30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ : (۱)اے فکرمند!اگر تُو قرب چاہتا ہے تو تنہائی اختیار کرلے اورلوگوں کوایک طرف چھوڑدے ۔
(۲)اورپردہ فانی کوچاک کرنے کے لئے ساری زندگی تمام تعلقات سے علیحدہ ہو جا۔
سَرکارِ مدینہ، رَاحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ایک دن اپنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ارشادفرمایا : ’’ کیاتم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے ؟ ‘‘عرض کی : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ تو دینار ہوں نہ ہی درہم ہوں۔‘‘ تو حضورِ پاک ، صاحب ِلولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان سے فرمایا : ’’ ایسا نہیں ہے بلکہ مفلس تو وہ ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزے ، زکوٰۃ ، اور صدقہ لے کر آئے گا لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی کو تھپڑ مارا ہوگا، کسی کامال دبالیا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا تو اسے اس کی نیکیاں دی جائیں گی اور پھر ایک شخص آئے گا اسے بھی اسی طرح اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی یہاں تک کہ لوگو ں کے حقوق ادا کرنے سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی پھر اسے ان کے گناہ دے دیئے جائیں گے تواسے ان لوگو ں کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، یہی شخص مفلس ہے ۔‘‘(صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ والآداب ، باب تحریم الظلم ، رقم ۲۵۸۱ ، ص ۱۳۹۴ بتغیرٍ قلیلٍ)
نَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الْحِرْمَانْیعنی ہم ایسی محرومی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں۔
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ’’ میں حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادھم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے پاس ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو انہیں مسجد میں تلاش کیا مگر وہ مجھے نہ ملے تو مجھے بتا یاگیا کہ ’’وہ ابھی ابھی مسجد سے نکلے ہیں۔‘‘میں ان کی تلاش میں نکلا اوردیکھا کہ وہ سخت گرمی کے موسم میں وادی کے بیچ میں سوئے ہوئے ہیں۔ان کے سرہانے ایک بہت بڑااژدھا بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے منہ میں یاسمین کی ایک ٹہنی تھی جس کے ذریعے وہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مکھیاں اڑارہا تھا مجھے اس پر تعجب ہوااسی وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ ( جس نے ہر چیز کو بولنا سکھا یا)نے اژدھے کوقوت ِگویائی عطا فرمائی تو اس اژدھے نے مجھ سے کہا : ’’ اے شخص! تم کیوں حیران ہو؟‘‘میں نے کہا : ’’تمہارے اس فعل پر حیران ہوں اور اس سے زیادہ تمہارے بولنے پر حیران ہوں کہ تُو تو آدمی کا دشمن ہے ۔‘‘ تو اژدھے نے جواب دیا : ’’ خدائے عظیم کی قسم !ہمیںاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فقط گناہگاروں کا دشمن بنایا ہے جبکہ نیکو کارو ں کے تو ہم تابعدار ہیں۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
فِعَالِیْ قَبِیْحٌ وَّظَنِّیْ حَسَنْ وَرَبِّیْ غَفُوْرٌ کَثِیْرُ الْمِنَنْ
تُبَارِزُ مَوْلَاکَ یَامَنْ عَصٰی وَتَخْشٰی مِنَ الْجَارِ لَمَّا فَطِنْ
رَکِبْتُ الْمَعَاصِیَ وَشَیْبِیْ مَعِیَ فَوَاللہِ یَانَفْسُ مَاذَا حَسَنْ
فَقُوْمِیْ الدَّیَاجِیْ لَہُ وَارْغَبِیْ وَقُوْلِیْ لَہُ یَاعَظِیْمَ الْمِنَنْ
وَقُوْلِیْ لَہُ یَاعَظِیْمَ الرَّجَا اِذَاأَنْتَ لَمْ تَعْفُ عَنِّیْ فَمَنْ
بِحَقِّ النَّبِیِّ ھُوَالْمُصْطَفٰی بِحَقِّ الْحُسَیْنِ بِحَقِّ الْحَسَنْ
أَیُدْفَعُ مِثْلِیْ اِلٰی مَالِکٍ وَ تَعْلَمُ اَنِّیْ ضَعِیْفُ الْبَدَنْ
ترجمہ : (۱)میرے اعمال برے ہیں اور(اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ) گمان اچھا ہے ، اورمیرا رب بخشنے والا، بہت زیادہ احسان فرمانے والا ہے ۔
(۲)اے گناہ کے مرتکب! تو اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ کو(مقابلے کا) چیلنج کرتاہے اور پڑوسی کوئی ہوشیاری دکھائے تو تُواس سے ڈرتا ہے ۔
(۳)بوڑھاہونے کے باوجودمیں گناہوں پرگناہ کرتارہا، اے میرے نفس!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ اچھی بات نہیں ہے ۔
(۴)تو(اے میرے نفس!)تُواس کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کر : ’’ اے بڑے احسان کے مالک !‘‘
(۵)اور اس سے دعا کر : ’’اے بڑی سے بڑی امید کوپوراکرنے والے !جب تو عفوو درگزر نہیں فرمائے گاتوکون فرمائے گا؟‘‘
(۶)حضورنبی ٔ مصطفیصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے صدقے اور حضرت حسن وحسین (رضی اللہ عنہما) کے طفیل مغفرت فرمادے ۔
(۷)کیامیرے جیسا ناتواں ، سیدنامالک عَلَیْہِ السَّلَام (داروغۂ جہنم )کے سپردکرنے کے قابل ہے ؟ تُوتوجانتا ہے کہ میرابدن کمزورہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع