30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میری ماں روتی اور کہتی کہ’’ اگراللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے معروف واپس کر دے تو وہ جس دین پرہوگا میں بھی اسی دین کی پیروی کروں گی۔‘‘ تو کئی سال کے بعد حضرت ِ سیِّدُنا معروف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنی والد ہ کے پاس آئے تو والدہ نے پوچھا کہ’’ بیٹا! تم کس دین پرہو ؟‘‘ انہوں نے بتایا کہ’’ دین ِاسلام پر۔‘‘میری ماں نے اَشْھَدُ اَنْ لاَّاِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ پڑھا ۔اس طرح میری ماں مسلمان ہوئیں اور ہم سب بھی مسلمان ہوگئے ۔
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
حضرت ِ سیِّدُنا احمد بن فتحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ’’ میں نے سیدنا بشربن حارث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو خواب میں دیکھا کہ وہ ایک باغیچہ میں بیٹھے ہیں۔ان کے سامنے ایک دستر خوان ہے اور وہ اس میں سے کھا رہے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا : ’’اے ابونصر !اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟‘‘ جواب دیا : ’’ اس نے مجھ پررحم فرمایا اور مجھے بخش دیا اور ساری جنت کو میرے لئے مباح فرمادیا اور مجھ سے فرمایا کہ’’جنت کے ہرپھل سے کھاؤ اور اس کی نہروں سے پیؤ اور اس کی تمام نعمتوں سے فائد ہ اٹھاؤ کہ تم دنیا میں اپنے نفس کو خواہشات سے بچایا کرتے تھے ۔‘‘
میں نے پوچھا : ’’آپ کے بھائی حضرت سیدنااحمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہاں ہیں ؟‘‘ فرمایا کہ’’ وہ جنت کے دروازے پر کھڑے ہیں او ران سُنّیوں کی شفاعت کر رہے ہیں جو یہ کہتے تھے کہ’’ قرآناللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کلا م ہے مخلوق نہیں ہے ۔‘‘ میں نے پوچھا کہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت ِ سیِّدُنا معروف کرخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟‘‘ تو انہوں نے کہا کہ’’ افسوس! ہائے افسو س ! ہمارے اور ان کے درمیان بہت سے پر دے حائل ہیں۔ حضرت ِ سیِّدُنا معروف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جنت کے شوق اور جہنم کے خوف سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ قُربِ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ کے شوق میں عبادت کرتے تھے لہٰذا !اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں رفیق اعلیٰ کی طرف اٹھالیااور اپنے اور ان کے درمیان کے حجابات اٹھالئے ۔‘‘
یہی وہ مجرب اِکسیر ہے لہٰذا جس نے بارگاہِ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ میں کوئی حاجت پیش کرنی ہو تواسے چاہیے کہ حضرت ِ سیِّدُنا معروف کر خی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے مزار پر حاضر ہوکر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے تو انشآءاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی دُعاء ضرور قبول ہوگی۔
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭…
اے غافلو!بیدا ر ہوجاؤ، اے گناہوں پر قائم رہنے والو! باز آجاؤ اور نصیحت حاصل کرو، … خدا کے واسطے ذرا مجھے یہ تو بتاؤ کہ اس سے بر احال کس کا ہوگاجسے اس کی خواہشات نے (فکرِ آخرت سے )دور کردیا ہو ، … اس سے زیادہ خسارہ پانے والا کون ہوگا جس نے اپنی آخرت دنیا کے بدلے بیچ ڈالی ۔ یہ کیسی غفلت ہے جو تمہارے دلوں پر چھا گئی ہے ، … یہ کیسی جہالت ہے جس نے تمہارے عیبو ں کو تمہاری نگاہوں سے اوجھل کردیا ہے ؟… کیاتم اپنے ارد گرد موت کی تلواروں کوچمکتے ہوئے نہیں دیکھتے حالانکہ موت کی آہٹیں تمہارے درمیان واقع ہوتی رہتی ہیں اور اس کی نگاہیں تم پر جمی ہوئی ہیں اور اس کی آزمائشیں تمہارے عذر کو مٹانے والی ہیں اور اس کے تیر تم میں سے بہت ساروں کو لگ چکے ہیں اور یہ تمہیں بھی گھیر ے میں لے چکی ہے ، … تو کب تک اور کس لئے تم پیچھے رہ گئے ؟…کیا تم ہمیشہ بقاء کی طمع رکھتے ہو؟… ہر گز نہیں واحد وصمدعَزَّ وَجَلَّ کی قسم! موت تاک میں ہے یہ نہ کسی باپ کو چھوڑتی ہے اورنہ بیٹے کو ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں خوب کو شش کرو اور گناہوں سے دور ہوجاؤ تاکہ وہ تم سے محبت فرمائے ۔
حضرت ِ سیِّدُنا محمد بن قدامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ’’ حضرت ِ سیِّدُنا بشر بن حارث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ایک مد ہوش شخص سے ملا قات ہوئی تو وہ انہیں چومنے لگا اور کہنے لگا : ’’اے ابو نصر! میرے سردار ۔‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا بشررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسے خود سے الگ نہ فرمایا ۔ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لوٹنے لگے تو آپ کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : ’’یہ وہ شخص ہے جو اپنے گمان کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع