30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موجود رہے دوزانوں ہاتھ باندھ کر مودبانہ انداز اختیار کئے رکھا اور جب شارح بخاری علیہ رحمۃ الباری امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے آستانے پر دن کے وقت تشریف لائے تووہ منظر بھی قابل دید تھا۔آپ نے اور موجود اسلامی بھائیوں نے ان کی قدم بوسی کی سعادت حاصل کی ۔امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ خود ( نفل) روزے سے تھے مگرشارح بخاری اور ان کے ساتھ آنے والے علمائے اہلسنّت کو اپنے ہاتھوں سے کھانے کے تھال پہنچائے اورآخر تک آپ یوں ہی میزبانی کے فرائض انجام دیتے رہے جب رخصت کا وقت آیا تو تعظیم علماء میں برہنہ پا گھر سے باہرانہیں گاڑی تک چھوڑنے خود پہنچے۔ امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی علما ء سے عقیدت کا اندازملاحظہ کرنے کے قابل ہے جیسے گویا کہ آپ زبان حال سے فرمارہے ہیں : اس سے پہلے کہ مفتی صاحب تشریف لائیں میں خود چل کر ان کی دست بوسی کروں گا۔آپ فوراً ملاقات کیلئے روانہ ہوئے کیونکہ آپ علمائے کرام کے پاس خود چل کر حاضر ہونے کو سعادت سمجھتے ہیں ۔
اسی طرح مفتی اعظم پاکستان شیخ الحدیث مفتی عبد القیوم ہزاروی رحمۃ اللہ تعالی علیہ جامع نظامیہ رضویہ مرکز الاولیاء لاہورایک دن دورہ حدیث کی کلاس کے طلبہ کو پڑھا رہے تھے کہ امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ خود چل کر وہاں ملاقات کیلئے پہنچے۔تمام طلبہ نے آپ کا استقبال کیا اور مفتی صاحب نے اپنی مسند پر آپ کو بیٹھایاآپ نے اس قدر خوبصورت اور مؤدبانہ انداز میں ملاقات اور گفتگو کی کہ تمام طلبہ اور خود مفتی صاحب انتہائی متأثر ہوئے اور جوکچھ فرمایاوہ بیان سے باہر ہے۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت و علمائے اہلسنت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
علمائے کرام سے ملاقات کی خواہش
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب شہرِ ٹھٹھہ باب الاسلام سندھ میں عاشقان رسول کے ہمراہ مدنی قافلےمیں دعوت اسلامی کے مدنی رکنِ شوریٰ تشریف لے گئے اور وہاں پرحضرت مولانا ابو السراج طفیل احمد ٹھٹھوی دامت فیوضہم سے ملاقات کی اور ان کو اجتماع کی دعوت پیش کی انہوں نے دعوت قبول کرتے ہوئے اجتماع میں شرکت کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ پھر مدنی قافلے میں بھی سفراور امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات کی تمنا کا اظہار کیاآپ امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے طالب بھی ہو گئے باوجود اس کے کہ آپ حضرت عبد اللہ شاہ اصحابی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے مزار کی مسجد کے خطیب ، ایک سنی جامعہ کے مفتی اور شیخ الحدیث بھی ہیں ۔ جب وہ امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسے ملاقات کیلئے تشریف لائے تو امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ان کی تعظیم میں ان کی دست بوسی بھی کی اور فرمایا کہ میں تو خود آپ سے ملنے کا خواہش مند تھا آپ مجھے حکم کرتے میں خود آپ کے دولت خانے پر تشریف لے آتا۔
اسی طرح شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی منظور احمددامت فیوضہمایک دن دارالعلوم انجمن قمر الاسلام سلیمانیہ کلفٹن باب المدینہ کراچی میں تشریف لائے اور امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو معلوم ہوا تو فوراً عالم کی زیارت کی نیت سے رات ہی کو ان کی ملاقات کیلئے جا پہنچے، دست بوسی کی اور فرمایا کہ مجھے آپ سے ملاقات کا بہت اشتیاق تھاپھر انتہائی عقیدت کا اظہار فرمایا۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت و علمائے اہلسنت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ پرجس سال قاتلانہ حملہ ہوا ان دنوں آپ بارہ ماہ کے قافلے کی ترکیب میں مرکز الاولیاء لاہور میں تشریف فرما تھے اور عام ملاقات فرمایا کرتے تھے۔ایک بارحضرت مولانا خادم حسین رضوی دامت فیوضوہم مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ مرکز الاولیاء لاہور آپ سے ملاقات کی غرض سے تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ ایک لمبی لائن میں قطار درقطار کھڑے ہوئے ہیں ، سوچا کہ مجھے ملنا تو مشکل ہوجائے گا مگر پھر آپ بھی لمبی قطار میں کھڑے ہوگئے۔اچانک امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نظر ان پر پڑی کہ عالم دین قطار میں کھڑے ہیں لہٰذا آپ نے فوراًکھڑے ہوکرپاس بلایااور معذرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ساتھ بٹھا لیاپھر انتہائی عقیدت سے فرمانے لگے کہ آپ مجھے حکم فرمادیتے میں خود آپ کے پاس حاضر ہوجاتا۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت و علمائے اہلسنت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
علمائے کرام سے دعائیں کروانے کاذہن
جس وقت حضرت غزالی ٔزماں علامہ سیِّد احمد سعید کاظمی شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ حیات تھے امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ جب بھی مدینۃ الاولیا ملتان شریف تشریف لے جاتے تو آپ کی بارگاہ میں ضرور حاضری دیتے اور ان کی خوب دعائیں لیتے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے لیے اس میں بھی ترغیب ہے کہ علمائے کرام کی دعائیں لینے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے ۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت و علمائے اہلسنت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسی طرح جب کبھی پتہ چلتا کہ علمائے اہلسنّت میں سے کوئی عالم دین بیمار ہیں تو آپ وراً عیادت کی ترکیب بنایا کرتے جیسا کہ ایک مرتبہ حضرت علامہ مولانا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع