30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الاولیاء ، احمد بن ابی الحواری، الحدیث۱۴۳۲۳، ج۱۰، ص۱۴)
شہنشاہِ نبوّت، مخزنِ جودوسخاوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت ِ سیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی طر ف وحی بھیجی کہ’’ اے داؤد (عَلَیْہِ السَّلَام )! گنہگاروں کو خوشخبری دے د و اور صدیقین کو ڈرسناؤ۔‘‘ تو حضرت سیدناداؤد عَلَیْہِ السَّلَام کو اس بات پر بڑاتعجب ہوا، تو انہوں نے عرض کی : ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ میں گنہگاروں کوکیا خوشخبری دوں اور صدیقین کو کیا ڈرسناؤں ؟‘‘
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا : ’’ اے داؤد (عَلَیْہِ السَّلَام )! گنہگاروں کو یہ خوشخبری سنا دو کہ کوئی گناہ میری بخشش سے بڑا نہیں اور صدیقین کو اس بات کا ڈرسناؤ کہ وہ اپنے نیک اعمال پر خوش نہ ہو ں کیونکہ میں جس سے بھی اپنی نعمتوں کا حساب لوں گاوہ تباہ وبرباد ہوجائے گا۔ اے داؤد(عَلَیْہِ السَّلَام ) ! اگر تو مجھ سے محبت کرنا چاہتاہے تو دنیا کی محبت کو اپنے دل سے نکال دے کیونکہ میری اور دنیا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ اے داؤد(عَلَیْہِ السَّلَام ) ! جو مجھ سے محبت کرتاہے وہ رات کو میرے حضور تہجدادا کرتاہے جبکہ لوگ سورہے ہوتے ہیں ، وہ تنہائی میں مجھے یاد کرتاہے جبکہ غافل لوگ میرے ذکر سے غفلت میں پڑے ہوتے ہیں ، وہ میری نعمت پر شکراداکرتا ہے جبکہ بھولنے والے مجھ سے غفلت اختیار کرتے ہیں۔‘‘(حلیۃالاولیاء ، عبدالعزیزبن ابی رواد، رقم ۱۱۹۰۶، ج ۸، ص ۲۱۱ ۔الیٰ قولہ الاھلک )
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
طُوْبٰی لِمَنْ سَھِرَتْ بِاللَّیْلِ عَیْنَاہُ وَبَاتَ فِیْ قَلَقٍ مِنْ حُبِّ مَوْلَاہ
وَقَامَ یَرْعٰی نُجُوْمَ اللَّیْلِ مُنْفَرِدًا شَوْقًا اِلَیْہِ وَعَیْنُ اللہِ تَرْعَاہ
ترجمہ : (۱)خوشخبری ہے اس کے لئے جس کی آنکھیں رات کو جاگتی ہوں اوروہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں بے قراررات گزارتاہو۔
(۲)اوروہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ملاقات کاشوق لئے ستاروں کے چھپنے کاانتظارکرتے ہوئے تنہائی میں قیام کرتاہے ، اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نگاہ ِرحمت اس کی طر ف متوجہ رہتی ہے ۔
سَرکارِ والاتبار، دوعالَم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے کہ’’ نیکی پرُانی نہیں ہوتی اور گناہ بھلایا نہیں جاتا ، جزاء دینے والا (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ )کبھی فنانہیں ہوگا، لہذا جو چاہے کر، تو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔‘‘ (المصنف للامام عبدالرزاق ، کتاب الجامع باب الاغتیاب والشتم ، رقم ۲۰۴۳۰ ، ج ۱۰ ، ص ۱۸۹)
اے اسلامی بھائی ! کیا تجھے معلوم ہے تو نے کیا کردیا ہے ؟ تونے قربت کو دُوری کے بدلے ، عقل کو خواہشات کے بدلے اور دین کو دنیا کے بدلے بیچ دیا ہے ۔
قُمْ فَارْثِ نَفْسَکَ وَابْکِھَا مَادُمْتَ وَابْکِ عَلٰی مَھَلْ
فَاِذَا اتَّقَی اللہَ الْفَتٰی فِیْمَا یُرِیْدُفَقَدْکَمَلْ
ترجمہ : (۱)اُٹھ (یعنی تیارہوجا)اوراپنے نفس پر افسوس کراورجب تک توزندہ رہے اس پرروتارہ اور اپنے راحت وآرام پر آنسوبہا، (۲)کہ جب کوئی نوجوان اپنی نفسانی خواہشات کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتا ہے ، تو وہ (ایمان میں)کامل ہوجاتا ہے ۔
حضرت ِ سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ مَحبوبِ ربُّ العزت، مُحسنِ انسانیتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے کہ ’’جباللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی بندے کی مغفرت فرمانا چاہتاہے تو اسے گناہ سے روک دیتاہے اور جباللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی بندے کاعمل قبول کرنا چاہتاہے تو اسے نیک عمل کی طرف مائل کر دیتاہے ۔ ‘‘
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ سیِّدُالمبلغین، رَحْمۃٌلّلعالَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے : ’’توبہ کرنے والے جب اپنی قبر وں سے نکلیں گے تو ان کے سامنے سے مشک کی خوشبو پھیلے گی ، وہ جنت کے دستر خوان پرآکر اس میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع