30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھے ۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے ارشادفرمایا : ’’ اے آخرت کے بیٹو ! نازو نعمت میں رہنے والوں کو تمہاری بچی نعمتوں ہی سے حصہ ملتا ہے ۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ }
حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی سے پوچھاگیا : ’’تہجد گزار لوگو ں کے چہرے دیگر لوگو ں سے زیادہ خوبصورت کیوں ہوتے ہیں ؟‘‘ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’وہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تنہائی اختیار کرتے ہیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں اپنے نور کا لباس پہنا دیتا ہے ۔‘‘
حضرت ِ سیِّدُنا ابو ماجدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد فرماتے ہیں : ’’میں صوفیاء سے بہت محبت رکھتا تھا، ایک دن میں ان کے پیچھے پیچھے ایک عالم کی مجلس میں پہنچاتو میں نے اس مجلس میں ایک نوجوان دیکھا جس کی زیارت کے لئے لوگ بے تاب تھے ۔ وہ نوجوان جب ’’ اللہ ، اللہ ‘‘ کی صدائیں سنتا تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ پاتا ۔عین عالَم شباب میں اسے اس طرح روتا دیکھ کر مجھے بڑا تعجب ہوا۔ میں نے ایک بزرگ سے اس نوجوان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا : ’’ یہ تو بہ کے بعد اس طرح اشک باری کرتا اور نوافل کی ادائیگی میں مصروف نظر آتا ہے ، اس کادل بہت نرم ہے اور یہ محبت ِ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ میں خود رفتہ ہے ۔‘‘ اسی اثناء میں کسی قاری نے یہ آیت کریمہ پڑھی :
فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ (پ ۲، البقرۃ : ۱۵۲)
ترجمہ کنزالایمان : تومیری یاد کرو میں تمہاراچرچاکروں گا۔
تو وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا : ’’ اے میرے مولا عَزَّ وَجَلَّ ! وہ ذلیل ورسو اہوگیا جس کے دل میں تیری یاد کے علاوہ کچھ اور ہے ، اے دلوں کے محبوب ! ساری کا ئنات میں تیرے سوا کون ہے جسے یاد کیا جائے ۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
تَھَتُّکِیْ فِیْ الْھَوٰی حَلَالِیْ وَعَاذِلِیْ مَالَہُ ومَالِیْ
یَلُوْمُنِیْ فِیْ الْغَرَامِ جَھْلًا وَکُلَّمَا لَامَنِیْ حَلَالِیْ
قَالُوْا تَسَلَّیْتَ قُلْتُ کَلَّا یَاقَوْمِ مِثْلِیْ یَکُوْنُ سَالِیْ
قَالُوْا تَعَشَّقْتَ قُلْتُ اَھْلًا لَقَدْ تَعَشَّقْتُ لَااُبَالِیْ
ترجمہ : (۱)شدت محبت کے سبب میری شہرت درست ہے ، اورمجھے ملامت کرنانہ تواس کے لئے درست ہے اورنہ مجھ لائق ہے ۔
(۲)وہ مجھے لاعلمی کی بناپر محبت میں ملامت کررہا ہے اور جب بھی اس نے مجھے ملامت کی مجھے بھلی ہی لگی ۔
(۳)لوگوں نے پوچھا : کیا تجھے (محبت میں )افاقہ ہوا؟ میں نے جواب دیا : ’اے لوگو! میرے جیسے کوافاقہ ہرگزنہیں ؟
(۴)انہوں نے پوچھا : ’’توعشق میں گرفتارہوگیاہے ؟ میں نے جواب دیا : ’’ہاں ! میں نے عشق کیا(اور)اظہارعشق میں مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔‘‘
حضرت ِ سیِّدُنا ابو علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں کہ’’ مقام فنائ(یعنی وہ مرتبہ جس تک بندہ بذریعہ عبادت درجہ بدرجہ ترقی حاصل کرتاہے ، اس)میں لوگوں کی چار اقسام ہیں :
پہلا : وہ شخص جس کے دل پراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظمت اور محبت غالب آگئی او روہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں مشغو ل ہو کر دوسروں سے غافل ہوگیا۔ یہ وہی شخص ہے جس کا ذکراللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمان میں کیا ہے :
رِجَالٌۙ-لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ (پ۱۸، النور : ۳۷)
ترجمہ کنز الایمان : ۔وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد سے
دوسرا : وہ شخص جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے سچی عبادت، اظہارِ بندگی، خالص پرہیزگاری اوروفاداری کاوعدہ کیاہے ، یہ وہ شخص ہے جس کا تذکرہاللہ عَزَّ وَجَلَّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع