30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوں۔‘‘ لوگوں نے کہا : ’’ہمارا گمان ہے کہ تم ایک بُرے غلام ہو اور اپنے آقا سے بھاگ کر آئے ہو ۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : ’’ ہاں ایسا ہی ہے ۔‘‘لوگو ں نے کہا : ’’جب تم اپنے آقا کو چھوڑکر بھاگے تو اپنے آپ کو کیساپایا اور تمہاری یہ کیاحالت ہے اگر تم اپنے آقا کے پاس رہتے تمہاری یہ حالت ہرگز نہ ہوتی ا ور بے شک تم بہت برے اور قصوروار غلام ہو۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے فرمایا : ’’ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں ایک گنہگار غلام ہوں ، میرا آقا بہت ہی اچھا ہے اور قصور میراہی ہے اگر میں اسکی اطاعت کرتا اور اسکی رضا چاہتا تو میری یہ حالت ہرگز نہ ہوتی۔‘‘
یہ کہہ کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رونے لگے اور اتنا روئے کہ قریب تھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی روح پرواز کر جاتی ۔لوگو ں کوا ن پر بہت تر س آیا اور انہوں نے آقا سے مراد دنیوی آقا لیا جبکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آقا سے مراد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو لیاتھا ۔ قافلے والوں میں سے ایک شخص نے کہا : ’’ڈرو مت !میں تمہارے لئے تمہارے آقا سے اَمان لے لوں گا ، تم اس کی طرف لوٹ جاؤ اورتوبہ کر لو۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : ’’ میں اس کی طرف لو ٹتا ہوں اور ا س کے انعامات میں رغبت رکھتا ہوں۔‘‘
دراصل حضرت ِ سیِّدُنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سرکار ابدِ قرار، شفیعِ روزِ شمار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضہ انور کی زیارت کیلئے قافلے میں شامل ہوئے تھے ۔بہر حال، اسی دن قافلہ چل پڑا اور تیزی سے سفر کرنے لگا۔ رات کو جب اس قافلے نے ایک پتھریلی جگہ پرپڑاؤ کیا ، وہ رات انتہائی سرد اور با ر ش والی تھی۔ وہ بزرگ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ’’ قافلے والو ں میں سے ہر شخص نے اپنے کجاوے اور خیمے میں پناہ لی، جبکہ سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس نہ توکجاوہ تھا ، نہ خیمہ اورنہ ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کسی سے کچھ مانگا۔‘‘ کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ بات ناپسند تھی کہ آپ دنیوی امور میں سے کوئی چیز مخلوق سے طلب کریں بلکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تو اپنی حاجتیں اللہ ربُّ العزت عَزَّ وَجَلَّ سے مانگا کرتے تھے ۔اس رات آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سخت سردی لگی یہاں تک کہ سردی کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اعضا ئے مبارکہ کانپنے لگے ۔جب سردی زیادہ غالب آگئی تو اس عاشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا زیادہ سردی لگنے کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔‘‘
جب قافلے والے بیدار ہوئے اورکُوچ کا ارادہ کیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو پکار ا : ’’اے شخص اٹھو، لوگ کو چ کر رہے ہیں۔‘‘مگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کوئی جواب نہ دیا تو ایک شخص آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قریب آیا ۔ جب اس نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو جھنجوڑا تو دیکھا کہ آپ کی روح قفس ِ عنصری سے پرواز کرچکی ہے ۔اس شخص نے قافلے والو ں کو پکار کر کہا : ’’اے قافلے والو! اپنے آقا سے بھاگا ہوا غلام انتقال کرگیا ہے اوراسے دفن کئے بغیر سفر کرنا مناسب نہیں۔‘‘قافلے والوں نے کہا : ’’اس کے معاملے (یعنی آقا سے بھاگنے ) کا کیا ہوگا؟‘‘قافلے میں موجود ایک نیک شخص نے کہا : ’’یہ غلام تو بہ کرکے اپنے آقا کی طرف لوٹنے کا ارادہ رکھتا تھا اور اپنے عمل پر نادم تھا اور ہمیں امید ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ذریعے ہمیں نفع پہنچا ئے گا کیونکہ اسکی تو بہ قبول ہوچکی ہے اوراگرہم اسے دفن کئے بغیر چل پڑے تو کہیں ہم سے اس کے بارے میں سوال نہ کیا جائے ، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس کے لئے قبر کھود نے اور اسے اس قبر میں دفن کرنے تک صبر کرو ۔‘‘ تو لوگوں نے کہا : ’’یہ ایسی جگہ ہے جہا ں پانی موجود نہیں ہے ۔‘‘
ایک شخص نے کہا : ’’کسی جاننے والے سے پوچھ لو۔‘‘ چنانچہ لوگو ں نے ایک شخص سے پوچھا تواس نے بتایا کہ’’ پانی یہاں سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ملے گا تم میرے ساتھ کسی آدمی کو بھیج دو میں تمہیں پانی لادوں گا۔‘‘ اس شخص نے ڈول لیا اور پانی کی طرف چل دیا جب وہ قافلے سے نکلا تو اچانک سامنے پانی کی ایک نہر نظر آئی اس نے کہا : ’’بڑا عجیب معاملہ ہے میں نے پہلے کبھی اس نہر کو نہیں دیکھا یہ تو وہ جگہ ہے جہاں پانی ملتاہی نہیں اور نہ ہی کسی قریبی جگہ میں ہوتاہے ۔‘‘ بہرحال وہ شخص قافلے کی طرف لوٹ آیا اور قافلے والوں سے کہنے لگا : ’’ تمہاری مشقت ٹل گئی لکڑیا ں جمع کرو۔‘‘ تو انہوں نے پانی گرم کرنے کے لئے لکڑیاں جمع کردیں۔ پھر جب پانی لینے کے لئے نہر پرآئے تو پانی کو کھولتا ہو اپایا، تو اس کے تعجب میں مزیداضافہ ہو ا۔یہ سب کچھ دیکھ کر شرکائے قافلہ اس شخص یعنی حضرت ِ سیِّدُنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے گھبرا گئے اور کہنے لگے : ’’بے شک یہ شخص بڑی عظمت والا ہے ۔‘‘
پھر ان لوگو ں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لئے قبر کھودنا شروع کی تو مٹی کو مکھن سے زیادہ نرم پایا او رزمین سے خوشبو کی لپٹیں آرہی تھیں۔قافلے والوں نے دنیا میں اس سے زیادہ پاکیزہ خوشبو نہ سونگھی تھی ۔اس صورت حال میں ان کے خوف میں مزید اضافہ ہو گیا اوروہ رعب وگھبراہٹ میں مبتلا ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع