30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو گونگی ہے (کہ جواب نہیں دے رہی)یا بہری کہ سنتی نہیں ؟‘‘ تو اس نے جواب دیا : ’’اے صحابی ٔ رسول ! میں نہ توگونگی ہوں اورنہ ہی بہری مگر نئی نویلی دلہنیں بولنے سے حیاکرتی ہیں۔‘‘ جب میں اندر داخل ہو اتو دیکھا کہ گھر میں پردے لگے ہوئے ہیں ، قیمتی سامان سجا ہوا ہے اورریشمی کپڑے موجود ہیں۔ یہ دیکھ کر میں نے کہا : ’’اے فلانی! کیا تیرے گھر کو بخار ہوگیا ہے تو نے اسے اتنے کپڑے اوڑھارکھے ہیں یا پھرخانہ کعبہ کندہ قبیلے میں آگیا ہے ؟ ‘‘تو اس نے جواب دیا : ’’ ایسی بات نہیں بلکہ دلہنیں اپنے گھر کو سجایاکرتی ہیں۔‘‘
پھرمیں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو خادم کھانا لئے سامنے کھڑے تھے ۔ میں نے کہا کہ’’ میں نے حضورِپاک ، صاحبِ لولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو فرماتے ہوئے سنا کہ’’ جونرم وملائم بستر پرسوئے اور لباسِ شہرت پہنے اور عالیشان سواری پر سوار ہو اور من پسند کھانے کھائے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا ۔‘‘ میر ی زوجہ کہنے لگی’’اے صحابی ٔرسول! میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو گواہ بناتی ہوں کہ ’’اس گھر میں جوکچھ ہے سب راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں صدقہ ہے اور میرے تمام غلام راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں آزاد ہیں ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمجھے تھوڑی سی گندم لادیجئے ، میں گھر کے کام کاج بھی خود ہی کرلیا کرو ں گی ۔‘‘میں نے اس سے کہا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے اور تیری مددکرے ۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
غفلت اور خواہشاتِ نفس کا علا ج
اے اپنے اصل ٹھکانے سے بے خبر شخص! اے گناہوں میں منہمک ہوکر دنیا ہی کواپنا اصل ٹھکانا سمجھ لینے والے ! باہمت لوگ تجھ سے آگے نکل گئے اور تُو بحرِ غفلت میں غوطہ زن ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں سوغاتِ ندامت لیکر حاضر ہوجا اور سر کو جُھکا کر اپنی سرکشی کا اقرار کر اور سحری کے وقت یوں مناجات کر کہ’’ یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ ! میں گنہگار، رحم کا طلبگار ہوں۔‘‘اور نیک لوگوں سے مشابہت اختیار کر اگر چہ تُونیک نہیں مگر نیکوں کی مشابہت کرتے ہوئے ان جیسا بن جا، اپنے گناہوں پر اشکوں کی برسات کر ، رات میں عبادت کے لئے کھڑا ہوجااور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کر۔ اپنی زندگی میں سے کچھ وقت آخرت کے لئے نکال ، دنیا کے کھیل تماشے چھوڑ دے اور اگر تُو آخرت کاطلبگار ہے تو دنیا کو طلاق دیدے ، اے لمبی نیند سو نے والے ! قافلہ ، روانہ ہوگیا ساری قوم محو ِسفر ہے جبکہ تو ابھی تک نیند سے بیدا ر نہیں ہوا ۔
حضرت ِ سیِّدُنا ایاس بن قتا دہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پنی قوم کے سردار تھے ۔ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی داڑھی میں ایک سفید بال دیکھا تو دعا کی : ’’ یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں اچانک ہونے والے حادثات سے تیری پنا ہ چاہتا ہوں ، مجھے معلوم ہے کہ موت میری تاک میں ہے اور میں اس سے بچ نہیں سکتا۔‘‘ پھر وہ اپنی قوم کے پاس تشریف لے گئے اورفرمانے لگے : ’’ اے بنو سعد ! میں نے اپنی جوانی تم پر وقف کر دی تھی اب تم میرا بڑھاپا مجھے بخش دو ۔‘‘پھرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پنے گھر تشریف لائے اورگوشہ نشین ہوگئے یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا۔
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
اَمِنْ بَعْدِ شَیْبٍ اَیُّھَا الرَّجُلُ الْکَھْلُ جَھِلْتَ وَمِنْکَ الْیَوْمَ لَایَحْسُنُ الْجَھْلُ
تَحَکَّمَ شَیْبُ الرَّاْسِ فِیْکَ وَاِنَّمَا تَمِیْلُ اِلَی الدُّنْیَاوَیَخْدَعُکَ الْمَطْلُ
دَعِ الْمَطْلَ وَالتَّسْوِیْفَ اِنَّکَ مَیِّتٌ وَبَادِرْ بِجِدٍّلَایُخَالِطُہُ ھَزْلُ
سَاَبْکِیْ زَمَانًا ھَدَّنِیْ بِفَرَاقِہِ فَلَیْسَ لِقَلْبِیْ عَنْ تَذَکُّرِہِ شُغْلُ
عَجِبْتُ لِقَلْبِیْ وَالْکَرَی اِذْ تَھَاجَرَا وَقَدْکَانَ قَبْلَ الْیَوْمِ بَیْنَھُمَا وَصْلُ
اَخَذْتُ لِنَفْسِیْ حَتْفَ نَفْسِیْ بِکَفِّھَا وَأَثْقَلْتُ ظَھْرِیْ مِنْ ذُنُوْبٍ لَھَاثِقْلُ
وَبَارَزْتُ بِالْعِصْیَانِ رَبًّا مُھَیْمِنًا لَہُ الْمَنُّ وَالْاِحْسَانُ وَالْجُوْدُ وَالْفَضْلُ
اَخَافُ وَاَرْجُوْ عَفْوَہُ وَعِقَابَہُ وَاَعْلَمُ حَقًّا اَنَّہُ حَکَمٌ عَدْلُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع