30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ : (۱)اے بوڑھے شخص! کیابڑھاپا آنے کے باوجود بھی تُو جہالت میں مبتلاہے ؟ ، اب (اس عمر) میں تمہاری طرف سے جہالت کامظاہرہ اچھانہیں۔
(۲)تیرافیصلہ توسر کی سفیدی نے کردیامگرپھربھی تودنیاکی طرف مائل ہوتاہے اور ناپائیدار (دنیا) تجھے دھوکہ دے رہی ہے ۔
(۳)ناپائیداردنیااور(اس پر) افسوس کرناچھوڑ دے ، کہ ایک دن تُوبھی مرنے والا ہے ، اور ایسے پختہ ارادہ کے ساتھ آگے بڑھ جس میں کسی بیہودہ پن کی آمیز ش نہ ہو۔
(۴)میں اس وقت کو روتا رہوں گا جس نے مجھے اس (محبوب)کے فراق میں مبتلا کردیا ، حالانکہ اس کی یادسے دوری میرے دل کامشغلہ نہیں۔
(۵)میں حیرت میں ہوں اپنے دل اورعبادت سے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے حالانکہ آج سے پہلے توان دونوں (یعنی عبادت ودل)میں بڑا قرب تھا۔
(۶)میں نے خود کوعبادت سے روک کرہلاکت اختیارکی ہے اور اپنی پیٹھ کوبھاری گناہوں سے بو جھل کرلیا ہے ۔
(۷)اورنافرمانی کرکے گویا میں نے اپنے ربِّ مُھَیْمِنعَزَّ وَجَلَّ کوچیلنج کردیا جبکہ وہ انعام واحسان اور جو دو فضل والاہے ۔
(۸)میں اس کی پکڑسے ڈرنے کے ساتھ ساتھ اس کے عفوودرگزرکی امید بھی رکھتا ہوں اور میں اس بات کاپختہ یقین رکھتاہوں کہ وہ ہی انصاف فرمانے والاحاکمِ مطلق ہے ۔
حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں کہ’’ اے ابن آدم ! تیرا اعمال نامہ لکھا جارہا ہے اورتجھ پر دو محترم فرشتے نگہبان ہیں ، ان میں سے ایک تیرے دائیں اور دوسرا بائیں کندھے پر موکل ہے ، دائیں طر ف والا تیری نیکیاں اور بائیں طرف والا فر شتہ برائیاں لکھتا ہے ۔اب تُو جو چاہے عمل کر، تھوڑا کر یا زیادہ، جب تُودنیا سے رخصت ہوگا تو تیرا اعمال نامہ لپیٹ دیاجائے گا ، پھر جب قیامت کا دن آئے گا تو تجھے قبر سے نکال کر کہا جائے گا :
اِقْرَاْ كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ(۱۴) (پ ۱۵، بنی اسرائیل : ۱۴)
ترجمہ کنزالایمان : فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ (اعمال)پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے ۔
میرے پیارے اسلامی بھائی !
اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! جس نے تجھے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے والا بنایا ہے ، اس نے پورا عدل کیا ہے ، اے ابنِ آدم ! یاد رکھ کہ تو اکیلا ہی مرے گا اور اکیلا ہی اپنی قبر میں داخل ہوگا اور اکیلا ہی قبر سے نکلے گا اور تجھے اکیلے ہی (اپنے کئے کا)حساب دینا ہوگا، اے ابن آدم ! اگر تمام لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کرنے لگیں مگر تُواس کی نافرمانی کرے توان کی اطاعت تجھے کوئی نفع نہ دے گی۔
حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادھم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ایک شخص سے ملے تو اس نے آپ سے پوچھا کہ’’ اے ابو اسحق ! آپ کا کیا حال ہے ؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب میں یہ اشعار پڑھے :
نُرَقِّعُ دُنیَانَا بِتَمْزِیْقِ دِیْنِنَا فَلَادِیْنُنَا یَبْقٰی وَلَا مَا نُرَقِّعُ
فَطُوْبٰی لِعَبْدٍ آثَرَ اللہَ رَبَّہُ وَجَادَ بِدُنْیَاہُ لِمَایَتَوَقَّعُ
ترجمہ : (۱) اپنے دین کونقصان پہنچاکر ہم اپنی دنیاسنوارتے رہتے ہیں ، یوں نہ تو ہمارا دین باقی رہتا ہے اور نہ ہی دنیاسنورتی ہے ۔
(۲)خوشخبری ہے اس بندے کے لئے جس نے اللہ رب العزت عَزَّ وَجَلَّ (کی عبادت)کو ترجیح دی اوراپنی دنیا کے ذریعے آخرت کوسنوارا۔(حلیۃ الاولیاء ، ابراھیم بن ادھم، الرقم ۱۱۱۹۸، ج۸، ص۱۰)
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
حضرت ِ سیِّدُنا عون بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے کہ’’ افسو س ! میں کتنی غفلت کرتاہوں ؟ حالانکہ مجھ سے حساب وکتاب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع