30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک دن ہم ان کے گھر پر ان سے علم دین حاصل کررہے تھے کہ ہم نے ایک عورت کو درو ازہ کھٹکھٹاتے دیکھا تو ہم باہر نکلے اور پوچھا کہ’’ اے خاتو ن !کیا کام ہے ؟‘‘ اس نے کہا کہ’’ میں شیخ سے ملنا چاہتی ہوں ان سے کہوکہ فلاں راہب کی بیٹی آپ کے ہاتھ پرمسلمان ہونے آئی ہے ۔‘‘ تو شیخ نے اسے اند ر آنے کی اجازت دیدی وہ گھر میں داخل ہو کر بولی : ’’اے میرے سردار ! میں آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہونے آئی ہوں۔‘‘
شیخ نے پوچھا کہ’’ تمہارا قصہ کیاہے ؟‘‘ تو اس نے شیخ کو بتایا کہ ’’جب آپ وہاں سے چلے آئے تو مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہوا اور میں سوگئی تومیں نے خواب میں حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کودیکھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرمارہے تھے کہ’’ دینِ محمدی علی صاحبہاالصلوۃ والسلام کے علاوہ کو ئی دین سچانہیں۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی پھر فرمایا کہ’’ اللہ تعالیٰ نے تیرے ذریعے اپنے ایک بندے کو آزمایا ہے ۔‘‘ چنانچہ اب میں آپ کے پاس آگئی ہوں اور آپ کے سامنے گواہی دیتی ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں۔‘‘ شیخ اس عورت کے اپنے ہاتھ پر مسلمان ہونے کی وجہ سے بہت خوش ہوئے ۔ پھر انہوں نے اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دین کے مطابق نکاح کرلیا ۔
جب ہم نے ان سے اس خطا کے بارے میں پوچھا جواُن کے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان راز تھی تو انہوں نے بتا یا کہ’’ میں کسی جگہ سے گزررہاتھا کہ ایک نصرانی آکر مجھ سے لپٹ گیا میں نے اس سے کہا کہ ’’تجھے پر اللہ کی لعنت ہومجھ سے دور ہو جا۔‘‘اس نے پوچھا : ’’کیوں ؟‘‘ تومیں نے کہا کہ’’ میں تجھ سے بہتر ہوں۔‘‘ تو نصرانی میری طرف متو جہ ہو کر بو لا کہ’’ تمہیں کیا پتا کہ تم مجھ سے بہتر ہو کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک کیا مقام ہے کہ تم یہ بات کہہ رہے ہو؟ ‘‘پھر مجھے بعد میں خبر ملی کہ وہ نصرانی مسلمان ہو چکا ہے اور کامل مسلمان ہو کر عبادت گزار بن چکا ہے ۔جبکہ مجھے میری خطا کے سبب وہ سزادی گئی جو تم دیکھ چکے ہو۔‘‘
نَسْأَلُ اللہَ الْعَافِیَّۃَفِی الدُّنْیَاوَالْآخِرَۃِیعنی ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دنیا وآخرت میں عافیت کاسوال کرتے ہیں۔
یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ !
ایمان پہ دے موت مدینے کی گلی میں
مدفن میرامحبوب کے قدموں میں بنادے
یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ !
مجھے ہریالے گنبدکے تلے قدموں میں موت آئے
سلامت لے کے جاؤں دین وایماں یارسول اللہ
اے تو بہ کرنے والو ! آؤہم اپنے گناہو ں پر رو لیں ، …یہ رونے کا مقام ہے آؤ اپنی محرومی کے بارے میں گریہ وزاری کرلیں ، شاید قربت کا زمانہ اسی طر ح لوٹ آئے جیسے پہلے تھا، … بالوں کی یہ سفیدی شہروں کی ویرانی سے ڈرا رہی ہے ، … اے اپنی جوانی سے بڑھا پے تک عبادت وریاضت میں پیچھے رہ جانے والے ! قافلہ کوچ کرچکا ہے ، … اے پیچھے رہ جانے پر پریشان ہونے والے !اے محرومی کے جنگل میں حیران وپریشان پھرنے والے ! تیرا دن تلاش ِ معاش اور رات خواب ِغفلت میں گزرتی ہے ، اس خسارے کا حقیقی احساس تمہیں اس وقت ہوگا جب تمہاری جوانی کچھ نفع دیئے بغیر تم سے منہ پھیر لے گی اور بڑھاپاسوائے نقصان کے کچھ نہ دے سکے گا ، …تو بہ کے ساحل پر ہی ٹھہرجاؤ کیونکہ گناہوں کے سمند ر بڑے طوفانی ہیں ، … آہ!تو نے جوانی کی بہاریں یونہی غفلت میں گزاردیں اور نافرمانیوں کی خزاں چھاگئی ہے تواب تو بڑھاپے میں نادم ہے ۔
یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ(۳۹) (پ ۱۳، الرعد : ۳۹)
ترجمہ کنز الایمان : اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع