دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aansoon ka darya | آنسوؤں کا دریا

book_icon
آنسوؤں کا دریا

اشعار

أَتَبْنِیْ بِنَائَ الْخَالِدِیْنَ وَاِنَّمَا                                                                                                                                        بَقَاؤُکَ فِیْھَا لَوْ عَقَلْتَ قَلِیْلٌ

لَقَدْ کَانَ فِیْ ظِلِّ الْاَ رَاکِ مَقِیْلٌ                                                                                                                                    لِمَنْ کُلُّ یَوْمٍ یَقْتَفِیْہِ رَحِیْلٌ

ترجمہ : (۱)کیاتُوہمیشہ رہنے والوں کی طرح عمارت تعمیرکررہاہے ، حالانکہ اس عمارت میں تیراقیام بہت تھوڑاہے اگرتُواس بات کوسمجھے ۔

            (۲)جس کوہردن رخصت(موت) کادھڑ کالگا ہو، اسے تو پیلو (درخت )کے سائے میں دوپہر کاآرام کافی ہے ۔

اُخروی زندگی کو ترجیح دو :

             حضرت سیدنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرمایا کرتے تھے کہ’’ اے ابن آدم ! تمہارے لئے ایک دنیوی زندگی ہے اور ایک اُخروی، لہذا تم دنیوی زندگی کو اُخروی زندگی پر ہر گز تر جیح نہ دینا کیونکہ خدا عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم ! میں نے بہت سے ایسے لوگو ں کو دیکھا کہ جنہوں نے اپنی دنیوی زندگی کو اُخر وی زندگی پر تر جیح دی تو وہ ذلیل ورسو اہوکر ہلاکت میں مبتلا ہوگئے ۔‘‘

             اے انسان! دنیا کو آخرت کے بدلے بیچ ڈال، دونوں جہاں میں نفع پائے گا اور آخرت کو دنیا کے عوض ہرگزنہ بیچنا کہ دونوں میں نقصان اٹھائے گا ، … اے ابن آدم! جب تمہارے لئے آخرت کی بھلائی ذخیرہ کرلی جائے تو دنیا کی کوئی تکلیف تمہیں نقصان نہ دے سکے گی ، …اے انسان! دنیا ایک سواری ہے اگر تو اس پر سوار ہوگا تو یہ تجھے اٹھائے گی اور اگر تو نے اسے اٹھا یاتو یہ تجھے مارڈالے گی، …اے انسان ! تُو عنقریب موت کا شکار ہونے والا ہے پھر تجھے تیرے رب عَزَّ وَجَلَّ  کے حضور پیش کیاجائے گا، لہذاتو زندگی ہی میں آخرت کی تیاری کر لے کیونکہ تجھے موت کے وقت اس کی اہمیت کا اندازہ ہوگا ، …اے انسان! دنیا میں اپنا دل مت لگا کہیں تو ایک چمٹ جانے والے شر سے دل نہ لگا بیٹھے ، …اے انسان ! تو سرکشی میں جتنا راستہ طے کر چکا تیر ے لئے اتنا ہی بہت ہے ، اب باز آجا ۔

جنتی حُور کی قیمت :

            حضرتِ سیدنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار  بصر ہ کی کسی گلی سے گزر رہے تھے کہ بادشاہ کی ایک کنیز آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے قریب سے گزری۔ وہ سواری پر تھی اور اس کے ساتھ کچھ خُدّام بھی تھے ۔ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے پیچھے سے اس کی آہٹ سنی تو مُڑ کر پیچھے دیکھا اور اس کی آب وتاب دیکھ کرکہنے لگے ’’ اے کنیز! کیاتیرا آقا تجھے بیچے گا؟‘‘ کنیزنے جب یہ بات سُن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی طرف دیکھاتو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  پرانا چوغہ پہنے ہوئے تھے لیکن خوش شکل اور با وقار دکھائی دیتے تھے ۔ اس نے اپنے خُدّام کو سواری روکنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے سواری روک دی تو اس کنیز نے حضرت ِ سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار  کی طرف رُخ کر کے کہا : ’’ اے شیخ ! ذرا اپنی بات دہراؤ۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا  :  ’’میں پو چھ رہاہوں کہ کیا تیرا آقا  تجھے بیچے گا ؟ ‘‘کنیز بولی کہ’’ تم پر افسوس ہے ، اگر میرا آقا مجھے بیچنا بھی چاہے تو کیا تمہارے جیسا شخص مجھے خرید سکتا ہے ؟‘‘ پھر خُدّام نے حضرت ِ سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار  کو گھیر لیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا کہ’’ میرا راستہ چھوڑ دو، میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔‘‘

             آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس قافلے کے ہمراہ اس کنیز کے محل تک پہنچ گئے ۔ محل کے دربان اس کنیز کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور اسے سواری سے اتا را۔ وہ کنیزمحل میں داخل ہوگئی جبکہ حضرت ِ سیِّدُنا مالک  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار  دروازے پر کھڑ ے رہے ۔ جب کنیز اپنے آقا کے پاس پہنچی تو اس سے کہا : ’’اے میرے  آقا ! مجھے ایک تنگدست اور بوڑھا فقیر ملاجس نے بوسیدہ لباس پہن رکھا تھا ، جب اس نے میرا حسن وجمال، میری شان وشوکت اور میرے  خُدّام کو دیکھا تو حیران ہو کر رہ گیا اور مجھ سے کہنے لگا  :  ’’کیا تیرا آقا تجھے بیچے گا؟‘‘ کنیز کا آقا یہ بات سن کر ہنس دیا اور اس سے پوچھا : ’’ وہ بوڑھا کہاں ہے ؟‘‘ کنیز بولی : ’’ میں اسے اپنے ساتھ لے آئی ہو ں اوروہ اس وقت محل کے دروازے پر کھڑا ہے ۔‘‘ آقا نے کہا’’ اسے میرے  پاس لے آؤ۔‘‘

          جب حضرت ِ سیِّدُنا مالک بن دینار  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار  اس بادشاہ کی نشست گاہ کے دروازے پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ کمرہ انواع واقسام کے قالینوں اور تکیوں سے آراستہ ہے اور محل کا مالک ایک اونچی جگہ بیٹھا ہوا ہے ۔ حضرت ِ سیِّدُنا مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ رُک کر اس کی طر ف دیکھنے لگے ۔ اس شخص نے پوچھا : ’’کیا ہوا اے شیخ ، اندر آجاؤ۔‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  بولے :  ’’جب تک تم یہ قالین نہیں اٹھاؤ گے او راس کے فتنے کو مجھ سے دور نہیں کروگے میں اندر نہیں آؤں گا ۔‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے محل کے مالک کے دل میں ان کا ایسارعب اورہیبت ڈال دی کہ اس نے قالین

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن