30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے یارومدد گار چھوڑتاہے ۔‘‘(صحیح مسلم ، کتاب البر و الصلۃ والآداب ، باب تحریم الظلم ، رقم ۲۵۸۰، ص ۱۳۹۴)
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمان فرد واحد کی طر ح ہیں جب اس کے سرمیں تکلیف ہو تو بخار اور بے آرامی میں سارا جسم اس کا شریک ہوجاتا ہے ۔‘‘(صحیح مسلم ، کتاب البر و الصلۃ والآداب ، باب تراحم المؤمنین ۔۔۔۔الخ ، رقم ۲۵۸۶، ص ۱۳۹۶)
سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے : ’’ جو سلامت رہنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ خاموش رہنے کو لازم پکڑ لے ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی حفظ اللسان ، فصل فی فضل السکوت عمالا یعنیہ ، رقم ۴۹۳۷، ج۴ ، ص ۲۴۱)
حضرت سیدنامعا ذبن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی : ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم سے ہماری گفتگو کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ اے ابن جبل! تمہاری ماں تمہیں روئے ، لوگوں کو ان کی زبان کی لغزشیں ہی ناک کے بل جہنم میں ڈالیں گی۔‘‘(رواہ ابن ماجہ ، کتاب الفتن ، باب کف اللسان فی الفتنۃ، رقم ۳۹۷۳، ج ۴، ص۳۴۳ بتصرفٍ)
حضرت عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے پوچھا گیا : ’’ہمیں ایسا عمل بتائیے جسے کرنے سے ہم جنت میں داخل ہوجائیں۔‘‘تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا : ’’ کبھی نہ بولو۔‘‘ عرض کیا گیا : ’’ہم ایسا نہیں کرسکتے ۔‘‘فرمایا : ’’(پھر) اچھی بات کے علاوہ کچھ نہ بولو۔ ‘‘
نبی کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ اچھی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روکے رکھو اس طرح تم شیطان پر غالب آجاؤگے ۔‘‘
(الترغیب والترھیب ، کتاب الادب وغیرہ، باب الترغیب فی الصمت ۔۔۔الخ ، رقم ۲۹، ج۳ ، ص ۳۴۱)
بولنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو :
نبیٔ اَکرم ، شفیعِ معظَّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر بولنے والی زبان پر نگہبان ہے لہٰذا عقلمند کو چاہئے کہ بولتے وقت
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرے ۔ ‘‘ (کتاب الزھد لابن المبارک ، باب حفظ اللسان ، الحدیث ۳۶۷ ، ص ۱۲۵بتصرفٍ)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌعنِ العُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالی شان ہے : ’’ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ۔‘‘ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب الحث علی اکرام الجار۔۔۔الخ ، رقم ۴۸، ص ۴۴)
رسول ِ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بندے پر رحم فرمائے جو اچھی بات کہتاہے یا پھر خاموش رہتا ہے ۔‘‘
(کتاب الزھد لابن المبارک ، باب حفظ اللسان ، ر قم ۳۸۰ ، ص ۱۲۸بتصرفٍ و کشف الخفاء ، رقم۱۳۷۲، ج۱، ص۳۷۷، بدون عبداً )
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کاارشادِ پاک ہے کہ آدمی سے اکثرخطائیں اس کی زبان کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع