30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں۔‘‘تو میں نے کہا : ’’اے ابو اسحاق! تمہیں میرے اسلام نہ لانے پر کیاتکلیف ہے تم بھی تودوزخ میں جاؤ گے ۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’شاید تمہاری مراد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس قول سے ہے :
وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ- (پ۱۶، مریم : ۷۱)
ترجمہ کنزالایمان : اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو۔
میں نے کہا : ’’ہاں۔‘‘ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مجھ سے فرمایا کہ’’ اپنے کپڑے مجھے دے دو۔‘‘ تومیں نے اپنا کپڑا دے دیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے میرے کپڑے کو اپنے کپڑے میں لپیٹ کردونوں کپڑے تنور میں ڈال دیئے ۔ پھر کچھ دیر بعد و جد میں آگئے اور بلندآواز سے روتے ہوئے تنور میں کو د پڑے ۔تنور سے آگ کے بھڑ کنے کی آوازیں آرہی تھیں۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تنور کے درمیان سے وہ کپڑے دہکتے ہوئے اٹھائے اور بھٹی کے دوسرے دروازے سے نکل آئے ان کے اس عمل نے مجھے خو فزدہ کردیاتھا۔ چنانچہ میں تعجب سے دوڑتا ہوا ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کپڑوں کی گٹھڑی صحیح سلامت اسی طر ح موجود تھی جیسے آگ میں ڈالنے سے پہلے تھی۔ جب آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے گٹھڑی کو کھولا تو میرا کپڑا مکمل طو ر پر ان کے کپڑے میں لپٹا ہونے کے باوجود جل کر کوئلہ ہوچکا تھا جب کہ ان کا کپڑا صحیح سالم تھا اور اسے آگ نے چھواتک نہ تھا پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’اس آیت سے یہی مراد ہے ۔ تو میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی یہ کرامت دیکھ کر فورا ًان کے ہاتھ پر اسلام لے آیا ۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
میرے اسلامی بھائیو!
اولیا ئے کرام کا کمال اللہ عزوجل ہی کی طرف سے ہے جس نے ان کے دلوں کو ہدایت اور حکمت کے انوار سے بھر دیااور ان کے ساکن وجود کو حرکت دی اوران کو جھکی ہوئی ٹہنی کی طر ح جھکا دیا اور ان کی ارواح کے آئینہ کو شفاف کیا اور ان کے لئے شراب ِمحبت بہائی اور احکام خداوندی سننے کے لئے ان کی سماعتوں کو خوش ذوق بنایا ۔ ان پر حمایت کی برسات کی تو انہیں بیداری نیند سے پیاری ہوگئی، ان میں سے کچھ تودیوانے اور سرشار ہیں اور ان کا ہر دن اپنے محبو ب کے ساتھ عید ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے رات بھر سونے والے کے مقابلہ میں ان کی تنہائی کی رات کو طویل کردیا لہذا یہ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں فنا ہوجانے والے نفس کا شو ق رکھتے ہیں اور محروم ہے وہ شخص جس کا دن بدبختی میں گزرتاہے اور رات نیند میں اور زندگی دنیاوی اسباب کے سلسلہ میں تگ ودو کرتی ہوئی کٹتی ہے کیونکہ اسی مصروفیت میں اصل فساد ہے ۔اس نے اپنی زندگی غفلت میں گزاری اور بڑھاپے میں گزشتہ وقت پر روتاہے جو کہ کبھی واپس پلٹنے والا نہیں ، اے گنہگار و!رو حوں کے جسم سے جدا ہونے سے پہلے ہی آخرت کی تیاری کرلو۔
حضرت ِ سیِّدُنا یوسف بن حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ میں ملک شام کی طرف سفر کررہاتھا اچانک میرے سامنے ایک رکاوٹ آگئی تو میں نے راستہ بدل لیا ۔ میں ایک صحرا میں آپہنچا تومجھے وہاں ایک گرجاگھر نظر آیا ۔میں اس کے قریب پہنچا تو میں نے ایک راہب کو اس گر جے سے اپنا سر باہر نکالتے دیکھا۔ اس نے مجھ سے کہا : ’’اے شخص ! کیاتم اپنے ساتھی کا ٹھکانا دیکھنا چاہتے ہو؟ ‘‘میں نے کہا : ’’میرا ساتھی کون ہے ؟‘‘ اس نے کہا : ’’اس وادی میں ایک شخص تمہارے دین پر ہے اور زمانے کے فتنو ں سے کنارہ کش ہوکر یہاں رہا ئش پذیر ہے ، مجھے اس کی گفتگو اچھی لگتی ہے ۔‘‘ میں نے اس سے پوچھا کہ ’’تمہیں اس سے گفتگو کرنے سے کسی نے روکا ہے حالانکہ تم اس کے قریب رہتے ہو؟‘‘ تو اس نے کہا : ’’مجھے میرے چند دوستو ں نے یہاں رو ک رکھا ہے جن سے مجھے قتل کا خوف ہے مگر جب تم ان کے پاس جاؤ تو میرا سلام کہہ دینا اور میرے لئے دعا کروانا۔‘‘
حضرت ِ سیِّدُنا حسن بن یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ میں اس بزرگ کی طر ف چل پڑا۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص ہے جس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع