30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فکر کو دنیا کے ۳۵ ملکوں میں لے جاچکا ہوں ، دنیا کے پانچوں براعظم میں لے جاچکا ہوں ۔ بڑا مطمئن ہوں کہ جو خوشبو اعلیٰ حضرت نے پھیلائی ہے وہ مولانا الیاس قادری میں موجود ہے۔ عشقِ رسول ، تمنائے مدینہ، محبت میں ڈوبا ہوا ایک مزاج ، نہ صرف یہ کہ مولانا الیاس قادری صاحب سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے خلیفہ ہیں ، اسی بنیاد پر اعلیٰ حضرت کے خلیفہ کے خلیفہ ہیں یا اعلیٰ حضرت کے خلیفہ قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں ان سب اوصافِ حمیدہ سے ان کی شخصیت بڑھ جاتی ہے۔ سنیت پھیلانے کا جوش اور جوش میں بہت ہی خوبصورت ہوش وہ سب سے پہلے سنت اپنے اوپر نافذ کرتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ اس پر عمل کرو، سب سے پہلے وہ سنت کے سانچے میں اپنے کو ڈھالتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ سنت پر عمل کرو، اس کی تاثیر کا کچھ جواب نہیں ۔ میں دعا گو ہوں کہ مولا تعالیٰ اسے حسد حاسدین اور آشوب روزگار سے بچائے اور مولانا الیاس قادری کے علم و عمر میں برکت عطا ہو اور اہلسنّت و جماعت کو فیضانِ سنت سے فیض یاب ہونے کا شرف عطا ہو۔
اسلام پر اب جو حملے ہورہے ہیں وہ قلم و زبان سے کم اور میڈیا سے زیادہ ہورہے ہیں ۔ میڈیا کی مضبوطی کا یہ عالم ہے کہ ایک ہی بات کو ٹیلی ویژن پر بار بار سننے سے ، ایک جھوٹ کو سو مرتبہ سننے سے لوگ اس کو سچ سمجھنے لگتے ہیں ۔ کافر جب تلوار لے کر آتا تھا تو صحابہ (علیہم الرضوان) تلوار لے کر گئے ، جب دوسرے لوگ قلم لے کر آئے تو علماء قلم لے کر گئے۔سامنے والا جب میڈیا لے کر آپ پر حملہ کررہا ہے تو اس کا جواب میڈیا پر دیا جائے گا۔ مدنی چینل ہی اس کا ایک شرعی استعمال ہے جس پر شیخ الاسلام نے تقریباً پچیس ابواب پر کتاب قائم کی۔یہ بات ٹھیک ہے کہ بہت سی چیزوں کا استعمال غلط ہوتا ہے جیسے عورت کے سینکڑوں غلط استعمال ہیں مگر ایک شرعی استعمال بھی ہے کہ نکاح کرلو اسی طرح چینل کے بھی سینکڑوں استعمال ہیں لیکن صحیح استعمال یہ ہے کہ دین اور سنیت پھیلاؤ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(1145) حضرت مولانا احمد علی قصوری مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(ممتاز اسلامک اسکالر چیئرمین پنجاب قرآن بورڈ خطیب جامعہ مسجد ایوبیہ مرکز الاولیاء لاہور)
دعوتِ اسلامی کا قافلہ اور اس کے میر کارواں امیر اہلسنّت حضرت مولانا محمد الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ نے جس انداز میں دین کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا ہے اور کثیر الجہاد کام شروع کیا ہے وہ نہایت ہی لائق تحسین ہے۔ میں انہیں دو تین باتوں کو بطورِ خاص عرض کرنا چاہوں گا ۔ الیکٹرانک میڈیا کا جو دور ہے اسلئے مدنی چینل کی اہمیت اپنی جگہ پر واضح ہے اور اس کے کافی پروگرام اچھے ہیں ۔ ان میں سے بالخصوص گونگے اسلامی بھائیوں کا سلسلہ میرے نزدیک زیادہ اہمیت کا حامل ایک پہلو ہے۔
اسی طرح طالبات کے جامعات کا سلسلہ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو آج بیٹی ہے وہ کل بہو، بیوی اورپرسوں ترسوں مستقبل میں ماں ہوگی۔لہٰذا ایک بیٹی کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے زیور سے آراستہ کرناضروری ہے اس لیے کہ اس دور میں مادہ پرستانہ رجحانات بن گئے ہیں اور بدقسمتی سے مسلمان کہلانے والے گھرانے بھی بہت متاثر ہورہے ہیں ، توان حالات میں طالبات کے جامعات کا سلسلہ ہے نہایت ہی قابلِ قدر اور قابلِ تحسین ہے۔
دعوت اسلامی کا تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ایک طالب علم کی حیثیت سے مختلف تنظیمات کو دیکھتے پرکھتے ہوئے میری طویل عمر گزری ہے تواس لحاظ سے پروگرام کے ساتھ ساتھ ان کو عملی جامہ پہنانے کا نظام خاصا اہمیت کا حامل ہوتاہے کہ بہت سارے ایسے پروگرام بنالیے جاتے ہیں جو الفاظ کے اعتبار سے تو بڑے خوبصورت ہوتے ہیں لیکن جب ان کے اوپر عمل درآمد نہیں ہو پاتا تو نتائج نہیں ملتے لیکن ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ دعوت اسلامی کا جو بھی پروگرام ہوتا ہے اس پر عمل درآمد کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور اس کی برکات معاشرے و سوسائٹی میں یقیناً نمودار ہوتی ہیں اور ہورہی ہیں ۔ لاکھوں نہیں بلکہ اب تو بلا مبالغہ کروڑوں کی تعداد میں افراد متاثر ہورہے ہیں اور مدنی رنگ میں رنگے جارہے ہیں تو بلاشبہ یہ ایک ایسا کام ہے جو اس دور میں کیا جانا چاہیے تھا اور دعوتِ اسلامی کے بھائی اور بہنیں جو شب و روز اس کے اندر اپنا وقت صرف کررہے ہیں نہ صرف یہ کہ دنیا کی اسناد بلکہ یقینی طور پر آخرت کی اسناد بھی اکٹھی کررہے ہیں ، میں خراج تحسین پیش کرتاہو۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(1146) مترجم و مصنف کتب کثیرہ، شارح سلام رضاحضرت علامہ مولانا مفتی محمد خان قادری مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(مہتمم جامعہ اسلامیہ مرکز الاولیاء لاہور )
میں مدنی چینل کے قارئین اور خصوصاً مولانا الیاس قادری مدظلہ العالی کی خدمات کو ہمیشہ سراہتا ہوں اور خاص طور پر مدنی چینل کو اس موقع پر جبکہ دیگر چینل زپرعریانی اور فحاشی کے پروگرام چل رہے ہیں ان کی نسبت سراپا نیکی و عبادت پاتا ہوں ۔ اس چینل نے لوگوں کو یہ بھی تعلیم و تربیت دی ہے کہ فحاشی سے بچ کر بھی کام ہوسکتا ہے ۔پھر اس میں عملی دینی مذاکرے اور اسلام کی تعلیمات کی اشاعت کے لیے شب و روز محنت ہے۔ ہم سب ان کی خدمات کو سراہتے اور چاہتے ہیں ۔دعا گو ہوں کہ اور ترقی کریں ۔ دعوتِ اسلامی کے مخلص ہونے کی علامت ہے کہ انہوں نے ادارے قائم کردیئے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ کتابیں شائع کی ہیں اور بزرگوں کی کتابوں کے تراجم بھی ہو رہے ہیں ۔ میں خود اس بات کا قائل ہوں کہ ہمیں لوگوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہیے۔ آج کی امت کا رشتہ پچھلے اسلاف کے ساتھ جوڑنے کے لیے بزرگوں کی کتابوں کے تراجم کو سامنے لانا چاہیے۔ میں اس سلسلے میں خود تفسیر کبیر کا ترجمہ کررہاہوں ۔تیس جلدوں میں سے تیرہ کا ترجمہ ہو چکا ہے اور کچھ چھپنا بھی شروع ہوگئی ہیں ۔مجھے بہت سارے کام المدینہ العلمیہ سے آئے ہیں ۔ میں نے دیکھا ہے کہ حافظ ابن حجرکی کتاب الزواجر کا ترجمہ انہوں نے شائع کیا ۔ اسی طرح بہت سارے تراجم منظر عام پہ لارہے ہیں مجھے خوشی ہے کہ آپ اپنے ساتھ بھی لوگوں کا رشتہ جوڑرہے ہیں اور اس کے ساتھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع