30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عطا فرمائے، ان کا کام ان کا اپنانہیں دین کا کام ہے اور ہمارا کام ہے اور جو ہمارا کام ہے وہ دین کا کام ہے، وہ انجام دے رہے ہیں ۔ ہم سب کی طرف سے وہ مبارک کے بھی مستحق ہیں ۔ہم دعا کرتے ہیں اللہ تعالٰی انہیں عمر خضر عطا فرمائے اور ان سے دین کی خدمتیں لے۔
جس انداز میں آپ کی دعوت اسلامی کام کررہی ہے اس انداز میں ہم نہیں کرسکتے اسی لیے کہ عربی کا مقولہ ہے: لِکُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ ( ہر کام کے لیے الگ الگ آدمی ہوتے ہیں ) بس ہم تو یہی چاہ رہے ہیں کہ اہلسنّت کا جو فرد جہاں جو دین کا کام کررہاہے اللہ تعالٰی اسے کامیابی عطا فرمائے اور وہ دین کی خدمت کرتا رہے۔ حضرت مولانا الیاس قادری رضوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب ’’ غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ ان حضرات نے کئی دن پہلے مجھے دی ، میں نے اس کتاب کا مطالعہ کیا، یہ اپنے موضوع پر نہایت ہی موثر کتاب ہے۔ اس کتاب کوکوئی آدمی پڑھ لے، ایک بار نہیں دو بار تین بار پڑھ لے تو میں نہیں سمجھتا کہ از خود اس سے ساری غیبتیں چھوٹ نہ جائیں ، کتاب کا انداز اتنا موثر ہے کہ پڑھتے پڑھتے ایسا لگتا ہے کہ میری اپنی ساری کی ساری زندگی غیبت کرنے میں گزری ہے یا غیبت سننے میں گزری ہے۔ ہم اس قدر گناہ کے دلدل میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں یہ سوچ کربدن میں جھرجھری سی پیدا ہوتی ہے، دل غیبت سے متنفرہونے لگتا ہے، اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا، ہر مسلمان کا پڑھنا یا سننا بہت ضروری ہے۔ ایک دوسری کتاب ان حضرات نے مجھے پیش کی ’’ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب ‘‘ ۔ میں یہ کتاب پوری پڑھ تو نہیں سکا، جہاں جہاں کھول کر دیکھا ، کئی مقامات پر یہ کتاب مجھے بے پناہ اچھی لگی۔ اس میں حضرت مولانا صاحب نے ان کفریہ کلمات یا ان کفریہ اقوال و افعال کو جمع کردیاہے جو لوگ بے شعوری و بے خیالی میں بول ڈالتے ہیں یا ان کاموں کو کر گزرتے ہیں جن کو فقہا کرام نے کفر کہا ہے۔ لا علمی یا لا شعوری میں کوئی کچھ کر جائے تو خبر ہونے کے بعد اس سے دور ہونا ، توبہ کرنا، ندامت ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے میں سارے مسلمانوں سے کہوں گا کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں اور ان کفریہ کلمات و کفریہ افعال سے دور رہیں اور ان کفری کلمات اور کفری افعال کی طرح کے جو دوسرے کلمات اور افعال ہوں ان سے بھی پرہیز کریں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(1150) حضرت مولانا محمد یعقوب صدیقی نقشبندی مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(بانی دارالعلوم فیض الرحمن جونا گڑھ گجرات ہند)
دعوتِ اسلامی ایک عظیم کارنامہ انجام دے رہی ہے، اللہ پاک دعوتِ اسلامی کو بہت زیادہ دن گیارھویں رات بارھویں ترقی عطا فرمائے اور مدنی چینل خالص اسلامی چینل ہے۔ خلافِ شرعی کوئی کام اس کے اندر نہیں ہوتا ہے اور یہ وقت کی اہم ضرورت کو پورا کررہی ہے۔ میں نے بھی کئی مرتبہ دیکھابہت متاثر ہوا اور کافی لوگوں سے سنا کہ ایسے ایسے لوگ مدنی چینل کو دیکھ کر تائب ہوئے، بہت سے شرابی لوگوں نے شراب کو ترک کیا۔ دعوتِ اسلامی کے اس مدنی چینل سے بہت سارے فوائد ہیں اس کے لیے میں ان کو مبارکباد پیش کرتاہوں ۔ ہم ادارے کے ذمہ داران لوگوں نے طے کیا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کے دونوں اداروں میں مدنی چینل کو چلائیں گے تاکہ بچے اور بچیوں میں کردار کی تعمیر ہو۔ جتنے مدارس عربیہ ہند اور بیرون ہند چل رہے ہیں میں ان سے بھی گزار ش کرتا ہوں کہ وہ اپنے طلبہ کی کردار کی تعمیر کے لیے مدنی چینل کواپنے اداروں میں ایک پیریڈ دیں تاکہ طلبہ دیکھیں اور ان کے اندر انقلاب پیدا ہو اور کردار کی تعمیر ہو۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(1151) عزیز ملت حضرت مولانا الحاج شاہ عبدالحفیظ مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(جانشین حافظ ملت ، رئیس اعلیٰ الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، ہند)
دعوتِ اسلامی مسلک اعلیٰ حضرت جماعت اہلسنّت کی عظیم تحریک ہے جسے عالمی تحریک کا مقام حاصل ہوگیاہے ۔ یہ اللہ کا فضل و کرم اور بزرگو ں کی عنایتیں ہیں ۔ تحریک نے مختلف ممالک میں دین و سنیت کا کام مسلک اعلیٰ حضرت کی روشنی میں بہت ہی عظیم کیا ہے ۔ میں مبارک بادپیش کرتا ہوں کہ اپنے ان بزرگوں کو جنہوں نے اس تحریک کی بنیاد رکھی اور حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری صاحب کواس کا امیر بنایا۔ ان کی کوشش اور جدوجہد کی وجہ سے اس تحریک نے عالمی امتیاز حاصل کرلیا ہے اللہ کا فضل وکرم ہے۔ جہاں بھی یہ تحریک جاتی ہے غیروں کے قدم رک جاتے ہیں ، یہ بہت بڑی کامیابی اور سرفرازی ہے۔ ہماری دعائیں ہیں کہ پروردگارِ عالم اس تحریک کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطافرمائے اور ترقی میں جو بھی رکاوٹیں ہوں اس کو دور فرمائے ۔اس لیے کہ کوئی بھی تحریک جب آگے بڑھتی ہے تو مختلف رکاوٹیں اور پریشانیاں آتی ہیں لیکن حضرت عطار صاحب کے اخلاص ، جدوجہد اور للہیت سے ان کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے مشن کو آگے بڑھا نے میں پوری پوری کوشش کررہے ہیں ۔ میں پھر مبارک باد پیش کرتا ہوں ان حضرات کو جو اس تحریک سے وابستہ ہیں اور دین و سنیت کا پیغام گھر گھر تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں چاہے وہ مکتبہ کی شکل ہویا اجتماعی شکل ہو ، شکل جوبھی ہے، ہر شکل کو اختیار کرتے ہوئے اللہ کا فضل ہے کہ یہ حضرات اپنے مسلک کی اشاعت میں لگے ہوئے ہیں اور ان شاء اللہ تعالٰی اسی طریقے سے آگے بڑھتے اور منزلیں سر کرتے رہیں گے ہماری دعائیں ان کے ساتھ پہلے بھی رہی ہیں ، آج بھی ہیں ، ان شاء اللہ تعالٰی آئندہ بھی رہیں گی، الجامعۃ الاشرفیہ بنیادی طور پر دین کی اشاعت اور اس کی تبلیغ کے لیے قائم ہے۔ دین کی اشاعت اور تبلیغ یہ سب ہی کا کام ہے۔ دعوت و تبلیغ کے لیے اگر کوئی شعبہ یا کوئی تحریک مقرر کردی گئی ہے تو اس کے ساتھ تعاون کرنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ میں یہ امید رکھتا ہوں ہر مصباحی اس کی طرف قدم بڑھائے گا ان شاء اللہ ا ور کوشش کرے گا کہ اس تحریک کو آگے بڑھنے میں جو تعاون بھی ممکن ہو کرے۔ مدنی چینل کو شاید دو سال ہوئے ہیں آپ حضرات کا کام بہت پہلے سے ہے جو آپ نے گلی گوچوں میں چل پھرکے کام کیا ہے وہ بھی مدنی چینل ہی تھا بھلے مشینوں کے ذریعے نہیں تھا لیکن آپ کی جدوجہد ، کوشش اور چلت پھرت نے ثابت کردیا تھا کہ یہ سلسلہ مدینہ منورہ ہی سے ہے اور اسی کی برکتیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع