30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قدس (یعنی جنت)میں رہنا چاہو تودنیا سے کنارہ کش ہوجاؤ اور اس طرح غمگین اور تنہا ہوجاؤ جیسے تنہا رہ جانے والاپرندہ چٹیل زمین میں سایہ پانے والی جگہ پر ہوتا ہے ، وہ چشموں کے پانی پر آتا اور درختوں سے پھل کھاتا ہے او رجب رات ہوجاتی ہے تو دیگر پرندو ں سے ڈرتا ہوا تنہا چھپ جاتا ہے اور اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ سے اُنس حاصل کرتاہے ۔‘‘
حضرت ِ سیِّدُنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں : ’’ ایک عابد کا گزر کسی راہب کے قریب سے ہوا تو اس نے راہب سے کہا کہ’’ اے راہب !تم موت کو کیسے یاد کرتے ہو؟ ‘‘راہب نے جواب دیا : ’’ میں جب بھی کوئی قد م اٹھا تا ہوں تو دوسرا قد م رکھنے سے پہلے ڈرتا ہوں کہ کہیں مرنہ جاؤں۔‘‘ عابد نے پوچھا : ’’عبادت کے لئے تمہارا جو ش کیسا ہوتا ہے ؟ ‘‘راہب نے کہا : ’’میں نے جنت کے بارے میں جاننے والے کسی شخص کے بارے میں نہیں سنا کہ اسے وقت ملے اور وہ دور کعتیں ادانہ کرے ۔‘‘ عا بد نے پوچھا : ’’ تم راہبو ں کو کیا ہوا ہے کہ تم یہ سیاہ پیونددارلباس پہنے رہتے ہو؟‘‘راہب نے کہا : ’’مصیبت زدہ لوگو ں کا لبا س ایسا ہی ہوتاہے ۔‘‘ عا بد نے پوچھا : ’’ اے راہب! کیا ہر راہب مصیبت میں ہے ؟‘‘ راہب نے کہا کہ’’ اے میرے بھائی !گنہگارو ں کے لئے گناہو ں سے بڑی مصیبت کونسی ہے ۔‘‘ اس عا بد کا کہنا ہے کہ’’ مجھے جب بھی یہ گفتگو یاد آتی ہے تو میں رو پڑتا ہوں۔‘‘
حضرت ِ سیِّدُنا عتبیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ’’ دنیاسے بے رغبتی اختیار کرنے والوں میں سے ایک زاہد نے یہ اشعار کہے ہیں :
وَیَوْمَ تَرَی الشَّمْسَ قَدْ کُوِّرَتْ وَفِیْہِ تَرَی الْاَرْضَ قَدْ زُلْزِلَتْ
وَفِیْہِ تَرَی کُلَّ نَفْسٍ غَدًا اِذَا حُشِرَ النَّاسُ مَاقَدَّ مَتْ
أَتَرْقُدُعَیْنَاکَ یَامُذْنِبًا وَاَعْمَالُکَ السُّوْئُ قَدْدُوِّنَتْ
فَاِمَّا سَعِیْدٌاِلٰی جَنَّۃٍ وَکُفَّاہُ بِالنُّوْرِ قَدْخُضِّبَتْ
وَاِمَّا شَقِیٌّ کُسِیَ وَجْھُہُ سَوَادًا وَّکُفَّاہُ قَدْ غُلِّلَتْ
ترجمہ : (۱)اس دن تودیکھے گاکہ سورج ماند پڑجا ئے گا ، اور زمین زلزلوں میں ہوگی ۔
(۲)جس دن لوگوں کاحشرہوگاتواس میں دیکھے گاکہ ہرنفس نے کل (قیامت)کے لئے کیاکچھ آگے بھیجا۔
(۳)اے بد کار! تیری آنکھیں سورہی ہیں جبکہ تیرے اعمالِ بد جمع ہورہے ہیں۔
(۴)سعادت مند کاٹھکاناتو جنت ہوگا اور اس کے ہاتھ نور سے معمورہوں گے ۔
(۵)اور بد بخت کے منہ پر سیاہی چھائی ہو گی اور اس کے ہاتھ بندھے ہوں گے ۔
ایک دن حضرت ِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسفر پر روانہ ہوئے ۔ جب انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی تو انہوں نے عمامہ منگوایا اور اسے سر پر باندھ لیا پھر فورًا ہی اسے اتا ردیا۔ عرض کی گئی : ’’ اے امیر المؤمنین ! آ پ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عمامہ کیوں اتا ردیا یہ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو گرمی سے بچا رہا تھا ؟‘‘ فرمایا کہ’’ مجھے پچھلے زمانہ کے لوگو ں کے یہ اشعار یاد آگئے :
مَنْ کَانَ حِیْنَ تَمَسُّ الشَّمْسُ جَبْھَتَہُ اَوِالْغُبَارُ یَخَافُ الشَّیْنَ وَالشَّعْثَا
وَیَاْلَفُ الظِلَّ کَیْ تَبْقٰی بَشَاشَتُہُ فَسَوْفَ یَسْکُنُ یَوْمًا رَاغِمًاجَدَثًا
فِیْ قَعْرٍ مُظْلِمَۃٍ غَبْرَاءَمُوْحِشَۃٍ یُطِیْلُ تَحْتَ الثَّرٰ ی فِیْ جَوْفِھَا اللَّبَثَا
ترجمہ : (۱)ایساشخص جو اپنے چہرے پردھوپ اورغبارپڑنے سے ڈرتاہے کہ کہیں عیب داریا پراگندہ نہ ہوجائے ۔
(۲)اور سایہ کی تلاش کرتاہے تا کہ اس کی ترو تا زگی قائم رہے یہ عنقریب ایک دن قبر میں خاک آلود ہوکررہے گا۔
(۳) وہ تاریک ، غبارآلوداوروحشت میں ڈالنے والے گڑھے میں ہوگا اور عرصہ درازتک مٹی کے نیچے اس کے پیٹ میں رہے گا۔
حضرت ِ سیِّدُنا عیسیٰ بن مریم (عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ) اپنے حواریوں کے پاس تشریف لائے ۔حواریوں کے چہرے گرد آلود تھے مگر نور سے چمک رہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع