30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنی آستین میں رکھ لیا پھرمیں نے نماز کی اقامت کہی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد جب کاغذپڑھا تو اس میں لکھا تھا کہ’’ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اے علی بن موفق! کیا توفقروتنگدستی سے ڈرتاہے حالانکہ تیراپروردگار(عَزَّ وَجَلَّ)میں ہوں۔‘‘
سیدنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیْ کی فکرآخرت :
امام مزنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جب میں حضرت سید نا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کے پاس ان کے مر ض الموت میں حاضرہو اتو پوچھا : ’’آپ کا حال کیسا ہے ؟‘‘ فرمایا : ’’ دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں ، دو ستو ں سے جدا ہونے والا ہوں ، موت کا پیالہ پینے والا ہوں ، اپنے بر ے اعمال سے ملنے والاہوں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہونے والاہوں اورمجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میری رو ح جنت میں داخل ہوگی کہ میں اسے مبارکباد دوں یاجہنم میں ڈالی جائے گی کہ اس سے تعزیت کرو ں۔‘‘ پھر آپ ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رودیئے اوریہ اشعار پڑھنے لگے :
وَلَمَّا قَسَا قَلْبِیْ وَضَاقَتْ مَذَاھِبِیْ جَعَلْتُ الرَّجَا مِنِّیْ لِعَفْوِکَ سُلَّمًا
تُعَاظِمُنِیْ ذَنْبِیْ فَلَمَّا قَرَنْتُہُ بِعَفْوِکَ رَبِّیْ کَانَ عَفْوُکَ اَعْظَمًا
فَمَازِلْتَ ذَا عَفْوٍ عَنِ الذَّنْبِ لَمْ تَزَلْ تَجُوْدُوَتَعْفُوْمِنَّۃً وَّتَکَرُّمًا
فَلَوْلَاکَ لَمْ یَنْجُ مِنْ اِبْلِیْسَ عَا بِدٌ وَکَیْفَ وَقَدْاَغْوٰی صَفِیَّکَ آدَمًا
ترجمہ : (۱)جب میرا دل سخت ہوگیااورمیرے راستے تنگ ہوگئے تومیں نے تجھ سے معافی کی امید کوواسطہ بنالیا ہے ۔
(۲)مجھے اپنے گناہ بہت بڑے لگتے تھے ، مگراے رب عَزَّ وَجَلَّ ! جب میں نے ان کو تیرے عفو ودرگزرسے ملایا تو تیرے عفوودرگزر کوبہت بڑاپایا ۔
(۳)تُوہمیشہ میرے گناہوں کو معاف کرتارہا، تُونے ہمیشہ جودوکرم کے ساتھ مجھے معافی عطافرمائی ۔
(۴)اگرتیرا یہ کرم نہ ہوتا توابلیس سے کوئی عبادت گزارنہ بچ پاتا، کیونکہ اس لعین نے توتیرے صفی حضرت آدم (عَلَیْہِ السَّلَام ) کو بھی بہکانے کی کوشش کی تھی۔
میرے اسلامی بھائیو! جلداز جلدگناہوں سے تو بہ کرلو اوران کے نقش قدم پر چلو جنہوں نے توبہ کی اور بخشش پاگئے اور جنہوں نے اپنے آپ کو رضائے الہٰی عَزَّ وَجَلَّ کے حصول میں تھکادیا ، کاش کہ تم انہیں راتو ں کی تاریکیوں میں دیکھو کہ وہ عبادت میں مشغول ہوں گے اور اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہوں گے اور جنہوں نے اپنی پیشانیاں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کے حضورجھکادیں اور اپنی حاجات اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی بار گاہ میں پیش کردیں جو دیکھتا ہے مگر خود نظر نہیں آتا ۔
أَلَاقِفْ بِبَابِیْ عِنْدَ قَرْعِ النَّوَائِبِ وَثِقْ بِیْ تَجِدُنِیْ خَیْرَ خِلٍّ وَّصَاحِبِ
وَلَاتَلْتَفِتْ غَیْرِیْ فَتُصْبِحَ نَادِمًا وَمَنْ یَّلْتَفِتْ غَیْرِیْ یَعِشْ عَیْشَ َخائِبِ
ترجمہ : (۱) سُن !مصیبتو ں اور پریشانیوں میں میری بارگاہ میں رجوع کر، اور مجھ پر بھروسا کر ، تُومجھے بہترین دوست اور بہترین ساتھی پائے گا۔
(۲)میرے علاوہ کسی اور سے لونہ لگاورنہ تُونادم وشرمندہ ہو گااور جوبھی میرے علاوہ کسی اور سے لولگاتاہے وہ نقصان وخسارے کی زندگی بسرکرتا ہے ۔
حضرت ِ سیِّدُنا ابو محفو ظ معروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی کواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے بچپن ہی میں اپنی ولایت سے سر فراز فرمادیا تھا۔چنانچہ ان کے بھائی حضرت عیسیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں کہ ’’میں اور میرے بھائی معروف ایک مکتب میں پڑھتے تھے ۔ہم اس وقت عیسائی تھے ، ہمارا عیسائی اُستاد بچوں کو باپ اور بیٹے کا در س دیتا(یعنی یہ کہتا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بیٹے ہیں ، معاذ اللہ عَزَّ وَجَلَّ) تومیرے بھائی معروف چیخ چیخ کر اَحَد، اَحَد(یعنی وہ ایک ہے ، وہ ایک ہے )کہتے تو عیسائی اُستاد انہیں خوب مارتا یہاں تک کہ ایک دن اس نے انہیں اتنا مارا کہ وہ مکتب سے بھاگ گئے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع