30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر اس بچے نے رونا شروع کردیا اور پکارتا رہا : ’’ اگر قیامت کے دن میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب سے نجات نہ پاسکا تو ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔‘‘ وہ مسلسل روتا رہا حتی کہ بے ہوش ہوکر زمین پر گرپڑا ۔ اس کی ماں نے قریب آکر اسے ہاتھ سے ٹٹولا تو وہ فو ت ہوچکا تھا (اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر رحم فرمائے )۔وہ عورت رونے لگ گئی اور کہنے لگی : ’’اے ضیغم ! اے اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کے شہید، ‘‘ وہ یہی کہتی رہی یہاں تک کہ اس نے ایک چیخ ماری اور زمین پر گر گئی ۔
حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ’’ میں نے اس عورت کو ہلایا تو وہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو پیاری ہوچکی تھی ۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
پیارے اسلامی بھائیو!
یہ دنیا زہرِ قاتل ہے مگر لوگ اس کی ہلاکتوں سے بے خبر ہیں ، …کتنی نگاہیں ایسی ہوتی ہیں جو ابتدا میں بڑی پیاری لگتی ہیں مگر بعد میں ان کا تیکھا پن سہا نہیں جاتا، … اے ابن آدم! تیرادل بہت کمزور ہے اور تیری رائے حقیقت میں ناقص ہے ، تیری آنکھ آزاد ہے اور تیری زبان گناہوں سے آلودہ ہے ، …تیرا جسم گناہ کر کرکے تھک جاتاہے ، … کتنی نگاہیں ایسی ہیں جنہیں معمولی سمجھا جاتاہے مگر ان سے قدم پھسل جاتاہے ۔
عَاتَبْتُ قَلْبِیْ لَمَّا رَاَیْتُ جِسْمِیْ نَحِیْلًا
فَلَامَ قَلْبِیْ طَرْفِیْ وَقَالَ کُنْتَ الرَّسُُوْلَا
فَقَالَ طَرْفِیْ لِقَلْبِیْ بَلْ کُنْتَ اَنْتَ الدَّلِیلَا
فَقُلْتُ کُفَّاجَمِیْعًا تَرَکْتُمَانِیْ قَتِیْلًا
ترجمہ : (۱) جب میں نے اپنے جسم کے دبلاپتلاہونے پرغورکیاتو اپنے دل کوملامت کرنے لگا۔
(۲) تومیرے دل نے میری آنکھ کو ملامت کی اور کہا کہ’’ تو ہی پیغام دیتی ہے ۔‘‘
(۳)تومیری آنکھ نے میرے دل کوجواب دیا’’ رہنمائی توتُو ہی کرتاہے ۔‘‘
(۴)تومیں نے (ان دونوں سے )کہا : ’’تم دونوں ہی (اپنی برائیوں سے ) رُک جاؤ، تم دونوں نے مجھے ہلاک کر ڈالا ہے ۔‘‘
حضرت ِ سیِّدُنا عیسٰی علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ السلام فرمایا کرتے تھے کہ’’ بدنگا ہی دل میں شہوت کا بیج بو دیتی ہے ۔‘‘
حضرت سیدنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں کہ’’ جس نے اپنی آنکھ کو آزاد کر دیا اس کے رنج بڑھ گئے ۔‘‘
اورحضرت سیدنا ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
وَمَنْ کَانَ یُؤْتٰی مِنْ عَدُوٍّ وَّحَاسِدٍ فَاِنِّیْ مِنْ عَیْنَیَّ اُوْتٰی وَمِنْ قَلْبِیْ
یعنی : اورجونقصان کسی دشمن اور حاسد سے پہنچتا ہے مجھے وہی نقصان اپنی آنکھ اور دل سے ہوتا ہے ۔
حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ’’ ایک شخص نبی مُکَرَّم، نورِ مجَسّمْ، شہنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں حاضر ہوا اس کا خون بہہ رہاتھا تو سرورِکونین ، دکھی دلوں کے چین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس سے استفسار فرمایا : ’’ تجھے کیا ہوا ؟‘‘ اس نے عرض کی : ’’ میرے پاس سے ایک عورت گزری تو میں نے اس کی طرف دیکھا اور میری نگاہیں مسلسل اس کا پیچھا کرتی رہیں کہ اچانک میرے سامنے ایک دیوار آگئی جس نے مجھے زخمی کردیا اورمیرایہ حال کردیا جسے آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں۔‘‘تو نبی ٔ مُکَرَّم، نورِ مُجسّمْ، شفیع معظم ، شہنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے تواُسے دنیاہی میں اس کی سزادے دیتاہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع