30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ایک غلام نے ایک طشت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ دھلواتے ہوئے ان پر پانی بہایا تو وہ پانی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے کپڑوں پر بھی جاگرا، امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے تیز نظر ں سے دیکھا ، غلام نے یہ کہنا شروع کیا : ’’میرے آقا! وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ( اور غصہ پینے والے ) (ابھی اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ)آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : ’’ میں نے اپنا غصہ پی لیا۔‘‘غلام نے پھرکہا : ’’ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِط(اورلوگوں سے در گزر کرنے والے ) ‘‘آپ نے فرمایا : ’’میں نے تجھے معاف کیا۔‘‘غلام نے عرض کی : ’’ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں )(پ ۴، آل عمران : ۱۳۴ )
تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : ’’ جا، تواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے آزاد ہے اور میرے مال میں سے ایک ہزار دینار تیرے ہیں۔ ‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں ’’کہ حافظ قرآن کو چاہئے کہ وہ اپنی رات کی وجہ سے پہچانا جائے جبکہ لوگ سو رہے ہوں اور دن کی وجہ سے پہچانا جا ئے جبکہ لوگ کھا پی رہے ہوں اور غمزدہ ہو جبکہ لوگ خوش ہوں اور وہ رورہاہو جبکہ لوگ ہنس رہے ہوں اور خاموش ہو جبکہ لوگ باہم اُلجھ رہے ہوں اور وہ خشوع میں ہو جبکہ لوگ مغرور ہوں ، حافظ قرآن میں یہ خوبیاں بھی ہونی چاہئیں کہ وہ بد اخلاق نہ ہو، غافل نہ ہو ، شور نہ کرے ، نہ سخت مزاج ہو اورنہ دھتکارنے والا ہو ۔‘‘
بعض بزرگو ں نے فرمایا : ’’اپنی زندگی میں پانچ چیزو ں کو غنیمت جانو ۔
(۱) اگر موجود رہو تو پہچانے نہ جاؤ ۔
(۲)اگر غائب رہو تو تلاش نہ کئے جاؤ۔
(۳)اگر حاضر رہو تو تم سے مشورہ نہ کیا جائے ۔
(۴)اگر تم کوئی بات کہو تو اس کو قبول نہ کیا جائے ۔
(۵)اگر تم کوئی اچھاعمل کربیٹھو توخودپسندی میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔
مزید پانچ چیزوں کی وصیت کرتے ہیں۔
(۱)اگرتم پر ظلم ہو تو تم ظلم نہ کرو۔
(۲)اگر تمہاری تعریف کی جائے توتم خوش نہ ہو۔
(۳)اگر تمہاری برائی بیان کی جائے تو تم پریشان نہ ہو۔
(۴)اگر تمہیں جھٹلایا جائے تو تم غصے میں نہ آؤ۔
(۵)اگر تمہارے ساتھ خیانت ہوجائے تو تم خیانت نہ کرو۔‘‘
سُود، چوری، خیانت اور شراب نوشی کا وبال
پیار ے اسلامی بھائی !
جان لے ! سود ہلاکت میں ڈال دینے والے گناہوں میں سے ایک ہے اور یہ تاریک رات میں کسی چٹان پر چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ مخفی ہے اور سود کاادنیٰ درجہ یہ ہے کہ سود لینے والا اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنے والے کی طرح ہے اور ماں کے ساتھ زنا کرنا غیر عورت سے زنا کرنے سے ستر درجہ بڑاگناہ ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع