30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باعث ہوتی ہیں۔(شعب الایمان ، باب فی حافظ اللسان ، فصل فی فضل السکوت عمالایعنیہ ، رقم ۴۹۳۳، ج۴ ، ص ۲۴۰۔۲۴۱، )
عقل مند اور جاہل کے کلام میں فرق :
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌعنِ العُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذیشان ہے کہ عقلمند کی زبان اس کے دل کے تا بع ہوتی ہے لہذا جب وہ گفتگو کا ارادہ کرتاہے تو اپنے دل سے مشورہ کرتا ہے اگروہ بات اس کے حق میں بہتر ہوتی
ہے تو وہ بولتا ہے اور اگر اس کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے تو بات کرنے سے رُک جاتاہے اور جاہل کادل اس کی زبان کے تابع ہوتا ہے اس لئے اس کے جی میں جو آتا ہے وہ بولتا رہتا ہے ۔‘‘(کتاب الزھد لابن المبارک ، باب حفظ اللسان ، ر قم ۳۹۰ ، ص ۱۳۱بتصرفٍ ومن قول الحسن بصری ۱۶۹)
سرکارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہ ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول ِسکینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ پاک ہے : ’’ آدمیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکی ایک بات کہتاہے اوراسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ بات اسے کہا ں تک پہنچا دے گی مگراللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی وجہ سے قیامت تک کے لئے اس کے لئے اپنی رضا لکھ دیتاہے ۔‘‘(المؤ طا للامام مالک ، کتاب الکلام ، ما یؤمر بہ۔۔۔الخ ، الحدیث ۱۸۹۹ ، ج۲، ص۴۶۴ بتصرفٍ)
حضورنبی ٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی لاپرواہی سے کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جواسے جہنم کی آگ میں گرادیتی ہے اور آدمی کوئی بات کہتا ہے جسے وہ اہمیت نہیں دیتامگراللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بات کی وجہ سے اسے جنت تک بلند فرما دیتا ہے ۔‘‘(المؤ طا للام مالک ، کتاب الکلام، ما یؤ مر بہ۔۔۔الخ ، رقم ۱۸۹۹ ، ج۲، ص۴۶۴ بتصرفٍ)
میرے بھائی!
عُجب یعنی خود پسندی کی آفت سے بچتے رہو کیونکہ یہ آفت ہر صورت میں مذموم ہے خواہ جان پر ہو یاقول وفعل پر اور اپنے قول وفعل سے دھوکا مت کھاؤ۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲) (پ ۲۷، النجم : ۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان : توآپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتاہے جوپرہیز گار ہیں۔
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کاارشادِ پاک ہے : ’’ تین چیزیں ہلاکت میں ڈال دیتی ہیں۔
(۱)حرص وطمع میں گم رہنا۔
(۲) نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا۔
(۳)بندے کاخودکواچھاسمجھنا۔‘‘(المعجم الاوسط ، الحدیث ۵۷۵۴، ج۴، ص۲۱۲)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌعنِ العُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے : ’’ اگر تم گنا ہ نہ کرو تو مجھے تم پر گناہ سے سخت تر شئے خودپسندی کا خوف ہے ۔‘‘(الترغیب والترھیب، کتاب الادب وغیرہ ، باب الترغیب فی التو افع۔۔۔۔ الخ ، رقم ۴۳، ج۳ ، ص ۳۵۸ بتصرفٍ)
حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھاگیا : ’’ آدمی گنہگار کب بنتاہے ؟‘‘فرمایا : ’’جب وہ خود کو نیک سمجھنے لگتاہے ۔‘‘
حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ’’ہلاکت دو چیزو ں میں ہے : (۱)مایوسی (۲) خود پسندی ۔‘‘
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان دو نو ں آفتو ں کو اس لئے جمع فرمایا کہ مایوس آدمی اپنی مایوسی کی وجہ سے سعا دت کے حصول سے محروم رہتاہے جبکہ خود پسندآدمی یہ گمان کرتے ہوئے سعادت کے حصول کی کوشش نہیں کرتا کہ وہ اسے پاچکاہے ۔
حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے بارے میں مروی ہے ، ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا : ’’ میں پختہ علم والوں میں سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع