30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرنے سے پہلے ایمان نصیب ہوگیا :
حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی سے منقول ہے کہ میں ایک مجوسی کی موت کے وقت اس کے پاس گیا ۔اس کا گھر میرے گھرکے قریب تھا ، وہ اچھا پڑوسی، اچھی سیرت والا او ر خوش اخلاق انسان تھا۔ میری خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت ہدایت قبول کرنے اور حالت ِ اسلام میں مرنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔ میں نے اس سے پوچھا : ’’تُوکیسا محسوس کررہا ہے ؟ تیرا کیاحال ہے ؟‘‘اس نے جواب دیا : ’’میرا دل بیمار ہے ، میں صحت مندبھی نہیں ، بدن کمزور ہے طاقت بالکل نہیں ، قبر و حشت ناک ہے اور کوئی ہمدرد بھی نہیں ، سفر طویل ہے اور میرے پاس توشہ نہیں ، پل صراط بہت باریک ہے اور میرے پاس اجازت نامہ بھی نہیں ، آگ شعلہ زن ہے اور میرا بدن کمزور ہے ، جنت بلند مرتبہ مقام ہے اور میرا اس میں کوئی حصہ نہیں اور پروردگار(عَزَّ وَجَلَّ )عادل ہے اور میرے پاس کوئی حجت وعذر نہیں۔‘‘
حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں کہ میں نے (دل ہی دل میں )اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس مجوسی کے مسلمان ہوجانے کی دعا کی۔ پھر میں اس مجوسی کے قریب آیا اور اس سے پوچھا کہ تم سلامتی پانے کے لئے مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے ؟‘‘ اس مجوسی نے کہا : ’’چابی تو فَتَّاحْ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس ہے ، پھر اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے کہاکہ یہاں قفل(تالا) لگا ہوا ہے ۔‘‘ یہ کہنے کے بعداس پرغشی طاری ہوگئی اور وہ بے ہوش ہوگیا۔
حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہ ِ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ میں عرض کی : ’’ اے میرے اللہ !میر ے آقا ! میرے مولا عَزَّ وَجَلَّ ! اگر تیرے پاس اس کا کوئی اچھا عمل باقی ہے تو اس کی روح کے نکلنے اور امید ٹوٹ جانے سے پہلے اس کا بدلہ اسے جلد عطا فرما۔‘‘تو اسے غشی سے افاقہ ہو اآنکھیں کھولیں اورمیری طر ف متوجہ ہوکر کہنے لگا : ’’اے شیخ !فَتَّاح عَزَّ وَجَلَّ نے چابی بھیج دی ہے ، اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں گواہی دوں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہی اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی اور وہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت میں غوطہ زن ہوگیا۔
یَاثِقَتِیْ یَا اَمَلِیْ اَنْتَ الرَّجَااَنْتَ الْوَلِیْ
اِخْتِمْ بِخَیْرٍ عَمَلِیْ وَحَقِّقِ التَّوْ بَۃَ لِیْ
قَبْلَ حُلُوْلِ اَجَلِیْ وَکُنْ لِیْ یَارَبِّ وَلِیْ
ترجمہ : (۱)اے میرے اعتماد! اے میری امید!تُو ہی میری خواہش ہے اورتُوہی میرا مددگار ہے ۔
(۲)میری زندگی کاخاتمہ نیک اعمال پر فرما ، اورمجھے تو بہ کی توفیق دے ۔
(۳)قبل اس کے کہ مجھے موت آلے ، یارب عَزَّ وَجَلَّ !تُوہی میرا مددگار ہے ۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ غفلت کیسی؟ حالانکہ تمہیں کئی مرتبہ سمجھایا جاچکا ہے ، … یہ حیرت کیسی ؟ تمہیں تومہلت دی جاچکی ہے ، … یہ بے ہوشی کیوں ہے ؟ حالانکہ تم چیختے چلاتے ہو ، … یہ سکون کیوں ہے ؟ تم سے تو حساب لیا جائیگا، …یہ دل لگی کیوں ؟تم نے تو کُوچ کرجانا ہے ، … کیا سو نے والوں کے لئے ابھی وقت نہیں آیا کہ وہ بیدار ہوجائیں ، … کیا بندگان ِغفلت پر ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ نصیحت پکڑیں ، …یاد رکھو کہ اس دنیا میں ہرشخص مسافر ہے لہذا اپنے لئے ایسے عمل کرو جو تمہیں قیامت کے دن جہنم کے عذاب سے نجات دلاسکیں۔
آنَ الرَّحِیْلُ فَکُنْ عَلٰی حَذَرٍ مَاقَدْ تَرٰی یُغْنِیْ عَنِ الْحَذَرِ
لَاتَغْتَرِرْ بِالْیَوْمِ اَوْ بِغَدٍ فَلِرُبَّ مَغْرُوْرٍ عَلٰی خَطَرِ
ترجمہ : (۱)کُوچ (یعنی موت)کا وقت آ پہنچا ، کچھ اس کے لئے فکر کرکہ تو نے بے خوف کردینے والی چیزوں کو نہیں دیکھا ۔
(۲)آج یاکل پرگھمنڈ نہ کر کیونکہ بہت سے گھمنڈکرنے والے خطرہ سے دوچارہیں۔
حضرت ِ سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا سری سقطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَلیہروقت وظائف واوراد میں مشغول رہتے تھے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع