30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قَدْ حَرَّمُوْاالنَّوْمَ وَالْمُتَیِّمُ لاَ یَھْوِیْ ھُجُوْعاً اِذَا الْخَلِیُّ ھَجَ
بِالْبَابِ یَبْکُوْنَ وَالْبُکَاءُ اِذَا کَانَ خَلِیًّامِنَ النِّفَاقِ نَفَعْ
تَشْفَعُ فِیْھِمْ دُمُوْعُھُمْ وَاِذَا شَفَعَ دَمُعُ الْمُتَیِّمِیْنَ شَفَعْ
ترجمہ : (۱) ان میں سے کوئی تووہ ہے جس نے اپنی محبت کو چھپائے رکھا اور اپنی زبان کوشکوہ وشکایت سے روک کر خاموش رہا۔
(۲)اوران میں سے کوئی بے مروت ہے جوعاروملامت کرنے والے کی عارکے وقت کہہ دیتا ہے کہ ملامت نہ کر ۔
(۳)کیامیرا دل اس کے لئے آزمائش کی جگہ نہیں ، جوکچھ اس میں چھپاہے وہ اس سے کیسے اوجھل ہوسکتاہے کیونکہ وہ چھپی بات تومیرے دل ہی کا حصہ ہے ۔
(۴) محبت والے اوران سے محبت کرنے والاکہاں !اورجواپنی خواہشات کو بکھیرتا اورجمع کرتاہے وہ کہاں !
(۵)ان کی آنکھیں توہیں ہی رونے والی، تعجب تو اس آنکھ پر ہے کہ جب تکلیف وغم میں ہو توروتی اورآنسوبہاتی ہے ۔
(۶)انہوں نے (خودپر)نیند کو حرام کرلیا اس لئے کہ سونے والا اونگھنے والے کوجگا نہیں سکتاکیونکہ وہ خودقید ِ غم سے آزاد ہے ۔
(۷)وہ دروازے سے لگ کر روتے ہیں اور رونا جب نِفاق سے خالی ہو تو فائدہ دیتا ہے ۔
(۸)ان کے آنسو اُن کے حق میں سفارش کرتے ہیں اور جب کسی ولی اللہ کے آنسو سفارش کرتے ہیں تو سفارش قبول ہوتی ہے ۔
وہ خوفِ عتاب اور امید ِرحمت کے عالم میں کھوئے رہتے ہیں اور نا امیدی وحرص کی شراب کے نشے میں مخمور رہتے ہیں ، … ان کے قلوب کے آسمانِ اِرادت وسعادت سے چاند ظاہر ہوتا اور ر وشنی پھیلاتا ہے اوران پر اُنس کی خلعتوں کی برسات ہوتی ہے ، …ہر خلعت میں ایمان کی دوعلامتیں ہوتی ہیں ، ان دونوں سے مزیّنہونے والا بلند مرتبہ پالیتا ہے دائیں علامت کی تحریر یہ ہے :
سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ (پ ۱۷، الانبیآء : ۱۰۱)
ترجمہ کنز الایمان : جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا۔
جبکہ بائیں علامت کی تحریر یہ ہے
لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ (پ ۱۷، الانبیآء : ۱۰۳)
ترجمہ کنزالایمان : انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ ۔
پاک ہے وہ خدا عَزَّ وَجَلَّ جو گنہگار کی توبہ قبول فرماتا ہے او رجب کوئی اس کی بارگاہ میں توبہ کرے تو وہ اسے معا ف فرمادیتا ہے ۔میں گواہی دیتا ہوں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ میری یہ گواہی اس شخص کی گواہی کی طرح ہے جو اس کی وحدانیت کا اقراراور اس کی رَبُو بیت اور اُلُوہیت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے جلال وجمال کی عظمت کی وجہ سے اس کے سامنے جھک گیااور میں گواہی دیتاہوں کہ حضرت سیدنامحمدمصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اس کے بندے اور رسول ہیں جنہوں نے سنتیں جاری کیں اور فرائض بیان فرمائے اور عیدوجمعہ کو نافذ فرمایا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر اور آپ کی آل واصحاب عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک پانی کے بہنے اوررُکنے کا سلسلہ رہے ، اور سطح آسمان پرچمکتے ستارے ظاہر وطلوع ہوتے رہیں اور خوب سلام بھیجے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے :
وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) ( پ ۲۷، الذاریات : ۵۵)
ترجمہ کنزالایمان : اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائد ہ دیتاہے ۔
ذکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی فضیلت
پیارے اسلامی بھائیو!
حضورِ پاک ، صاحب ِلولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : ’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق معاملہ کرتاہوں اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تومیں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ پس اگر وہ مجھے جماعت میں یاد کرے تومیں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے دل میں یاد کرے میں بھی اس کو اکیلا یاد کرتا ہوں ، اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع