30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے یعنی کائنات کی پیدا ئش سے پہلے بھی اکیلاہی تھا اس نے کائنات میں جو چاہا وہی کیا ہر ایک خواہ وہ نیک ہو یابد ، گمراہ ہو یا ہدایت یافتہ ، اس کی بارگاہ کا محتا ج ہے ،
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
یَسْــٴَـلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ(۲۹) (پ۲۷ ، الرحمن : ۲۹)
ترجمہ کنزالایمان : اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانو ں او رزمین میں ہیں اسے ہردن ایک کام ہے ۔‘‘
وہ بڑا جو اد ہے ہر ایک کو اسی کی عطاء نے ڈھانپ رکھا ہے تو بد کار کہا ں بھاگے گا گمشدہ کی تلافی کون کرے گا ؟ قضاء کتنی بار ضامن سے جھگڑ چکی اور کتنے دھتکار ے ہوئے لوگو ں کو اس کی بارگا ہ میں حاضری کی اجازت ملی اور گنہگار لوگ ‘بندوں کی قسمت سے کس قدر غافل ہیں حالانکہ ان میں سے کچھ بدبخت ہیں اور کچھ نیک بخت ۔
اِحدٰی وَسِتُّوْنَ لَوْ مَرَّتْ عَلٰی حَجَرٍ لَکَانَ مِنْ حُکْمِھَااَن یَّخْلَُقَ الْحَجَرُ
تُؤَ مِّلُ النَّفْسُ آمَالًا لِتَبْلُغَھَا کَاَنَّھَا لَاتَرٰ ی مَا یَصْنَعُ الْقَدَرُ
ترجمہ : (۱)کسی پتھر پربھی اگر اکسٹھ سال گزرجائیں تو وہ پتھربھی بوسیدہ کہلائے گا۔
(۲)اپنی امیدوں تک پہنچنے کے لئے نفس بڑی آرزوئیں کررہاہے حالانکہ نہیں جانتا کہ تقدیر کیاکرنے والی ہے ۔
حضرت ِ سیِّدُنا ابو اسحاق جیلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ’’ میں حضرت ِ سیِّدُنا علی بن عبد الحمیدغضا ئری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں سب سے زیادہ عبادت گزار اور کثرت سے مجاہد ہ کرنے والا پایا۔ وہ دن رات نماز ادا کرتے رہتے تھے لہذا میں ان کے نما ز سے فا رغ ہونے کا انتظار کرنے لگا مگر میری ان سے ملاقات نہ ہو سکی تو میں نے ان سے کہا کہ’’ ہم اپنے ماں با پ ، بیوی بچوں اور اپنے شہر کو چھوڑ کر آپ کے پاس آئے ہیں لہذا آپ تھوڑی دیر کے لئے نماز سے فارغ ہوکر ہمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عطا کردہ علم سکھا ئیں۔‘‘تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’ مجھے ایک صالح بزرگ حضرت ِ سیِّدُنا سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی دعا ہے ، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوااور دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ کھولنے سے پہلے میں نے انہیں یہ مناجات کرتے ہوئے سنا کہ’’ یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ ! جو شخص مجھے تیری بارگاہ میں مناجات کرنے سے غافل کرنے کے لئے میرے پاس آیا ہے تو اسے اپنی محبت میں مشغول کر کے مجھ سے غافل کردے ۔‘‘ تو جب میں حضرت ِ سیِّدُنا سر ی سقطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بارگاہ سے واپس لوٹا تو نماز اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں مشغول رہنا میرا محبو ب مشغلہ بن گیااس لئے میں اس نیک بزرگ کی دعا کی برکت سے ان کا مو ں کے علاوہ کسی چیز کے لئے فا رغ نہیں ہوتا ۔‘‘
حضرت ِ سیِّدُنا ابو اسحاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’میں نے ان کی باتو ں میں غو ر کیا تو مجھے ان کی باتیں غمزدہ دل اور عا جز کرنے والی بیقراری سے نکلتی ہوئی نظر آئیں اور وہ مسلسل آنسو بہار ہے تھے ۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی حکمت سے ارواح کی لطا فت اور اجسا م کی کثافت کوجمع فرمایا، دن اور رات کو زمانے کے لیے بازوبنایا جو بغیر بالوں اور پروں کے فناء کے لئے اڑرہے ہیں اورمحبین کی ارواح کوجامِ محبت پلایا، تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لئے اس کی خوبی ہے جس نے اسے ہر راحت سے شیریں بنایا ، انس ومحبت کی مجلس میں ان کے لئے عبادت کاسرور پیدا کیا۔لہذا انہوں نے پیالوں کے بجائے اسے مٹکوں سے پیا، تا ریکی کے گلستا ن کوتہجد کے پھولوں اور کلیوں سے سنوارا اور ہر صبح کی ابتداء اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے کی ، لہذا وہ صبح وشام کے شربت اور پاکیزہ خوشبووالے جام نوش کرتے ہیں ، آزمائش کے قالب میں ا ن کے دل صبر کی زبان سے کہتے ہیں : ’’ اُس (کی محبت) کے سواکوئی چارہ نہیں۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں اپنی رضا کی خلعت سے سر فرار فرمایا اور انہیں شو ق وفرحت کی مجلس میں بٹھا یا ، انہوں نے کائنات پر نظر کی تو انہیں اس کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا، ان کی محبت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع