دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aansoon ka darya | آنسوؤں کا دریا

book_icon
آنسوؤں کا دریا

فَاِنْ یَّکُنْ ذَا وَذَا فَالذَّنْبُ قَدْعَظُمَا                                                                                                                                            فَاَنْتَ اَعْظَمُ مِنْ ذَنْبِیْ وَمِنْ زُلَلِیْ

ترجمہ : (۱) میرے  گناہ بہت بڑے ہیں ، مگرمیری یہ امیداس سے بھی بڑھ کرہے کہ تُومیرے  گناہ اوراعمال سیاہ کے معاملے میں اپنے حسن عفوسے کام لے گا۔

            (۲) اے (اللہ عَزَّ وَجَلَّ) تیری شان ارفع واعلی ہے اور میرا گناہ اگرچہ بڑا سہی لیکن تیری بارگاہ تومیرے  گناہوں اور خطاؤں سے بہت ہی اعلیٰ اور عظیم ہے ۔

نماز کا طریقہ  :

            حضرت ِ سیِّدُنا یوسف بن عاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے سامنے حضرت ِ سیِّدُنا حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی اس بات کا تذکرہ ہو اکہ حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  لوگو ں سے زہدو اخلاص کے بارے میں گفتگوکرتے ہیں تو حضرت ِ سیِّدُنا یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ’’ ہمیں ان کے پاس لے چلوتا کہ ہم ان سے ان کی کیفیتِ نماز کے بارے میں سوال کریں اگر وہ اسے کامل طریقے سے ادا کرتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ہم انہیں زہد واخلاص کے بارے میں گفتگو کرنے سے منع کردیں گے ۔‘‘

          جب یہ لوگ حضرت حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے پاس پہنچے توحضرت یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے کہا : ’’اے حاتم ! ہم آپ سے آپ کی نماز کے بارے میں پوچھنے کے لئے آئے ہیں۔‘‘ توحاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں معا ف فرمائے کس چیز کے بارے میں پوچھنے آئے ہو، نماز کی معرفت کے بارے میں یااس کی ادائیگی کے طریقے کے بارے میں ؟‘‘ تو حضرت ِ سیِّدُنا یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اپنے ساتھیوں کی طر ف متوجہ ہوئے اور فرمایا  : ’’حاتم نے ہماری معلومات میں اتنا اضافہ کردیا کہ ہم اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔‘‘

          پھر حضرت ِ سیِّدُنا حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے کہا کہ’’ آپ ہمیں سب سے پہلے نماز کی ادائیگی کے بارے میں بتائیں۔‘‘تو حضرت ِ سیِّدُنا حاتم اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا :  ’’ حکم الہی کی بجاآوری کرتے ہوئے ثواب کی نیت کے ساتھ کھڑے ہو جاؤاور سنت طریقہ سے نماز کی ابتداء کرو اور تعظیم کے ساتھ تکبیر کہو اور ترتیل کے ساتھ قر اء ت کرو اور خشوع کے ساتھ رکوع اور خضوع کے ساتھ سجدہ ادا کرو اور سکون کے ساتھ سجدہ سے سراٹھا ؤاور اخلاص کے ساتھ تشہد پڑھو اور رحمت کے ساتھ سلام کہو ۔‘‘تو حضرت سیدنایوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے کہا : ’’یہ تو ادائیگی کا طریقہ تھا نماز کی معرفت کیاہے ؟‘‘فرمایا : ’’ جب تم نماز پڑھنے لگو تو تم جان لوکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری طر ف متو جہ ہے لہذا تم بھی اس کی طر ف متوجہ ہوجاؤ جس کی تو جہ تمہاری طر ف ہے اور دل کی گہرائی سے یہ بات جان لو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے قریب اور تم پر قادر ہے پھر جب تم رکوع کرو تو یہ امید نہ رکھو کہ سراٹھا بھی سکوگے اور جب رکوع سے سر اٹھا لوتو سجدہ کرسکنے کی امید نہ رکھو اور جب تم سجدہ کرلو تو کھڑے ہونے کی امید نہ رکھو او رجنت کو اپنی  دائیں طر ف اور جہنم کو بائیں طرف جبکہ پل صراط کو اپنے قدموں تلے سمجھو جب تم ایسا کر لو گے تو تم کامل نمازی بن جاؤ گے ۔‘‘حضرت ِ سیِّدُنا یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اپنے ساتھیوں کی طر ف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا : ’’ اٹھو ہم اپنی گزشتہ زندگی کی تمام نمازیں دہرالیں۔‘‘

{اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ }

          اے وہ شخص جس کا دل مردہ ہوچکا توبد ن کی زندگی کوکونسی شے نفع دے سکتی ہے جبکہ تُواچھائی اور برائی میں فرق نہیں کرسکتا ، …بڑھا پے نے تجھ سے جوانی چھین لی تو تیرے آنسو اور غم کہاں گئے ، … جب دل تقویٰ سے خالی ہوجائے تو رو روکر تالاب بھرنا بھی نفع نہ دے گا، …اے جدائی کے مقتول ! صلح کا یہی وقت ہے پیش قدمی کرلے شاید تیرا غم دور ہوجائے ۔

ایک یہودی کا قبولِ اسلام :

            حضرت ِ سیِّدُنا عاصم بن محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ’’میراکھاتادار ایک یہودی تھا۔ میں نے اسے مکہ مکرمہ میں گڑگڑاتے اور عاجزی کے ساتھ دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو اس کے حسن ِاسلام نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ میں نے اس سے اسلام لانے کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا کہ’’ میں ابو اِسحاق ابراہیم آجری نیشاپوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اینٹوں کی بھٹی کی آگ کو بھڑکا رہے تھے ۔ میں ان سے اپنے قرض کا تقاضا کرنے گیا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے مجھ سے فرمایا : ’’ مسلمان ہوجا اور اس آگ سے ڈرجس کا ایندھن آدمی اور پتھر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن