30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور عصر کی نماز ادا کرنے تک رکوع وسجود کرتا رہا۔ پھر محراب کی جانب ایک پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور مجھ سے کوئی بات نہ کی تو میں نے کلام کی ابتدا ء کرتے ہوئے کہا کہ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ا ٓپ پر رحم فرمائے مجھے کوئی نصیحت فرمائیے جس سے میں نفع اٹھاسکوں اور میرے لئے دعا کیجئے ۔‘‘ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ’’ اے بیٹا! اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے اپنے قرب سے سر فراز فرماتاہے اسے چار خصلتیں عطا فرماتاہے (۱)خاندا ن کے بغیر عزت عطا فرماتاہے ، (۲) بغیر سیکھے علم عطا فرماتا ہے ، (۳)مالداری کے بغیر غناء عطا فرماتاہے ، (۴) اور ساتھیوں کے بغیر اُنس عطا فرماتاہے ۔ ‘‘پھر انہوں نے ایک زوردار چیخ ماری اورتین دن تک بے ہوش رہے ۔ میں سمجھا کہ ان کا انتقال ہوچکاہے پھر جب انہیں افا قہ ہوا تو کھڑے ہو کرقریب ہی ایک چشمے سے وضو کیا اور اپنی فو ت شدہ نمازوں کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں نمازوں کی تعداد بتائی تو انہوں نے وہ نماز یں قضا کیں پھر مجھ سے فرمایا :
اِنَّ ذِکْرَالْحَبِیْبِ ھَیَّجَ قَلْبِیْ ثُمَّ حُبُّ الْحَبِیْبِ اَذْھَلَ عَقْلِیْ
ترجمہ : محبوب کی یادنے میرے دل کوبے قرار کردیا پھر( اس)محبوب کی محبت نے میری عقل کو زائل کردیا۔‘‘
پھر فرمانے لگے : ’’مخلوق کی ملاقات سے مجھے وحشت ہوتی ہے او رمیں ربُّ العالمین عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے اُنس رکھتا ہو ں ، اب تم سلام کر کے مجھ سے رخصت ہوجاؤ۔ ‘‘میں نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے میں مزید نصیحت کی امید پر تین دن تک آپ کے پاس ٹھہرا رہا۔‘‘ توانہوں نے ارشاد فرمایاکہ’’ اپنے مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ کسی سے محبت نہ کرو او راپنی محبت کا بدلا نہ مانگو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے والے عا بدو ں کے سر تاج اور زاہدوں کے لئے نشانِ منزل ہیں اور یہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بر گزید ہ اور مقر ب بندے ہیں۔‘‘ اس کے بعد وہ ایک چیخ مار کر گر پڑے میں نے انہیں ہلاکر دیکھا تو ان کا انتقال ہوچکا تھا تھوڑی ہی دیر بعد پہاڑ سے عا بد ین کی ایک جماعت اتری، انہیں غسل دیا، اور کفن پہنا کر جنازہ ادا کرنے کے بعدانہیں دفن کردیا ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ’’ اس بزرگ کا نام کیا ہے ؟‘‘ تو انہوں نے بتا یا کہ’’ ان کانام حضرتِ شیبان المصاب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہے ۔‘‘
حضرت ِ سیِّدُنا سالم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اہل شام سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتا یا کہ’’ ہاں وہ ایک دیوانہ تھا جو بچو ں کی ایذاء کی وجہ سے چلاگیا ۔‘‘ میں نے پوچھا : ’’کیا تمہیں ان کی کوئی بات یا د ہے ؟‘‘ توانہوں نے کہا : ’’ہاں ! جب وہ بے قراروبے چین ہوتے توکہتے کہ’’ اگر میں تیری خاطر دیوانہ نہ بنوں تو کس کی خاطر بنوں۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
میرے اسلامی بھائی!
وہ لوگ کتنے خوش قسمت ہیں جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے قرب کی نعمت عطا فرمائی ہے ۔ ان کی خوبی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں وسا وس کے خطرات سے محفو ظ فرما دیا اور ان کے دلوں کی سرحدوں کو اپنی حمایت کے محافظوں کے ذریعے نفسانی خواہشات کے غبار سے محفو ظ رکھا۔ انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کو قبول کیا اور اسے سر آنکھوں پر رکھ کر اس کی بجاآوری کے لئے کھڑے ہوگئے اورقبر کی تاریکی اور سفر آخرت کے لئے اعمال کا تو شہ تیار کیا ۔
اے بیکار شخص !کیا تا ریک میدا ن میں غافل رہنے والوں کواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں مل سکتی ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے نیک بندوں کو اپنی رضا کی خلعت عطا فرمائی اور ان سے فرمایا : ’’با سلیقہ دو ستو ں کو خوش آمدید۔‘‘
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (پ ۴، آل عمران : ۱۱۰)
ترجمہ کنزالایمان : تم بہتر ہوان سب امتوں میں جو لوگو ں میں ظاہر ہوئیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع