30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے سے زیادہ آسان ہے ۔
أَمَوْلَایَ اِنِّیْ عَبْدٌ ضَعِیْفٌ اَتَیْتُکَ اَرْغَبُ فِیْمَا لَدَیْکَ
اَتَیْتُکَ اَشْکُوْ مُصَابَ الذُّنُوْبِ وَھَلْ یُشْتَکٰی الضُّرُّ اِلَّااِلَیْکَ
فَمُنَّ بِعَفْوِکَ یَاسَیِِِِِِِّدِیْ فَلَیْسَ اِعْتِمَادِیْ اِلَّاعَلَیْکَ
ترجمہ : (۱)اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ !میں کمزوروناتواں بندہ ہوں ، تیری بارگاہ میں تیرے انعامات واکرامات کی امیدلئے حاضرہوں۔
(۲) تیری بارگاہ میں گناہوں کے مرض کی فریادلے کرآیاہوں ، اورمرض کی فریادتیری ہی بارگاہ میں کی جاتی ہے ۔
(۳)اے میرے مولا عَزَّ وَجَلَّ !عفوو درگزرفرماکر مجھ پراحسان کردے کہ میرا بھروسہ تجھی پرہے ۔
گنہ رضاکاحساب کیاوہ اگرچہ لاکھ سے ہیں سوا مگراے عفوتیرے عفوکانہ حساب ہے نہ شمارہے
اولیاء ے کا ملین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی میں سے جب ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا : ’’ اے میرے بیٹے ! میری وصیت غور سے سنو اوراس پر ضرو ر عمل کرنا۔‘‘ اس نے عرض کی : ’’بہت بہتر ابّاجان !‘‘ فرمایا : ’’بیٹے ! میری گردن میں ایک رسی ڈال کر مجھے محراب کی طر ف گھسیٹو اور میرے چہرے کوخاک آلودکردو ، اوریہ کہتے جاؤ : ’’ یہ اس شخص کا انجام ہے جس نے اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کی، اپنی نفسانی خواہشات کو ترجیح دی اوراپنے مالک کی اطاعت سے غافل رہا۔‘‘
جب ان کی اس خواہش کو پورا کر دیا گیا تو انہوں نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور عرض کی :
’’اے میرے معبو د، اے میرے آقا ومولا عَزَّ وَجَلَّ ! تیری بارگا ہ میں حا ضری کا وقت آپہنچا، …میرے پاس ایسا کوئی عذر نہیں جسے تیری بارگاہ میں پیش کر سکوں ، … مگر اے مولا عَزَّ وَجَلَّ ! میں گنہگارہوں اورتُو بخشنے والا ہے ، میں مجرم ہوں اورتُو رحم فرمانے والا ہے ، میں تیرابندہ ہوں اورتُو میراآقا ہے ، … میری عاجزی اورذلت پر رحم فرما کیونکہ گناہ سے بچنے اورنیکی کرنے کی قوت تُوہی عطافرماتاہے ۔‘‘
یہ کہنے کے بعد اس بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی روح قفس ِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ اسی لمحے گھر کے ایک کونے سے ایک آواز سنائی دی جسے گھر میں موجود تمام لوگوں نے سنا، مُنادِی کہہ رہا تھا : ’’اس بندے نے اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے خود کو ذلیل ورُسوا کیااور اسکی بارگاہ میں اپنے گناہو ں کا اعتراف کیا تو رب عَزَّ وَجَلَّ نے اسے اپنا قُرب عطا فرماکر اپنا مقر ب بنالیا اور جنت کواس کاٹھکانا بنادیا۔‘‘
{اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم }
اِلٰھِیْ اِنْ کُنْتُ الْغَرِیْقَ وَعَاصِیًا فَعَفْوَُکَ یَاذَا الْجُوْدِ وَالسَّعَۃِ الرَّحَبُ
بِشِدَّۃِ فَقْرِیْ ، بِاِضْطِرَارِیْ، بِحَاجَتِیْ اِلَیْکَ اِلٰہِیْ حِیْنَ یَشْتَدُّ بِیَ الْکُرَبُ
بِمَا بِیْ مِنْ ضُعْفٍ وَعِجْزٍ وَفَاقَۃٍ بِمَا ضَمَّنَتْ مِنْ وُسْعِ رَحْمَتِکَ الْکُتُبُ
صَلَاۃٌ وَتَسْلِیْمٌ وَرَوْحٌ وَرَاحَۃ ٌ عَلٰی الصَّادِقِ الْمَصْدُوْقِ مَا انْفَلَقَ الْحَبُّ
اَبِیْ الْقَاسِمِ الْمَاحِیِ الْاَبَاطِیْلِ کُلِّھَا وَاَصْحَابِہِ الْاَخْیَارِسَادَاتِنَا النُّجَبُ
ترجمہ : (۱)اے میرے معبود عَزَّ وَجَلَّ ! اگر چہ میں گناہوں (کے سمندر)میں غرق اور گنہگار ہوں ، مگراے جود وکرم اور و سیع رحمت والے !تیری بخشش اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے ۔
(۲)الٰہی عَزَّ وَجَلَّ ! جب میری تکالیف شدیدہوجاتی ہیں تومیں اپنی بے قراری، محتاجی اورحاجات کی شدت میں تیری ہی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہوں۔
(۳)اپنے کمزور ، عا جز اور فقرو فاقہ میں مبتلا ہونے کے سبب، کیونکہ تیری وسیع رحمت کے بیان میں کتابیں بھری پڑی ہیں۔
(۴)درودوسلام اورراحت وسکون ہوجناب صادق ومصدوق (یعنی سرکارمدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) پر جب تک دانے اُگتے رہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع