30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(مدرسہ عربیہ قادریہ نُوریہ نصیر القرآن بھنڈی میاں صاحب، تحصیل خیر پور، ضلع بہاولپور، پاکستان)
آج کے پُرفِتَن دور میں کہ جس میں ایک طرف بدعملی اور بے حیائی کا دور دورہ ہے۔ اور دوسری طرف اس بدعملی و بے حیائی کے کاموں کو عام کرنے کے لیے زیادہ ترالیکٹرانک میڈیا کا کردار ہے۔ ہم مبارک باد پیش کرتے ہیں قبلہ امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اور ان کے جملہ رُفقاء کو ، کہ جن کی کوششوں سے مَدَنی چینل کا آغاز ہوا اور الیکٹرانِک میڈیا کو دُرُست اور مثبت راہ دِکھلائی ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ مَدَنی چینل دیکھ کر اکثر لوگ راہِ ہدایت پاچکے ہیں ۔ہم دُعا گو ہیں کہ اللہ جَلَّ شَانُہٗ مَدَنی چینل کو دِن دُگنی را ت چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ مَدَنی چینل جاری کرنے والوں کو بہترین جزائے خیردے ، آمین۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(301) حضرت مولاناممتاز احمد فریدیمُدَّظِلُّہُ العَالِی
(امام و خطیب جامعہ مسجد غوثیہ، چشتیاں ، ضلع بہاولنگر، پاکستان)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی عالمگیر غیر سیاسی تحریک اہلسنّت وجماعت کی طرف سے مَدَنی چینل کا چلنا اُمتِ مُسلِمہ کے لیے بَہُت مُفید ثابت ہوا ہے جو قرآن و حدیث کی حُدُود کی پاسداری کرتے ہوئے فریضۂ تبلیغ انجام دے رہا ہے۔ میں نے دو تین مقام پر دیکھا ہے کہ عوام و خواص اکٹھے بیٹھے ہوئے مَدَنی چینل کو دیکھ کر درسِ قرآن اور درسِ حدیث سن کر اپنی اصلاح کررہے ہیں ۔ عورتیں گھروں میں بیٹھ کر فلمیں دِیکھنے کی بجائے مَدَنی چینل پرمُبلِّغین کا وعظ سن کر اپنی اصلاح کررہی ہیں ۔ اور اپنے بچوں کو گانے یاد کروانے کی بجائے نعت شریف کی ترغیب دے رہی ہیں ۔اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اس چینل کو سلامت رکھے گورنمنٹ آف پاکستان اس چینل کو ہمیشہ کے لیے اجازت دے تو اِنْ شَآ ء اللہ عَزَّوَجَلَّجرائم ملک سے خود بخود ختم ہوجائیں گے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(302) حضرت مولانا سید محمد قادریمُدَّظِلُّہُ العَالِی
(خطیبِ اعظم جامع مسجد غوثیہ ، فتح پور تھکیالہ نکیال، کشمیر)
نکیال فتح پور تھکیالہ آزاد کشمیرمیں دعوتِ اسلامی کا کام 1997ء میں ہماری جامع غوثیہ مسجد میں مدنی قافلوں کی برکت سے شروع ہوا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّتقریباً پورے فتح پور تھکیالہ میں پھیلتا ہی جارہا ہے۔ مَیں کافی عرصہ سے دعوتِ اسلامی کے پروگراموں میں جاتا ہوں ، بلکہ بین الاقوامی اِجتماع میں جا کر دعوتِ اسلامی کے کام کو دیکھا تو دِل باغ باغ ہوا ۔ تعداد مدینہ مدینہ، اِنتظام مدینہ مدینہ، مجالس کا قیام مدینہ مدینہ، مکاتِب کا کام مدینہ مدینہ، بلکہ وہاں کا کیا کہنا بس ہر طرف فیضان مدینہ ، حال ہی میں دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارہ مکتبۃ المدینہ کی کتابیں ’’ جدّالممتار ‘‘ اور ’’ بہارِ شریعت ‘‘ دِیکھی دِل بَہُت خوش ہوا۔ مَیں اکثر بیانات میں کہتا ہوں کہ یہ حضرت علامہ مولانا الحاج محمد الیاس عطارؔ قادری مُدَّظِلُّہُ العَالِی نے اوپن یونیورسٹیاں کھول دی ہیں ۔ بوڑھا ، نوجوان ہر ایک علمِ دِین آسانی سے حاصل کرسکتا ہے۔ کبھی درسوں کی صورت میں ، کبھی ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اجتماعات کی صُورت میں ، کبھی علاقوں میں دعوتِ اسلامی کی صورت میں ، کبھی مدنی قافلوں کی صورت میں ، کبھی حلقوں کے اندر اِجتماعات CDیا VCD کی صُورت میں ، تو کبھی بازار میں جگہ بہ جگہ درس دینے کی صورت میں، کبھی المدینہ لائبریری جگہ بہ جگہ (اور نکیال میں جامع غوثیہ مسجد کے سامنے تقریباً پونے تین سو نوجوان کُتُب لے کر جاتے اورپڑھتے ہیں ) کی صورت میں اور میلادالنبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دِنوں میں تو ہرطرف ایک بَہار کی صورت میں ، یقین کریں واقعی یہ بَہُت بڑا کام ہے مسلکِ حق اہلسنّت کا ، اِسی لیے میں کہتا ہوں :
اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں
اے دعوتِ اسلامی تیری دُھوم مچی ہو
اور باقی رہی سہی کسر مَدَنی چینل نے پوری کردی جگہ بہ جگہ T.Vپر آ کر ٹی وی کے خلاف جہاد سُبْحٰنَاللہ عَزَّوَجَلَّ، دھڑا دھڑ کفار کا اِسلام قبول کرنا ، بندہ اب گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر اہل خانہ و بچوں کا اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کیلئے ذِہن آسانی کے سا تھ بنا سکتا ہے اور بِالخصوص 66ممالک کے اندر دین اِسلام کا کام آسانی سے ہوگا۔اِنْ شَآ ء اللہ عَزَّوَجَلَّ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(303) حضرت مولانا محمد مظفر حُسین عاجزمُدَّظِلُّہُ العَالِی
(مہتمم دارالعلوم غوثیہ مہریہ صوت القرآن، تحصیل نکیال، کشمیر)
دعوتِ اسلامی جو راہِ عمل میں گامزن محبوبِ فطرت ہے لفظوں کے تَسلسُل کو محض رنگینیٔ بیاں کا اُسلوب دے کر جذبوں میں تغیّر پیداکردینا میرے نزدیک کسی اہمیت کا حامل نہیں ۔اسی طرح بِکھرے ہوئے گُلوں کی مُنتشِرپتیوں کو لامقصدیت میں جوڑ دینا ضیاع وقت کے مُترادِف ہے۔ خالقِ کائنات کے حُضُور دُعا گو ہوں کہ میری تحریر کو وہ تاثیر دے جو قلب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع