30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک مرتبہ سرکارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہ ، صاحب معطر پسینہ، باعثِ نزولِ ِسکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ایک صحابی کے قریب سے گزرے ، وہ صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پنے غلام کومار رہے تھے جب سر کارِ اَبد ِقرار، شفیع ِروزِ شمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے غلام کی چیخ وپکار سنی تو ان صحابی کے پاس تشریف لے آئے ، انہوں نے نبی ٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو دیکھا تو رُک گئے اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌعنِ العُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ اس نے تمہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا واسطہ دیا تو تم نے اسے معاف نہ کیا تو مجھے دیکھ کر کیوں رُک گئے ؟‘‘ صحابی نے عرض کیا : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکو گواہ بناتا ہوں کہ یہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے آزاد ہے ۔‘‘ تونور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس سے فرمایا : ’’اگر تم ایسا نہ کرتے تو جہنم تمہارا چہرہ جلادیتی۔‘‘(رواہ مسلم ، کتاب الایمان ، باب صحبۃالممالیک ، الحدیث ۱۶۵۹، ص۹۰۵ بنحوہ)
بہت زیادہ قسمیں اٹھا نے کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کاسامنا کرنے سے بچو،
کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے :
وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ (پ۲، البقرۃ : ۲۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو۔
اسرائیلیاتمیں ہے کہ حضرت موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے عرض کی : ’’یارب عَزَّ وَجَلَّ !جوتیرے نام کی جھوٹی قسم اٹھائے اس کی سزاء کیا ہے ؟‘‘ فرمایا : ’’میں اس کی زبان کو آگ کے دوانگاروں کے درمیان پاٹ دو ں گا۔ ‘‘عرض کیا : ’’یارب عَزَّ وَجَلَّ ! تو جو جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال لوٹ لے اس کی سزا کیاہے ؟‘‘ فرمایا : ’’ میں جنت سے اس کا حصہ کا ٹ دو ں گا ۔‘‘
عظمت ِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ سے ناواقف :
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کاارشادِ پاک ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اس بات کااِذن دیا ہے کہ میں حاملین عرش میں سے ایک فرشتے کا تذکرہ کرو ں ، اُس کے قدم سب سے نچلی زمین میں گڑے ہوئے ہیں اور اس کی گردن عرش سے متصل ہے ، وہ اپنا سر اٹھا کر عرض کرتاہے : ’’یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ !تو کتنا عظیم ہے ۔‘‘تواللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : ’’جو میرے نام کی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے وہ میری عظمت کو نہیں جانتا ۔‘‘
( رواہ الحاکم ، کتاب الایمان ، باب تسبیح دیک رجلاہ۔۔۔الخ ، الحدیث، ۷۸۸۳، ج ۵، ص۴۲۲ بنحوہ وبتصرفہ)
شراب پیناکبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑاگناہ ہے ۔ اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرمایا کرتے تھے : ’’ جو شخص شراب کاایک گھونٹ پئے گا اس کے سات دن کی نماز یں اور روزے قبول نہیں ہوں گے ۔‘‘
(رواہ احمد فی مسندہ ، الحدیث ۶۶۵۵، ج۲، ص۵۸۹، بلفظ صلاۃ اربعین صباحاً، ولم یذکر ’’لم یقبل۔۔۔‘۔‘الخ)
یاد رکھو! شراب نوشی میں دس بری خصلتیں ہیں :
(۱)یہ بندے کی عقل میں فتور ڈال دیتی ہے اس طرح وہ بچو ں کے لئے تماشااور مذاق بن جاتاہے ۔امام ابن ابی الدنیا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’میں نے ایک شرابی کو پیشاب کرتے ہوئے دیکھا وہ اپنے منہ پر پیشاب مل رہاتھا اور کہہ رہاتھا : ’’ یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے کثرت سے تو بہ کرنے والوں اور پاکیز ہ رہنے والوں میں شامل فرما۔‘‘
مزید فرماتے ہیں : ’’ میں نے نشے میں مدہوش ایک شخص کو دیکھا جس نے قے کی تھی اور کتا اس کامنہ چاٹ رہاتھا تو وہ نشہ کرنے والا اس سے کہہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع