30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاتھ بڑھا کر دروازے کا پر دہ اُتارا اور اس سے اپنی سترپوشی کی اور اپنا قیمتی لباس اتار ڈالا ۔جب کنیز نے یہ سارا معاملہ دیکھا تو کہنے لگی : ’’ میرے آقا ! تیرے بعد میری کوئی زندگی نہیں۔‘‘اور شان وشوکت ترک کر کے اپنے آقا کے ساتھ ہی جانے کی درخواست گزار ہوئی ۔حضرت ِ سیِّدُنا مالک بن دینا ر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے انہیں الوداع کیا اور ان کے لئے دعا فرمائی ۔ وہ اپنے راستے پر چل دیئے اور حضرت ِ سیِّدُنا مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی راہ پکڑی ۔پھر یہ دونوں مرتے دم تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں مشغول رہے ۔
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
لذتوں کا خاتمہ اور گناہ کا باقی رہ جانا
اے راستے سے اَنجان اور زادِ سفر سے محروم شخص ! تجھے سفر کی تیاری کرنے کے لئے مُنادِی کب جگائے گا ؟اور کب تُومال اور اولادسے کنارہ کشی کر کے خواب ِغفلت سے بیدار ہوگا ؟…یا در کھ !گزری ہوئی جوانی لوٹ کر نہیں آتی، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے تُوسواری اور زادِراہ کے بغیر سفرِ آخرت کیسے طے کرے گا ؟… دمِ رخصت تجھے شرمندگی ہوگی ، …جب تُومرض الموت میں مبتلا ہوجائے گا توتجھے اپنے جمع کردہ مال میں تصرُّف سے روک دیاجائے گا ، … نزع کے وقت عیادت کرنے والوں کو تیرے پاس آنے سے روک دیاجائے گا ، …پھر (روح نکلنے کے بعد تجھے غسل دے کراور) کفن پہنا کر اُس تنگ وتاریک قبر میں دفنا دیا جائے گا جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا…تیری صبح حسرتوں میں گزرے گی اور شام کوتجھے میدان ِ محشر کی طرف ہانکاجائے گا، … اس کے بعد ہولناکیاں ہی ہولنا کیاں ہوں گی ، اگر تُو عقل رکھتاہے تو سمجھ لے کہ تیاریٔ آخرت کے لئے تجھے دوبارہ دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا، … نیکیوں کے توشے کو غنیمت جان کیونکہ گناہوں کے انباررُسوائی کے سبب ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ(۲۰) وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ(۲۱) ( پ ۲۹، القیامۃ : ۲۰۔۲۱)
ترجمہ کنزالایمان : کوئی نہیں بلکہ اے کافرو! تم پاؤں تلے کی(دنیوی فائدے کو)عزیز دوست رکھتے ہو اور آخر ت کو چھوڑ بیٹھے ہو۔
اِحْذَرْ دُنْیَاکَ وَغِرَّتَھَا وَاحْذَرْ اَنْ تُبْدِلَھَاطَلَبًا
تَبْغِیْ وُدًّامِّمَّنْ قِدَمًا لَکَ قَدْ قَتَلَتْ اُمًّاوَاَبًا
وَعَلٰی الْجِیْرَانِ فَقَدْ جَارَتْ کُلًّا قَھَرَتْ اَوْلَتْ عَطَبًا
کَمْ مِنْ مَلِکٍ ذِیْ مَمْلَکَۃٍ قَدْ مَالَ لَھَا سُکْرًا وَّصَبًا
اَضْحٰی فِیْ اللَّحْدِ وَمَقْعَدُہُ بِتُرَابِ اللَّحْدِ قَدِ احْتَجَبَا
اُطْلُبْ مَوْلَاکَ وَدَعْ دُنْیَاکَ فَفِیْ اُخْرَاکَ تَرَی عَجَبًا
کَمْ مِن قَصْرٍ قَدْ شِیْدَ بِنَا بِالْمَوْتِ وَھَا اَضْحٰی خَرِبًا
یَاطَا لِبَھَا، لَا تَلْہُ بِھَا کَمْ تَاہَ بِھَا مَلِکٌ غُصِبَا
اَینَ الْمَاضُوْنَ ؟ لَقَدْ سَکَنُوْا لَحَدًا فَرِدًا خَرِبًا تَرِبًا
کَانُوْاوَمَضَوْا ثُمَّ انْقَرَضُوْا فَتَاَدَّبْ اَنْتَ بِھِم اَدَبًا
فَالْعُمْرُ مَضٰی وَالشَّیْبُ اَتٰی وَالْمَوْتُ لِحِیْنِکَ قَدْقَرُبَا
فَاَعِدَّ الزَّادَ فَمَا سَفَرٌ عُمْرُ الْاَیَّامِ قَدِ انْتَھَا
بَادِرْ بِالتَّوْبِ وَکُنْ فَطِنًا لَاتَلْقَ بِجَرْیَتِکَ النَّصَبَا
فَلَعَلَّ اللہَ بِرَحْمَتِہِ یُلْقٰی بِالْعَفْوِ لَنَا سَبَبًا
ترجمہ : (۱)دنیا اور اس کی غفلت و دھوکے سے بچ بلکہ اس کی چاہت کے اظہارسے بھی بچ ۔
(۲)تُو اس(دنیا) کی محبت کو طلب کرتا ہے جوتیرے لئے پرانی ہوچکی، حالانکہ وہ تیرے ماں باپ کو ہلاک کرچکی ہے ۔
(۳)اورتیرے پڑوسیوں پربھی اس(دنیا) نے ظلم ڈھائے ، ہرایک پرغالب آئی، آخرکاران کوہلاک وتباہ کردیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع