامۃ ذکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ، رقم ۵۰۸، ج۱، ص ۳۹۱)
حضرت ِ سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ہم مسجد نبوی شریف میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرْ، سلطانِ بَحروبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہمارے پا س تشریف لائے اور فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین پر گھوم پھر کر ذکر کی مجلسوں میں ٹھہرتے ہیں لہذا جب تم جنت کی کیا ریاں دیکھو تو ان میں سے کچھ پھول چن لیا کرو۔‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عر ض کی : ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم !جنت کی کیاریاں کیاہیں ؟‘‘فرمایا : ’’ ذکر کی مجالس ، صبح وشاماللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں مشغول رہو اور جوشخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنا مرتبہ جاننا چاہے تو وہ دیکھے کہ اسکے نزدیک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا مرتبہ کیا ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کو اسی مرتبہ میں رکھتا ہے جتنی بندے نے اللہ تعالیٰ کی یاد کو اپنے دل میں جگہ دی ۔‘‘(مجمع الزوائد ، کتاب الاذکار، باب ماجاء فی مجالس الذکر ، رقم ۱۶۷۶۸ ، ج ۱۰، ص ۷۶بتصرّف)
حضرت ِ سیِّدُنا عبداللہ بن بسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی مُکرَّم ، نورِمجسّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! اسلام کے احکام مجھ پر کثیر ہوگئے ہیں لہذا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مجھے ایسی چیز کا حکم دیجئے جسے میں خود پر لازم کر لوں۔‘‘توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’تمہاری زبان ہر وقتاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے تر رہے ۔‘‘ (سنن الترمذی ، کتاب الدعوات ، باب ماجاء فی فضل الذکر ، رقم ۳۳۸۶، ج۵ ، ص ۲۴۵بتصرّف)
ذکرودرودہرگھڑی وردِزباں رہے
میری فضول گوئی کی عادت نکال دو
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دَانائے غیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’زمین کے حصے رو ز انہ ایک دو سرے کو مخاطب کر کے کہتے ہیں ’’اے میرے پڑوسی ! کیا آج تجھ پر کسیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے والے کا گزرہوا؟ ‘‘
(المعجم الاوسط ، من اسمہ احمد، رقم ۵۶۲، ج ۱ ، ص ۱۷۱بتصرّف، دون صلّی علیک وفان قالت ۔۔۔الخ)
میر ے اسلامی بھائیو!جب فرشتے مجالس ذکر سے اُٹھتے ہیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے : ’’ اے میرے فرشتو ! تم کہا ں گئے تھے ؟‘‘ حالانکہ وہ خوب جانتاہے تو فرشتے عرض کرتے ہیں : ’’ اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ ! تو خوب جانتا ہے ، ہم تیرے ان بندوں کے پاس تھے جوتیری پاکی بیان کررہے تھے ، تیری تقدیس بیان کرتے تھے ، تیری عظمت و بزرگی بیان کررہے تھے ، تجھ سے مانگ رہے تھے ، تیری بارگاہ میں استغفار کررہے تھے اور تیری پناہ چاہتے تھے ۔‘‘تواللہ عَزَّ وَجَلَّ دریافت فرماتا ہے : ’’ اے میرے فرشتو ! وہ کیا چیز طلب کررہے تھے اور کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے ؟‘‘ تو فرشتے عرض کرتے ہیں : ’’اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ ! تو خوب جاننے والاہے ، وہ جنت طلب کررہے تھے اور جہنم سے پناہ چاہتے تھے ۔‘‘تواللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے : ’’اے فرشتو ! گواہ ہوجاؤ کہ میں نے ان کی طلب انہیں عطا فرمادی او ر جس چیز سے وہ خو فزدہ تھے اس سے انہیں اما ن عطا فرمادی اور اپنی رحمت سے انہیں جنت میں داخل فرماؤں گا۔ ‘‘(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ ، الحدیث۶۴۰۸، ج۴، ص۲۲۰بتصرّف)
تاجدارِرسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان ِعالیشان ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتاہے : ’’ اے میرے بندے ! تو ایک گھڑی صبح اور ایک گھڑی شام میرا ذکر کر، میں ان دونوں کے درمیان تجھے کفایت کروں گا۔‘‘(اتحاف السادۃ المتقین، کتاب الاذکار والدعوات، الباب الاول فی فضیلۃ الذکر وفائدتہ۔۔۔الخ، ج۵، ص۱۹۳)
بعض آسمانی کتابوں میں ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشادفرماتاہے : ’’ اے ابن آدم !تُو کتنا مجبو ر ہے !مجھ سے سوال کرتاہے تومیں منع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع