30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طر ح حضرت ِ سیِّدُنا ضحاک بن مزاحم رحمۃ اللہ علیہسے روایت ہے کہ ایک رات میں کوفہ کی مسجد کی طرف چلا۔جب میں مسجد کے قریب پہنچا تو ایک نوجوان کو سجدے میں گرے ہوئے پایا۔ وہ گریہ وزاری میں مشغول تھا میں سمجھ گیا کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ولیوں میں سے کوئی ولی ہے تو میں اس نوجوان کے قریب گیا تاکہ سن سکوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو میں نے اسے یہ اشعار پڑھتے ہوئے پایا :
عَلَیْکَ یَا ذَاالْجَلَالِ مُعْتَمَدِیْ طُوْبٰی لِمَنْ کُنْتَ اَنْتَ مَوْلَاہُ
طُوْبٰی لِمَنْ بَاتَ خَائِفاً وَجِلاً یَشْکُوْاِلٰی ذِیْ الْجَلَالِ بَلْوَاہُ
وَمَابِہٖ عِلَّۃٌ وَلَا سَقَمٌ اَکْثَرُ مِنْ حُبِّہِ لِمَوْلَاہُ
اِذَا خَلَا فِيْ ظِلَامِ اللَّیْلِ مُبْتَھِلًا اَجَابَہُ اللہُ ثُمَّ لَبَّاہُ
وَمَنْ یَنَلْ ذَا مِنَ الْاِلٰہِ فَقَدْ فَازَبِقُرْبٍ تَقِرُّ عَیْنَاہُ
ترجمہ : (۱)اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میرابھروسہ واعتمادتجھ ہی پرہے ، خوشخبری ہے اس کے لئے جس کا تو مددگار ہے ۔
(۲) خوشخبری ہے اس کے لئیجو خوفِ(خداعَزَّ وَجَلَّ )میں رات گزارتا ہے ، اپنی مصیبتوں کی فریاد اسی ربِ ذوالجلال کی بارگاہ میں کرتا ہے ۔
(۳)اُسے کوئی بیماری یاتکلیف اپنے مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت سے بڑھ کرنہیں ہے ۔
(۴)جب رات کے اندھیرے میں تنہاعا جزی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی (دعا) سنتا اور قبول کرتا ہے ۔
(۵)اور جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے یہ سعادت ملی وہ ایساقُرب پالینے میں کامیاب ہوگیاجس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی ۔
حضرت ِ سیِّدُنا ضحاک بن مزاحم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ وہ مسلسل ان اشعار کی تکرار کررہاتھا اور روئے جارہاتھا۔ اس کی گریہ وزاری پر ترس کھاکر میں بھی رونے لگا۔ اسی اثناء میں میرے سامنے نظر یں اچک لینے والی کڑک دار بجلی جیسی روشنی چمکی تو میں نے فوراً اپنے ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لئے پھر میں نے اپنے سرپرایک منادی کو ندا دیتے ہوئے سنا جوانسانوں کے کلام کے مشابہ نہ تھی، وہ ندا یہ تھی :
لَبَّیْکَ عَبْدِیْ وَاَنْتَ فِیْ کَنَفِیْ وَکُلُّ مَاقُلْتَ قَدْ قَبِلْنَاہُ
صَوْتُکَ تَشْتَا قُہُ مَلَائِکَتِیْ وَحَسْبُکَ الصَّوْتُ قَدْ سَمِعْنَاہُ
اِنْ ھَبَّتِ الرِّیْحُ مِنْ جَوَانِبِہِ خَرَّ صَرِیْعًالِّمَا تَغَشَّاہُ
ذَاکَ عَبْدِیْ یَجُوْلُ فِیْ حُجُبِیَََْ وَذَنْبُکَ الْیَوْمَ قَدْ غَفَرْ نَاہُ
ترجمہ : (۱)اے میرے بندے !میں موجودہوں اورتو میرے حفظ وامان میں ہے اور تو نے جو بھی دعا کی ہم نے اسے قبول فرمالیا ہے ۔
(۲)میرے ملائکہ تیری آوازسننے کا اشتیاق رکھتے ہیں ، اورتجھے یہ صداکافی ہے جسے ہم نے سن لیا ۔
(۳)اگر اس(صدا) کے گرداگرد ہوا چل پڑے تواس میں پچھاڑنے والے کی طرح آوازپیداہوجائے کیونکہ تونے (اس صدامیں )ایسی ہی کیفیت کوپوشیدہ کررکھاہے ۔
(۴) میرایہ بندہ میرے قرب کے پردوں میں رہتاہے ، اورآج ہم نے تیرا گناہ معاف فرمادیا۔
حضرت ِ سیِّدُنا ضحاک بن مزاحم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے کہا : ’’ربِّ کعبہ کی قسم! یہ تو حبیب کی اپنے حبیب سے مناجات ہے ۔‘‘پھر میں اس کی ہیبت سے غش کھاکر منہ کے بل گرپڑا۔ جب مجھے اِفاقہ ہواتو میں فضاء میں فرشتوں کی آواز سن رہا تھااور زمین وآسمان کے درمیان ان کے پروں کی پھڑپھڑا ہٹ سنائی دے رہی تھی۔میں سمجھا کہ شاید آسمان زمین کے قریب ہوگیا ہے اور میں نے ایسا نور دیکھا جو چاند کی روشنی پرغالب آچکا تھا حالانکہ وہ تیز روشنی والی ایک چاند نی رات تھی۔ پھر میں اس نوجوان کے قریب ہوا اور اسے سلام کیا ۔اس نے میرے سلام کا جواب دیا تو میں نے اس سے پوچھا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں برکت دے اور تم پر رحم فرمائے تم کون ہو؟‘‘اس نے جواب دیا : ’’میں راشدبن سلیمان (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان)ہوں۔‘‘تو میں نے انہیں پہچان لیاکیونکہ میں ان کے بارے میں سن چکاتھا۔پھر میں نے ان سے کہا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے کیا آپ مجھے اپنی صحبت میں رہنے کی اجازت دیں گے تا کہ میں آپ سے اُنس حاصل کر سکوں۔‘‘ تو انہوں نے کہا : ’’ہائے افسوس ! ہائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع