30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں۔‘‘ تو اس نے ایک زوردار چیخ ماری پھربولی کہ’’ تم پر افسوس ہے کہ تم نے اس کی بارگاہ میں اجنبیت کی وحشت کیسے محسوس کی کہ اس سے جدا ہوگئے حالانکہ وہ تو اجنبیوں کو اُنس پہنچا نے والا ، کمزوروں کا مدد گار اور آقاؤں کا آقا ہے ، تم نے اپنے آپ کو اس سے جدائی پر کیسے راضی کرلیا ؟‘‘
میں اس عورت کا کلام سن کر رونے لگا تو اس نے پوچھا : ’’کیوں رو رہے ہو؟‘‘ میں نے کہا : ’’زخم پر مرہم رکھ دیا گیا تو وہ جلد ہی بھر گیا۔‘‘ وہ کہنے لگی : ’’ اگر تم سچے ہوتے توکیوں روتے ؟‘‘ میں نے پوچھا : ’’کیا سچا نہیں روتا ؟‘‘اس نے جواب دیا :
’’نہیں۔‘‘میں نے پوچھا : ’’ وہ کیوں ؟‘‘ جواب دیا : ’’ اس لئے کہ روناتو دل کی راحت وسکون کے لئے ہوتا ہے جبکہ عقلمند وں کے ہاں یہ ایک معیوب شئے ہے ۔‘‘میں نے اس سے کہا : ’’ مجھے کوئی ایسی نصیحت کیجئے جس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے نفع عطا فرمائے ۔‘‘ کہنے لگی : ’’ اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ کی ملاقات کے شو ق میں عبادت کیجئے کیونکہ اس نے اپنے اولیاء کی ملاقات کے لئے ایک دن (یعنی قیامت کا دن) مقر ر کر رکھاہے ، اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں دنیا میں اپنی محبت کا ایسا جا م پلادیا جس کے بعد انہیں کبھی پیاس نہ لگی ۔‘‘پھر وہ روتے ہوئے کہنے لگی : ’’ یا الٰہی عَزَّ وَجَلَّ ! تومجھے کب تک اس دنیا میں رکھے گا جہاں میرا کوئی ہمددر نہیں جو مشکلات میں میرا ساتھ دے سکے ۔‘‘ پھر یہ شعرپڑھنے لگی :
اِذَا کَانَ دَائُ الْعَبْدِ حُبَّ مَلِیْکِہِ فَمَنْ دُوْنَہُ یُرْجٰی طَبِیْبًا مَدَاوِیًا
ترجمہ : جب بندے کامرض اپنے مالک کی محبت ہو تو اس کے علاوہ وہ کس طبیب سے علاج کی توقع رکھے ۔
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
میرے پیارے اسلامی بھائی!
اگر تیرے مولا عَزَّ وَجَلَّ نے تجھے اپنی بارگاہ سے دور کردیا توتُو کس کے دروازے پر جائے گا؟ اور کون سے راستے پر چلے گااور کس جانب کاارادہ کرے گا ؟ اپنے مولیٰ کا دروازہ پکڑتاکہ تیری واپسی تیرے لئے فائدہ مندہو ۔
حَنِیْنُ قُلُوْبِ الْعَارِفِیْنَ اِلٰی الذِّکْرِ وَتَذْکَارُھُمْ عِنْدَ الْمُنَاجَاۃِ بِالسِّرِّ
وَاَجْسَامُھُمْ فِیْ الْاَرْضِ سَکْرٰی بِحُبِّہِ وَاَرْوَاحُھُمْ فِیْ لَیْلِ حُجُبِ الْعُلٰی تَسْرِیْ
عِبَادٌعَلَیْھِمْ رَحْمَۃُ اللہِ اُنْزِلَتْ فَظَلُّوْاعُکُوْفًا فِیْ الْفَیَافِیْ وَفِیْ الْقَفْرِ
وَرَاعُوْا نُجُوْمَ اللَّیْلِ لَایَرْقُدُوْنَہُ بِاِدْمَانِ تَثْبِیْتِ الْیَقِیْنِ مَعَ الصَّبْرِ
فَھٰذَا نَعِیْمُ الْقَوْمِ اِنْ کُنْتَ فَاھِمًا وَتَعْقِلُ عَنْ مَوْلَاکَ آدَابَ مَنْ یَّدْرِیْ
فَمَاعَرَّسُوْا اِلَّابِقُرْبِ حَبِیْبِھِمْ وَلَا عَرَّجُوْا عَنْ مَّسِّ بُؤْسٍ وَّلَاضُرٍّ
اُدِیْرَتْ کُؤُوْسٌ لِلْمَنَایَا عَلَیْھِمْ فَغَفَوْا عَنِ الدُّنْیَا کَاِغْفَائِ ذِیْ سُکْرٍ
ھُمُوْمُھُمْ جَالَتْ لَدٰی حُجُبِ الْعُلٰی َھُمْ اَھْلُ وُدِّ اللہِ کَالْأَنْجُمِ الزُّھْرِ
فَلَا عَیْشَ اِلَّامَعَ اُنَاسٍ قُلُوْبُھُمْ تَحِنُّ اِلٰی التَّقْوٰی وَتَرْتَاحُ لِلذِّکْرِ
ترجمہ : (۱)عا رفین کے دل ذکر کے مشتاق رہتے ہیں اوروہ مناجات کے وقت پست آوازمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تسبیح وتقدیس بیان کرتے ہیں۔
(۲)اورزمین میں ان کے اجسام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کے سبب مدہوش رہتے ہیں اور ان کی روحیں عالی شان حجابات میں رات کوسیر کرتی ہیں۔
(۳)یہ وہ بندے ہیں جن پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت برستی ہے اور انہوں نے جنگلات اور چٹیل میدانوں میں ٹھکانے بنالئے ہیں۔
(۴)اوروہ ستاروں کی نگہبانی کرتے ہیں ، صبرکے ساتھ پختہ یقین کی وجہ سے راتو ں کو نہیں سوتے ۔(یعنی عبادت کرتے ہیں )
(۵)انسانوں کے لئے عظیم نعمت یہی ہے اگر تو سمجھ لے اور اپنے مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ کے آداب سے واقف (لوگوں )کی طرح علم رکھے ۔
(۶)وہ اپنی آرام گاہوں سے اپنے محبوب کے قرب ہی کے لئے الگ ہوتے ہیں اوروہ کسی تکلیف ونقصان کے پہنچنے کی پرواہ نہیں کرتے ۔
(۷)ان پردنیاوی خواہشات کے جام پیش کئے جاتے ہیں مگریہ لوگ دنیاسے یوں بے پرواہ ہیں جس طرح مدہوش ہلکی نیندمیں ہوتاہے ۔
(۸)ان کے خیالات حجابات ِعُلٰی کے پاس گھومتے ہیں ، یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ محبت کرنے والے ہیں اورچمکتے ستاروں کی طر ح ہیں۔
(۹)زندگی انہی لوگوں کے ساتھ گزارنی چاہیے جن کے دل تقوی وپرہیزگاری سے معمور اور یادِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ سے راحت پاتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع