30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے لگا تو حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادھمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اسے ٹھوکر مارکر فرمایا : ’’ ٹھہر جا ! میں تو محض اپنے ساتھیوں کومثال دے رہا تھا۔‘‘(حلیۃ الاولیاء ، ابراہیم بن ادھم، الرقم ۱۱۱۷۹ ، ج ۸ ، ص ۴)
اسی طرح حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ایک مرتبہ سمند ر میں سفر فرمارہے تھے کہ طُوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔مگر حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم (تکئے پر)سر رکھ کر سوگئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ساتھی کہنے لگے : ’’کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کتنی شدیدآزمائش میں ہیں۔‘‘ فرمایا : ’’کیا یہ شدت ہے ؟ ‘‘ساتھیوں نے عرض کیا : ’‘’ جی ہاں !‘‘ فرمایا : ’’ یہ شدت نہیں بلکہ شدت تو لوگوں کا محتاج ہوناہے ۔‘‘ پھر عر ض کیا : ’’یا الٰہی عَزَّ وَجَلَّ ! تو نے اپنی قدرت تو ہمیں دکھادی، اب ہمیں اپنا کرم بھی دکھا دے تو سارا سمندر زیتون کے پیالے کی طر ح (ساکن)ہوگیا۔ ‘‘ (حلیۃ الاولیاء ، ، ۳۹۴ ابراہیم بن ادھم ، رقم ۱۱۱۸۵، ج ۸ ، ص ۵بتغیرما)
انہی کے بارے میں ہے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے رفقاء کے ساتھ کسی راستے سے گزررہے تھے کہ ایک شیرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ساتھیوں کے سامنے آگیا۔ انہوں نے گھبرا کر آپ سے عرض کیا توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے شیر سے مخاطب ہوکر فرمایا :
’’اے شیر ! اگر تجھے ہمارے بارے میں کوئی حکم ملاہے تو اس حکم پر عمل کر‘ ورنہ ہمارا راستہ چھوڑدے ۔‘‘ تو وہ شیر اپنی دم ہلانے لگا اور پھر وہاں سے بھاگ کھڑا ہو۔آپ کے رفقاء یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے ۔(حلیۃ الاولیاء ، ابراہیم بن ادھم ، رقم ۱۱۱۸۲، ج ۸ ، ص ۵بتصرفٍ)
چاہیں تواشاروں سے اپنے کایاہی پلٹ دیں دنیاکی
یہ شان ہے خدمت گاروں کی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کاعالم کیاہوگا
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
اے زادِ راہ کے بغیر سفر اختیار کر نے والے ! منزل بہت دور ہے جبکہ تیری آنکھ خشک اور دل لوہے سے زیادہ سخت ہے ، …جب تو ہر نئے آنے والے دن میں گناہوں کے سمندر میں غرق رہتا ہے تو مصیبت کاتجھ سے زیادہ حقدار کون ہو گا؟، … افسوس !جوانی تجھے بیدار نہ کرسکی اورنہ ہی بڑھاپا تجھے خوفزدہ کرسکا ، …حد تو یہ ہے کہ تیرے بالوں کی سفیدی بھی تجھے گناہوں سے باز نہ رکھ سکی… مجھے تیری کامیابی بہت مشکل نظر آرہی ہے ، … فکر آخرت کرنے والوں کو دیکھ کہ وہ کہاں پہنچ گئے ؟… وہ آرام دہ بستر کو لپیٹ کر گریہ و زاری اورآخرت کی تیا ری میں لگ گئے ، … ان کے رخسارو ں پر بہنے والے آنسوؤں نے نشانات ڈال دیئے ہیں …اے کم ہمت! اے دھتکارے ہوئے ! تیرا شمار محبت کرنے والوں اور عشاق میں کیوں نہیں ہوا ۔
لِاَمْرٍ مَاتَغَیَّرَتِ اللَّیَالِیْ وَاَنْتَ عَلٰی الْبَطَالَۃِ لَا تُبَالِیْ
تُبِیْتُ مُنَعَّمًا فِیْ خَفْضِ عَیْشٍ وَتُصْبِحُ فِیْ ھَوَاکَ رَخِیَّ بَالِ
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اَثْقَالَ الْخَطَایَا عَلَی کَتِفَیْکَ اَمْثَالَ الْجِبَالِ
اَ تَکْسِبُ مَا اکْتَسَبْتَ وَلَا تُبَالِیْ فَھَلْ ھُوَ مِنْ حَرَامٍ اَوْ حَلَالِ
اِذَامَا کُنْتَ فِیْ الدُّنْیَابَصِیْرًا کَفَفْتَ النَّفْسَ عَنْ طُرُ قِ الضَّلَالِ
اَلَا بِاَبِیْ خَلِیْلٍ بَاتَ یُحْیِیْ طَوِیْلَ اللَّیْلِ بِالسَّبْعِ الطِّوَالِ
بِقَلْبٍ لَا یَفِیْقُ عَنِ اضْطِرَابٍ وَجَفْنٍ لَا یَکُفُّ عَنِ انْھِمَالِ
اَرَی الْاَیَّامَ تَنْقُلُنَاوَشِیْکًا اِلٰی الْاَجْدَاثِ حَالًابَعْدَحَالِ
سَاَقْنَعُ مَاحَیِیْتُ بِشَطْرِ بُرٍّ ُشَیِّعُہُ بِریٍّ مِنْ زُلَالِ
اِذَا کَانَ المَصِیْرُ اِلٰی ھَلَاکٍ فَمَا لِیْ وَالتَّنَعُّمُ ثُمَّ مَا لِیْ ؟
اَمَّالِیْ عِبْرَۃٌ فِیْمَنْ تُفَانِیْ عَلٰی الْاَیَّامِ مِنْ عَمٍّ وَّخَالِ
کَاَنَّ بِنِسْوَتِیْ قَدْ قُمْنَ خَلْفِیْ َنَعْشِیْ فَوْقَ اَعْنَاقِ الرِّجَالِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع