30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
افسوس! جواپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی مناجات کی لذت پاچکا ہے کیا وہ مخلوق سے اُنس حاصل کرسکے گا ؟ پھر وہ مجھے تنہا چھوڑ کر چلے گئے ۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭… ٭…
فرمانِ مصطفی : ’’علم سیکھنے سے ہی آتاہے اورفقہ غوروفکرسے حاصل ہوتی ہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ بوجھ عطافرماتاہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جوعلم والے ہیں۔‘‘(المعجم الکبیر، ج۱۹، ص۵۱۱، الحدیث : ۷۳۱۲)
پیارے اسلامی بھائیو!
کب تک (نیک)اعمال میں سستی کرو گے ؟ اور کب تک جھوٹی خواہشات کی تکمیل کی حرص رکھوگے ؟ تم مہلت سے دھوکا کھاتے ہو اور موت کے حملے کویاد نہیں کرتے ہو ، جسے تم نے جنا ہے (یعنی اولاد)وہ مٹی کے لئے ہے او رجوکچھ تعمیر کیاہے (یعنی مکان وغیرہ) وہ ویران ہونے کے لئے ہے اور جو کچھ تم نے جمع کیا ہے (یعنی مال ودولت) وہ ختم ہونے کے لئے ہے اور تمہارے عمل قیامت کے دن کے لئے ایک اعمال نا مے میں محفوظ ہیں۔
وَلَوْأَنَّا اِذَا مُتْنَا تُرِکْنَا لَکَانَ الْمَوْتُ رَاحَۃَکُلِّ حَیّ
وَلٰکِنَّا اِذَا مُتْنَا بُعِثْنَا وَنُسْأَلُ بَعْدَھَا عَنْ کُلِّ شَیْیٔ
ترجمہ : (۱) اگر ہم مرنے کے بعد(یونہی)چھوڑ دئیے جائیں تو پھرموت ہرزندہ کے لئے راحت بن جائے ۔
(۲) مگر جب ہم مریں گے تودوبارہ اٹھائے جائیں گے اور اس کے بعد ہرشے کے بارے میں ہم سے پوچھاجائے گا۔
امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا کہ تماللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان سے ہرگز دھوکے میں نہ پڑنا :
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَاۚ-وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا (پ۔۸الانعام : ۱۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان : جو ایک نیکی لائے تو اس کے لئے اس جیسی دس ہیں اور جو برائی لائے تو اسے بدلا نہ ملے گا مگر اس کے برابر۔
کیونکہ گناہ اگر چہ ایک ہی ہو اپنے ساتھ دس بری خصلتیں لے کر آتاہے ۔
(۱) جب بندہ گناہ کرتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ کو غضب دلاتاہے اور وہ اسے پورا کرنے پر قدرت رکھتاہے ۔
(۲)وہ(یعنی گناہ کرنے والا) ابلیس ملعون کوخوش کرتاہے ۔
(۳)جنت سے دور ہوجاتاہے ۔
(۴)جہنم کے قریب آجاتاہے ۔
(۵)وہ اپنی سب سے پیاری چیز یعنی اپنی جان کو تکلیف دیتا ہے ۔
(۶) وہ اپنے باطن کو ناپاک کربیٹھتا ہے حالانکہ وہ پاک ہوتا ہے ۔
(۷)اعمال لکھنے والے فرشتوں یعنی کراماً کاتبین کو ایذا ء دیتا ہے ۔
(۸) وہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو رو ضہ مبارکہ میں رنجیدہ کردیتاہے ۔
(۹)زمین وآسمان اور تمام مخلوق کواپنی نافرمانی پر گواہ بنا لیتاہے ۔
(۱۰) وہ تمام انسانوں سے خیانت او رربُّ العالمین عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرتاہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع