30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے ایک غار کی طرف میری رہنمائی فرمائی۔ میں نے وہا ں ایک بزرگ کو دیکھا جن کے پُرسکون چہرے سے نور کی کرنیں پھوٹ رہیں تھی ۔میں نے انہیں سلام کیا تو انہو ں نے بہترین انداز سے سلام کا جواب دیا۔ میں ان کے قریب بیٹھا ہوا تھا کہ موسلادھار بارش شروع ہوگئی ۔ مجھے ان کی اجازت کے بغیر غا ر میں پناہ لینے میں جھجک محسو س ہوئی تو انہوں نے ازخودمجھے بلاکر پنا ہ دی اور اپنے قریب پڑے ہوئے ایک پتھر پر بٹھا دیا۔
انہوں نے اسی طرح کے ایک (بڑے )پتھرپر نماز ادا کی ۔ بارش اور جگہ کی تنگی کی وجہ سے میرا دم گھٹنے لگا۔فرمانے لگے : ’’ عبادت گزارو ں کی شرائط میں سے ہے کہ وہ عاجزی اور تا بعداری اختیار کریں۔‘‘ میں نے پوچھا کہ’’ محبت کی علامت کیاہے ؟‘ فرمایا کہ’’ جب دل سانپ کی طر ح بل کھائے اور شو ق کی آگ میں جل اٹھے تو سمجھ لوکہ یہ محبت سے معمور ہے ۔جدائی کے علاوہ محبت کرنے والے کوجس بھی مصیبت کا سامنا ہوتاہے وہ اس کے لئے نعمت ہوتی ہے ۔ہرچیزکاکچھ نہ کچھ عوض ہے مگرمحبوب کا کوئی عوض نہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت ِ سیِّدُنا آدم صفی اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے پریشانی کا سامنا کیا مگر چونکہ ان کے ساتھ جدائی نہ تھی اس لئے یہ پریشانیاں ان کے لئے نعمت اور تحفہ بن گئیں۔‘‘ پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے :
جَسَدٌ نَاحِلٌ وَدَمْعٌ یَّفِیْضُ وَھَوًی قَاتِلٌ وَّقَلْبٌ مَّرِیْضُ
وَسِقَامٌ عَلٰی التَّنَائِیْ شَدِیْدٌ وَھُمُوْمٌ وَّحُرْقَۃٌ وَّمَضِیْضُ
یَاحَبِیْبَ الْقُلُوْبِ قَلْبِیْ مَرِیْضٌ وَالْھَوٰی قَاتِلِیْ وَدَمْعِیْ یَفِیْضُ
اِنْ یَّکُنْ عَاشِقٌ طَوِیْلٌ بَلَاہُ فَبَلَائِیْ بِکَ الطَّوِیْلُ الْعَرِیْضُ
ترجمہ : (۱) جسم لاغرہے اور آنسو بہہ رہے ہیں ، نفسانی خواہشات قاتل ہیں اور دل مریض ہے ۔
(۲)دُوری کا مرض بہت شدیدہے ، فکراور سو زِجگرکاشکارہوں اور مصیبت سے دوچار ہوں۔
(۳)اے دلوں کے محبوب !میرا دل بیمارہے ، خواہشِ نفس مجھے گھائل کررہی ہے اور میرے آنسو بہہ رہے ہیں۔
(۴)اگر عاشق کی آزمائش طویل ہوتی ہے ، توتیری طرف میری آزمائش بھی بڑی طویل و عریض ہے ۔
حضرت ِ سیِّدُنا عبدالاعلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں : ’’پھر انہوں نے ایک زور دار چیخ ماری اور زمین پر تشریف لے آئے ، دیکھتے ہی دیکھتے ان کی رو ح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ میں جب ان کے کفن و دفن کا انتظام کرنے کے لئے باہر نکلا
تو مجھے کوئی دکھائی نہ دیا۔میں غار میں واپس آگیا(تو ان کو وہاں نہ پایا) ، میں نے انہیں بہت تلاشامگر وہ مجھے کہیں نظر نہ آئے ۔ میں حیرت کے عالم میں ان کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ ہاتف غیب سے ایک آواز آئی،
رُفِعَ الْمُحِبُّ اِلٰی الْمَحْبُوْبِ وَفَازَ بِالْبُغْیَۃِ وَالْمَطْلُوْبِ
ترجمہ : (۱)محب کو محبوب کی طرف اٹھالیا گیا اوروہ اپنے مقصودو مطلوب میں کامیاب ہوگیا۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
محبتِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ کی بُنیاد
اے میرے بھائی !
آخرت کو دنیا کے بدلے بیچنے والا خسارے میں ہے ، جس شخص کو تونے چھوڑجانا ہے اس کی محبت سے بچ کررہنا کہ کہیں تُو اس سے بچھڑنے پر پریشان نہ ہوجائے ، …تقویٰ سے دو ستی ہی سچی رفاقت ہے ، …گناہوں سے دوستی رکھنے والا دھوکے میں ہے ، آخرت کاعوض بہت تھوڑا ہے اور وہ پُراِخلاص دل اور ذکر میں مشغول رہنے والی زبان ہے ، … اگر تُو بوڑھا ہونے کے باوجودغفلت کی نیند سے بیدا ر نہ ہو ا تو اتنا سوچ لینا کہ تُو دنیا سے رخصت ہونے والا ہے ، …تُو نے رونے والی زبان اور رات بھر جاگنے والی آنکھیں چھوڑ یں اورتہجد گزار لوگو ں کی طر ح عبادت کرنا بھی چھوڑ دیا، … حالانکہ یہ تہجد گزارلوگ ‘گریہ کرنے والی زبانیں اور شب بیداری کرنے والی آنکھیں بارگاہ ِالٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں نذر کرچکے ، …ان کے پہلو فقر وفاقہ اور آہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع