30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمائے گا۔
اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فتاویٰ رَضَویہ ج ۲۳ صفحہ۱۳ / ۱۴ پرنقل کرتے ہیں : ’’ اکابِر صِدِّ یْقِین نے فرمایا: ’’ اِنَّ لَنَاشَیْطَاناً لِیَقْرُبَنَا فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہٗ فَاعْتَزِلُوْا۔ ‘‘ یعنی ہم بھی بشر ہیں بشر کا سا غصہ ہمیں بھی آتا ہے جب اسے دیکھو تو ہمیں چھیڑونہیں بلکہ الگ ہٹ جاؤ۔ بہر حال عالم دین سے اس کی کسی خطا کی وجہ سے بد ظن ہوکر اسکی صحبت سے دوری اور اسکی مخالفت اپنے دین کیلئے زہر قاتل ہے ۔ چنانچہ مزید اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ فتاوی رَضَویہ ج ۲۳ص ۷۱۱ پرفرماتے ہیں : ’’ عالم کی خطا گیری (یعنی بھول نکالنا) اور اس پر اعتراض حرام ہے اور اسکے سبب رہنمائے دین سے کنارہ کش ہونا اور اِستِفادۂ مسائل چھوڑ دینا اسکے حق میں زہر ہے ‘‘ ۔
اَمیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : یاد رہے تعظیم صِرْف عُلَمائے اہلسنّت ہی کی کی جائے گی۔رہے بد مذہب عُلَمائ (یعنی عُلمائے سُوئ) تو ان کے سائے سے بھی بھاگے کہ ان کی تعظیم حرام، اُن کی تقریر سُننا ، ان کی کُتُب کا مُطالَعہ کرنا اور ان کی صُحبت اختیار کرنا حرام اور ایمان کیلئے زہرِہَلاہَل (ہلاک کردینے والا ) ہے۔
( ملفوظاتِ عطاریہ حصہ ششم ص8)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
اسلام میں عُلَمائے حق کی اھمیّت
میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!امیر اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ایک جگہ تحریرفرماتے ہیں کہ اسلام میں علَمائے حق کی بَہُت زیادہ ا ہَمِیَّت ہے اور وہ علمِ دین کے باعِث عوام سے افضل ہوتے ہیں ۔ غیرِ عالم کے مقابلے میں عالِم کو عبادت کا ثواب بھی زیادہ ملتا ہے، چنانچہ حضرت محمد بن علیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے ، ’’ عالم کی دو رَکْعَت غیرِ عالم کی ستّر رَکعت سے افضل ہے، ‘‘ (کنزالعُمّال ج ۱۰ ص ۶۷ حدیث۲۸۷۸۳)
لہٰذا دعوتِ اسلامی کے تمام وابستگان بلکہ ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ علَمائے اہلسنّت سے ہر گز نہ ٹکرائیں ، ان کے ادب و احترام میں کوتاہی نہ کریں ، علَمائے اہلسنّت کی تحقیر سے قطعاگُریز کریں ، بِلا اجازتِ شرعی ان کے کردار اور عمل پر تنقید کرکے غیبت کا گناہِ کبیرہ، حرام اور جہنَّم میں لے جانے والاکام نہ کریں ، حضرتِ سیِّدُنا ابوالحَفص الکبیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَدِیْرفرماتے ہیں ، جس نے کسی عالِم کی غیبت کی تو قِیامت کے روز اُس کے چہرے پر لکھا ہوگا، یہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہے ‘‘ ۔ (مُکاشَفَۃُ الْقُلُوْب ص ۷۱)
حضرتِ سیِّدُنا ابو ذَرّ غِفار ی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، ’’ عالِم زمین پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حجت و دلیل ہے تو جس نے عالِم میں عیب نکالا وہ ہلاک ہوگیا۔ (کنزُ العُمّال ج ۱۰ ص ۵۹ حدیث۲۸۶۶۹)
اُن نادان لوگوں کو ڈَر جانا چاہئے جو بات بات پر علَمائے کِرام کے بارے میں توہین آمیز کلمات بک دیا کرتے ہیں ، مثَلاً بھئی ذرا بچ کر رہنا! ’’ عَلّامہ صاحب ‘‘ ہیں ، علَماء لالچی ہوتے ہیں ، ہم سے جلتے ہیں ، ہماری وجہ سے اب ان کا کوئی بھاؤ نہیں پوچھتا، چھوڑو چھوڑو یہ تو مولَوی ہے۔ (معاذَ اللہ عالِم کو بعض لوگ حقارت سے کہہ دیتے ہیں ) یہ مُلّا لوگ، علَماء نے (مَعاذَاللہ) سُنّیت کا کوئی کام نہیں کیا (بعض اوقات ناپسندیدَگی کا اِظہارکرتے ہوئے کہہ دیا جاتا ہے) فلاں کا اندازِ بیان تو مَولَویوں والا ہے، وغیرہ وغیرہ،
شریعت و علمائے دین کی تحقیر کے بعض کفریہ کلِمات و انداز کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں ، اگر مَعاذَ اللہ عَزَّوَجَلّکسی نے ماضی میں اپنے قول یافعل سے عالم کی بسببِ عالمِ دین توہین کرڈالی ہو تو وہ توبہ و تجدیدِ ایمان کرلے اور اگر شادی شدہ ہو تو تجدیدِ نکاح اور کسی کا مرید ہو تو تجدیدِ بیعت بھی کرے۔
شریعت کی توہین کرنا کفر ہے مثلاً کہا، میں شرع و َرع نہیں جانتا یا جس کو کسی محتاط عالمِ دین کا فتویٰ پیش کیا گیا اُس نے کہا: میں نے فتویٰ زمین پر پٹک دیا۔ (ماخوذاز بہارِ شَرِیْعت حصہ۹ ص ۱۷۲)
’’ مولوی کیا جانے! ‘‘ اِس (جملے) سے ضرورعلَماء کی تحقیر نکلتی ہے اور علَمائے دین کی تحقیر کفر ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ج ۶ ص ۲۴ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)
جو کہے مولوی سب بدمعاش ہیں یعنی سب علَماء کو بُرا کہے اُس پر حکمِ کفر ہے۔ (فتاویٰ امجدیہ ج ۴ ص ۴۵۴) یہ کہنا بھی کفر ہے کہ مولویوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔یہ کہنا کہ ’’ دین اللہ تعالٰی نے تو اتنا آسان اُتارا تھا، مولویوں نے مشکل کردیا ‘‘ کُفر ہے کیونکہ اَ لْاستِخْفافُ بِا لْاََشْرََا فِ وَالْعُلَمَاءِ کُفْر۔ ‘‘ (یعنی سادات و علَماء کی تخفیف و تحقیر کفر ہے) (مجمِعْ الْاَنھٰر ج ۲ ص ۵۰۹)
جو کہے: علَما جو علْم سکھاتے ہیں محض قصّے کہانیاں ہیں یا خواہشات ہیں یا محض دھوکہ ہیں یا کہا: میں حیلوں کے عِلم کا مُنکِر ہوں یعنی شریعت کو حیلہ کہا یہ تمام اقوال کفر ہیں ۔(فتاویٰ عالمگیری ج ۲ ص ۲۷۰) جو کہے: عِلْم کا کیا کروں گا جیب میں روپے ہونے چاہئیں ، ایسا کہنے والے پر حکمِ کفر ہے۔کسی نے عالِم سے کہا: ’’ جا اور علم کو کسی برتن میں سنبھال کر رکھ۔ ‘‘ یہ کُفر ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری ج ۲ ص ۲۷۱)
ایک مرتبہجب آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے عرض کی گئی تو کیا کیسے ہی بُرے عقیدے والا عالم ہو اُس کی بھی تعظیم کرنا ہوگی؟ فرمایا: ’’ جی نہیں ۔ یہ آداب صرف علَمائے حقّہ کے ہیں ۔ رہے علَمائے سُوء (یعنی بدعقیدہ علَماء ) توان کی توہین کرنا کارِ ثواب ہے۔ شیطان عالِم بلکہ بہت بڑا ’’ علّامہ ‘‘ تھا، مُعلِّم المَلکوت (یعنی فِرشتوں کی ایک جماعت کا استا د) تھا مگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع