30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوٹادے ۔‘‘ تو ان کی سوئی مل گئی اور انہوں نے ہاتھ بڑھا کر پکڑلی۔
پھر جب سمندر میں طوفان آیا اورکشتی والے بے حد پریشان ہوگئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سمندر سے فرمایا : ’’ساکن ہوجا تُو تو ایک حبشی غلام کی طر ح ہے ۔‘‘ تو سمندر ٹھہر گیا یہاں تک کہ زیتون کی طر ح ہوگیا ۔
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭…
اے میرے بھائی !
تو نے اپنی زندگی کھیل کو د میں گنوادی جبکہ دوسرے لوگ مقصود کو پاگئے اور توان سے پیچھے رہ گیا، … دوسرے تو بخشش کوپاگئے جبکہ تو نفسانی خواہشات اورتنگدستی کے خوف میں مبتلا رہا، … کیا تو نے کبھی سنا ہے کہ (مرنے کے بعد)فلاں لوٹ آیا اور اس نے توبہ کر لی۔
اے وہ شخص جس کے پاس خوش بخت ہونے کا وقت موجود ہے ! تونفسانی خواہشات کے چنگل سے کب چھٹکارا پائے گا اور کب اپنے عزت والے ، خوبیوں والے مولا عَزَّ وَجَلَّ کی طرف رجوع کرے گا ؟ اے مسکین !کاش تو تو بہ کرنے والوں کے غم اوروعیدکی ہولناکی سے خوف زدہ رہنے والوں کی بے قراری کودیکھ لیتا کہ جنہوں نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کونماز‘ زکوٰۃ اور دنیا سے بے رغبتی میں رکھا، جبکہ بدبختوں نے اپنی جوانیاں غفلت میں اور بڑھاپے حرص اور لمبی امیدوں میں برباد کردیئے ، تو نے نہ تو اپنی جوانی سے نفع اٹھایا اورنہ ہی اپنے بڑھاپے میں رجوع کیا ، اے اپنی جوانی اور بڑھاپا بر باد کردینے والے ۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ(۵۱) (پ۲۲، سبا : ۵۱)
ترجمۂ کنزالایمان : او رکسی طرح تو دیکھے جب وہ گھبراہٹ میں ڈالے جائیں گے پھر بچ کر نہ نکل سکیں گے اور ایک قریب جگہ سے پکڑلئے جائیں گے ۔
عَمِلْتُ عَلٰی الْقَبَائِحِ فِیْ شَبَابِیْ فَلَمَّا شِبْتُ عُدْتُّ اِلٰی الرِّیَائِ
فَلَا حِیْنَ الشَّبَابِ حَفِظْتُ دِینِیْ وَلَا حِیْنَ الْمَشِیْبِ طَبَبْتُ دَائِیْ
فَشَابٌّ عِنْدَمَصْغَرِہِ غَوِیٌّ وَشَیْخٌ عِنْدَ مَکْبَرِہِ مُرَائِیْ
قَضَائٌ سَابِقٌ فِیْ عِلْمِ غَیْبٍ فَیَا لِلّٰہِ مِنْ سُوْئِ الْقَضَائِ
ترجمہ : (۱)میں جوانی میں گناہوں میں لگارہا ، جب بڑھاپاطاری ہواتو ریامیں پڑگیا۔
(۲)نہ تو جوانی کے عالَم میں اپنے دین کی حفا ظت کرسکا اور نہ ہی بڑھاپے میں مرضِ گناہ کا علاج کرسکا۔
(۳)میں وہ جوان ہوں جونوعمری میں گمراہ ہوگیااوروہ بوڑھاہوں جوبڑھاپے میں ریاکاربن گیا۔
(۴)پردہ غیب میں تقدیر کافیصلہ ہوچکا، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !میں بری تقدیرسے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے زمانہ ٔ خلافت میں حضرت ِ سَیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ملاقات کی تو ان سے فرمایا : ’’ اے حذیفہ ! تم نے صبح کیسے کی ؟‘‘ عر ض کی : ’’ اے امیرالمؤمنین! میں نے اس طرح صبح کی کہ فتنے سے محبت کرتا ہو ں اور حق کو ناپسند کرتا ہوں اور وہ کہتا ہوں جو پیدا نہیں ہوا اور اس بات کی گواہی دیتاہوں جسے میں نے دیکھا نہیں اور بغیر وضو کے صلوٰۃ پڑھتا ہوں اور میرے پاس زمین پرایک ایسی چیز ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس آسمانوں میں نہیں ہے ۔‘‘ تو سیدنا عمر بن خطا ب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا س بات پر شدید
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع