30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَیَانَفْسُ تُوْ بِیْ قَبْلَ اَنْ یَنْکَشِفَ الْغَطَا وَاُدْعٰی اِلٰی یَوْمِ النُّشُوْرِ وَاُجْزَعُ
فَلِلّٰہِ عَبْدٌ خَائِفٌ مِّنْ ذُنُوْبِہِ تَکَادُ جُشَاہُ مِنْ اَسًی تَتَقَطَّعُ
اِذَا جَنَّہُ اللَّیلُ الْبَھِیْمُ رَاَیْتَہُ وَقَدْ قَامَ فِیْ مِحْرَابِہِ یَتَضَرَّعُ
یُنَادِیْ بِذُلٍّ یَااِلٰھِیْ وَسَیِّدِیْ وَمَنْ یَّھْرُبُ الْعَا صِیْ اِلَیْہِ وَیَفْزَعُ
قَصَدْ تُّکَ یَاسُؤْلِیْ وَمَالِیْ مُشَفَّعٌ سِوٰی حُسْنِ ظَنِّیْ حِیْنَ اَرْجُوْ وَاَطْمَعُ
فَجُدْ لِیْ بِعَفْوٍ وَامْحُ ذَنْبِیْ وَنَجِّنِیْ مِنَ النَّارِ یَامَوْلٰی یَضُرُّ وَیَنْفَعُ
بِھٰذَا یُنَالُ الْمُلْکُ وَالْفَوْزُ فِیْ غَدٍ وَیُجْزٰی نَعِیْمًا دَائِمًالَیْسَ یُقْطَعُ
ترجمہ : (۱)اے نفس ! توبہ کرلے قبل اس کے کہ رازفاش ہوجائے اورمحشرکے دن بلاکر گھبراہٹ میں ڈال دیاجائے ۔
(۲)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاوہ بندہ جواپنے گناہوں پرشرمندہ وخائف ہے قریب ہے کہ غم سے اس کاکلیجہ پھٹ جائے ۔
(۳)جب اسے اندھیری رات چھپالیتی ہے تو تُو اسے دیکھے گاکہ وہ اپنی عبادت گاہ میں کھڑا گڑگڑ ارہا ہوگا۔
(۴)عاجزی سے عرض کرتاہوگا : ’’ اے میرے خدا، میرے مالک! یہ گنہگار کس کی بارگاہ میں جائے اورکس سے فریاد کرے ؟
(۵)اے میرے مطلوب !توہی میرامقصودہے اورجس وقت میں امید و طمع کرتا ہوں تو سوائے حسنِ ظن کے اپنی شفاعت کے لئے کوئی دوسراعمل نہیں پاتا۔
(۶)اے مولی !توہی نفع ونقصان کا مالک ہے ، عَفْوکر اورمیرے گناہوں کو مٹادے ، اور مجھے آگ (دوزخ)سے بچالے ۔
(۷) اسی رحمت کے سبب ہمیشہ کی بادشاہی اورقیامت میں کامیابی مل سکتی ہے اورکبھی ختم نہ ہونے والی دائمی نعمتیں دی جائیں گی۔
علامہ فضل جوہری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ احرام باندھ کر حرم مکہ میں خانہ کعبہ کی طر ف رُخ کر کے کھڑے ہوئے اور با آواز بلند کہنے لگے : ’’اے مرا قبے اور معرفت کی موت سے مرنے والو ! اے اُنس ومحبت کی تلواروں سے شہید ہونے والو! اے خوف واشتیاق کی آگ میں جلنے والو! اے مشاہد ے اور ملاقات کے سمندر میں غرق رہنے والو !یہ محبوب کا دیار ہے ، محبت کرنے والے کہا ں ہیں ؟ یہاں قربت کے اسرار ہیں ، مگر اس کے مشتاق کہاں ہیں ؟ یہ دیار محبت او راس کی بہار کے نشان ہیں ، اس کا قصد کرنے والے کہاں ہیں ؟یہ التجاء کی گھڑی اور آنسو بہانے کا وقت ہے ، مگر رو نے والے کہا ں ہیں ؟ ‘‘پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک چیخ مار کر بے ہوش ہوگئے پھر جب کچھ دیر بعد افا قہ ہوا تو کہنے لگے :
مُذْ تَبَدّٰی لِنَاظِرِیْ بَلْبَلَ الشَّوْقُ خَاطِرِ یْ
حَاضِرٌ غَیْرُ غَائِبٍ سَاکِنٌ فِیْ الضَّمَائِرِ
ھُوَ کَنْزِ یْ الَّذِیْ بَدَا فِیْ الرُّ سُوْمِ الدَّوَائِرِ
ترجمہ : (۱)جب (خانہ کعبہ )میر ی نظروں کے سامنے آگیاتومیرے دل میں شوق بھڑک اٹھا۔
(۲)وہ (شوق)موجودہے ، پوشیدہ نہیں ہے (کیونکہ)وہ تودلوں میں بساہواہے ۔
(۳)یہ میراوہ خزانہ ہے جوتیزی سے آنے والی گردشوں میں (مجھ پر)ظاہرہوا۔
راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان کے قریب آکر عرض کیا کہ’’ حضور ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے والوں کی علامات کیا ہیں ؟ ‘‘فرمایا : ’’ محبین کو رات کی تاریکی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں خاص نشاط حاصل ہوتا ہے ، ان کے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان ایک خوشی ہوتی ہے ، اپنے معبود کا اُنس انہیں آرام کی لذت سے دور کردیتا ہے اور رب عَزَّ وَجَلَّ کی محبت انہیں پوری کائنات سے جُداکردیتی ہے ، وہ رب عَزَّ وَجَلَّ سے منا جا ت کرنے پر نیند کو تر جیح نہیں دیتے اور نہ ہی اس کے کلام پر کسی کے کلا م کو اہمیت دیتے ہیں ، جو اس کی معرفت رکھتا ہے وہی اسے پہچان سکتا ہے ، جو اس کی لذت پاتا ہے وہی اس کی لذت پاسکتا ہے اور اس کا دوست وہی بنتا ہے جو اس سے راضی رہتا ہے ۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
پاک ہے وہ ذات جس نے مخلوقات پر فنا ہونا لازم کردیا ہے لہذا اس کے نزدیک با دشاہ اور غلام دو نو ں بر ابر ہیں۔وہ باقی رہنے والا اور قدیم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع