دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aansoon ka darya | آنسوؤں کا دریا

book_icon
آنسوؤں کا دریا

           پھر جب اگلادن آیا تو میں نے فجر کی نماز پڑھی اور اس حبشی غلام کے گھر کی طرف چل دیا ۔میں نے گھر کے دروازے پر ایک بوڑھے کو دیکھا جو چادر بچھا کر بیٹھا ہواتھا ۔جب اس نے مجھے دیکھا تو پہچان کر کہنے لگا  : ’’ مرحبا! اے ابوعبدالرحمن !خوش آمدید، فرمائیے کیسے تشریف لائے ؟ ‘‘میں نے کہا  : ’’مجھے ایک غلام کی حاجت ہے ۔‘‘ اس نے کہا  : ’’ہاں ! میرے  پاس بہت سے غلام ہیں ، آپ ان میں سے جسے چاہیں پسند فرمالیں۔‘‘ پھراس نے آواز دی  : ’’ اے غلام !‘‘جواباً ایک چاک وچوبند غلام باہر نکلاتو اس بوڑھے نے مجھے بتایا کہ’’ یہ غلام بہت نیک سیرت ہے ، آپ کے لئے بہت اچھا رہے گا۔‘‘ تو میں نے کہا  : ’’نہیں ، مجھے یہ نہیں چاہئے ۔‘‘ وہ بوڑھا شخص ایک کے بعد دوسرا غلام بلاتا رہا اور میں انکار کرتا رہا۔یہاں تک کہ اس نے میرے  مطلوبہ غلام کو بلایا تو اسے دیکھ کر میری آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔بوڑھے نے پوچھا  :  ’’کیا یہ غلام آپ کو پسند ہے ؟‘‘ میں نے کہا  :  ’’ہاں۔‘‘مگر وہ کہنے لگا : ’’ میں اس غلام کو نہیں بیچ سکتا۔‘‘ میں نے پوچھا  : ’’وہ کیو ں ؟‘‘ جواب دیا : ’’ اس کا میرے  گھر میں رہنا باعث ِ برکت ہے کیونکہ جب سے یہ اس گھر میں آیاہے مجھے کوئی مصیبت نہیں پہنچی۔‘‘ میں نے پوچھا  : ’’اس کا کھاناکہاں سے آتا ہے ؟‘‘ اس نے کہا کہ’’ یہ کھجوری رسیاں بُن کر کچھ رقم کمالیتا ہے ، اگر رسیاں بِک جائیں تو فبھا ورنہ وہ دن یونہی گزار لیتاہے اور میرے  غلاموں نے مجھے اس کے بارے میں بتایا ہے کہ یہ طویل ترین راتوں میں بھی بالکل نہیں سوتا ، ان سے زیادہ میل جول نہیں رکھتا اور اپنے نفس پر کڑی نظر رکھتا ہے ، میرے  دل میں اس کے لئے بڑی محبت ہے ۔‘‘

          یہ سن کر میں نے اس بوڑھے سے کہا  : ’’میں اپنی مراد پوری ہوئے بغیر (حضرت ِ سیِّدُنا) فضیل بن عیاض اور(حضرت ِ سیِّدُنا) سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ما کے پاس چلتا ہوں۔‘‘ (واپسی پر)میں دوبارہ اس کے پاس گیااور اس غلام کے لئے منت سماجت کی تواس نے کہا کہ’’ آپ کا میرے  پاس چل کر آنا ہی بڑی بات ہے آپ اسے جتنی قیمت میں چاہیں لے جائیں۔‘‘

          بہرحال میں نے وہ غلام خرید لیا اور اسے لے کر حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے گھر کی طرف چل پڑا۔ تھوڑی دُور چلنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا :  ’’اے آقا ! میں نے کہا : ’’ لبیک ! (یعنی میں حاضر ہوں۔)‘‘ تو اس نے کہا  : ’’ لبیک نہ کہئے کیونکہ غلام ’’لبیک‘‘ کہنے کا آقا سے زیادہ مستحق ہے ۔‘‘ میں نے کہا  : ’’میرے  دوست ! تمہیں کس چیز کی حاجت ہے ؟‘‘اس نے کہا : ’’ میں کمزور بد ن والاہوں ، آپ کی کوئی خدمت نہیں کرپاؤں گا، آپ میری جگہ دوسرا غلام خرید لیتے ، میرے  مالک نے آپ کو مجھ سے طاقتو ر غلام بھی دِکھایا تھا۔‘‘ تو میں نے جواب دیا  : ’’میں تجھ سے خدمت تھوڑی لوں گا؟ میں نے تو تجھے اس لئے خرید اہے کہ تجھے اپنے بیٹوں کی طر ح رکھوں ، تیری شادی کراؤں اور خود تیری خدمت کروں۔‘‘یہ سن کر وہ رونے لگا تو میں نے اس سے پوچھا : ’’تجھے کس چیز نے رُلایا ؟‘‘ تو اس نے جواب دیا :  ’’شایدآپ یہ سب اس لئے کررہے ہیں کہ آپ نے مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ مناجات کرتے ہوئے دیکھ لیا ہوگا، ورنہ آپ ان غلاموں میں سے میرا ہی انتخاب کیوں کرتے ؟‘‘ میں نے کہا  : ’’بس ، مجھے تم سے ایک یہی حاجت ہے ۔‘‘ اس نے کہا :  ’’میں آپ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم د ے کراس حاجت کے بارے میں پوچھتا ہوں۔‘‘تو میں نے بتایا کہ ’’میں نے تمہیں تمہاری دعاکی مقبولیت کی وجہ سے خریدا ہے ۔‘‘ اس نے کہا  : ’’میرا آپ کے بارے میں حسن ِ ظن ہے کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی مخلوق میں کچھ بندوں کو چن لیتا ہے جن کے اَحوال اپنے محبوب بندو ں ہی پر ظاہر فرماتاہے اورانہی بندوں پر ظاہر فرماتاہے جن سے وہ راضی ہوتا ہے ۔‘‘ پھر وہ کہنے لگا : ’’ کیا آپ کچھ دیر میرا انتظار کریں گے ، میری رات کی کچھ رکعتیں باقی ہیں ، میں وہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘‘میں نے اس سے کہا :  ’’حضرت ِ سیِّدُنا فضیل بن عیاض رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا گھر قریب ہی ہے وہاں ادا کر لینا  : ’’اس نے کہاکہ’’ میں یہیں نماز پڑھنا پسند کرتاہوں کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احکام بجالانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ۔‘‘ چنانچہ وہ مسجد میں داخل ہوا اور دیر تک نماز میں مشغول رہا پھر میرے  پاس آکر بولا  : ’’ اے ابو عبدالرحمن ! کیا آپ کو کوئی حاجت ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا ’’ وہ کیوں ؟ ‘‘اس نے کہا :  ’’اس لئے کہ میں واپس جانا چاہتاہوں۔‘‘ میں نے پوچھا : ’’ کہا ں جانا چاہتے ہو ؟‘‘ کہا : ’’ آخرت کی طرف۔‘‘ میں نے کہا  : ’’ایسا نہ کرو میں تم سے نفع تو اٹھالوں۔‘‘تو اس نے مجھ سے کہا : ’’ جب تک معاملہ میرے  اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان تھا ‘اس وقت تک مجھے زندگی پسند تھی مگر اب جبکہ آپ بھی اس پر مطلع ہوگئے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن