30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی جارہی ہیں ۔ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ ان کے دامن سے وابستہ ہیں اور وہ اپنے اخلاص و محبت کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیاری پیاری سنتوں کو دل و دماغ میں خوشبوئے گل کی طرح اتاررہے ہیں اور آج جہانِ سنیت سے دعوتِ اسلامی کی بنیاد پر محبت رسول کی خوشبو پھوٹ رہی ہے۔ ہماری دعا ہے پرورگارِ عالم دعوتِ اسلامی کے فیضان کو جاری و ساری رکھے اور ہم فرزندانِ اشرفیہ، علمائے اہلسنّت سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ جہاں تک بھی ہو دعوت ِاسلامی سے تعاون کریں کیونکہ یہ تحریک دعوت و تبلیغ کے میدان میں اہلسنّت کے فروغ کے لیے بڑی بنیادی ضرورت کو پورا کررہی ہے۔ اللہ تعالٰی دعوتِ اسلامی کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اورحضرت علامہ مولانا الیاس قادری کے سایۂ کرم کوجماعت اہلسنّت کے سروں پر دراز فرمائے۔
(1139) حضرت علامہ مولانا مفتی بدر عالم مصباحی مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(مفتی جامعہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارکپور ، ہند)
جہاں تک مدنی چینل کے جواز او ر عدم جواز کی بات ہے یہ تو سب ہی لوگ جانتے ہیں کہ علمائے اہلسنّت کا ٹی وی اور چینل کے جواز اور عدم جواز کے سلسلے میں اختلاف ہے لیکن یہ علماء کا اختلاف اپنی تحقیقات کی بنیاد پر ہے۔ جو لوگ اس کے عدمِ جواز کے قائل ہیں ہم ان سے یہ نہیں کہتے کہ وہ جواز کا فتوی دیں وہ ان کی اپنی تحقیق ہے ہم ان کا احترام کرتے ہیں اور جو لوگ اس کے جواز کا فتوی دے رہے ہیں اس کی تائید کررہے ہیں وہ بھی ان کی اپنی تحقیق ہے وہ حالات کے پیش نظر اس کو ضروری سمجھ رہے ہیں ۔ علمائے اشرفیہ ، اکابر اشرفیہ دعوتِ اسلامی کے ہر قدم کی حمایت کرتے رہے ہیں ۔ الجامعۃ الاشرفیہ کے صدر شعبہ افتاء حضرت مفتی نظام الدین صاحب، مفتی بدر عالم مصباحی صاحب، مفتی نسیم صاحب، مفتی زاہد علی اسلامی صاحب وغیرہ نے چینل کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ مدنی چینل جو خرافات سے پاک ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ دنیا کا واحد چینل ہوگا جس میں اسلامیات اور سنیت کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ، کسی قسم کے غلط ایڈ بھی اس پر نہیں آتے ۔ بے شمار چینل وہ ہیں جو اسلام اور سنیت کی مخالفت کررہے ہیں تو جو بات اسلام اور سنیت کے خلاف چینل پر کہی جارہی ہے اس کا جواب ہم گلی کوچوں میں جلسے کرکے کبھی نہیں دے سکتے، حالات کا تقاضا یہی ہے کہ دعوت و سنیت کے فروغ کے لیے ہم چینل کا جواب چینل سے دیں گے تو جب ہی ہم کو کامیابی مل سکتی ہے اور ابھی مجھ سے ایک جگہ سوال کیا گیا کہ جناب یہ اسلام جو ہے میڈیا کی مخالفت کیوں کرتا ہے؟ دراصل میڈیا کی مخالفت اسلام نہیں کرتا بلکہ دنیا میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے سب سے پہلے میڈیا کی اہمیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ میرا پیغام ان تک پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ۔ اس حدیث پاک کا واضح مطلب یہی ہے کہ اسلام اور سنیت کا پیغام ہر ممکن حد تک دور تک پہنچایا جائے اور آج کے زمانے میں دنیا کے کناروں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے جو جدید ذرائع ابلاغ ہیں وہ الیکٹرانک میڈیا ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں الیکٹرانک میڈیا اسلام کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لیے اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، اس نعمت کو اگر آپ جائز طریقے سے استعمال کرتے ہیں تو جائز ہے اور کسی بھی چیز کا استعمال اگر آپ غلط کرتے ہیں تو اس کا استعمال ناجائز اور غلط ہوگا۔ آج مولانا الیاس قادری یا دعوتِ اسلامی نے انہی تبلیغی تقاضوں کے پیش نظر جو مدنی چینل شروع کیا ہے میں اس پرمبارکباد دیتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ اس کو زیادہ سے زیادہ کامیاب بنائیے اور اگر ہوسکے تو اتنا بڑا ہندوستان ہے، یہاں کے پروگرام بھی اس میں زیادہ سے زیادہ اس پر آنے چاہییں تاکہ اہل علم کی توجہ مدنی چینل کی جانب بڑھے اور اس سے زیادہ میں لوگوں تک یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ دوسرے چینل پر فلمیں ڈرامے اور اس قسم کی خرافات دیکھنے کے بجائے اپنے بچوں کو مدنی چینل دکھایا جائے اور جو لوگ اس سے پرہیز کرتے ہیں میں ان کو مجبور نہیں کرتا وہ بھی اپنی جگہ حق پر ہیں ۔ مدنی چینل ہی ایک ایسا چینل ہے جو خلافِ شرع امور سے پاک ہے جس میں عقائد ، اعمال صالحہ، مسلک اعلیٰ حضرت کے متعلق کاموں کی تفصیل بتائی جاتی ہے وضو غسل نماز کے طریقے سکھائے جاتے ہیں ۔ مدنی چینل دیکھنا جائز ہے، یہ مسلک اعلیٰ حضرت کے خلاف نہیں ۔
(1140) حضرت علامہ مولانا مفتی نسیم احمد مصباحی مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(مفتی و استاذ جامعہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارکپور ، ہند)
’’ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ‘‘ (کتاب) لکھنے پر میں امیر اہلسنّت مولانا الیاس عطارقادری مدظلہ العالی اور ان کے رفقا ئے کار کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ اب تک اس موضوع پر اردو بلکہ کسی زبان میں اتنا ذخیرہ ایک جگہ موجود نہیں تھا۔ انہوں نے اس کتاب کو ترتیب دے کر کے اہلسنّت پر بڑا احسان کیا ہے۔ اللہ تعالٰی انہیں ان کے رفقائے کار کو اسلام اور سنیت کی طرف سے بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔ میری گزارش ہے کہ زیادہ سے زیادہ اس کو عام کریں اور کالجوں میں بھی اس کو داخل کرانے کی کوشش کریں ، مدارس میں بھی طلبہ کو شوق دلائیں کہ اس کتاب کو پڑھیں ان شاء اللہ یہ ایسی کتاب ہے جو عالموں کے لیے بھی مفید ہے اور نو آموز مفتیان کرام کے لیے بھی۔
مجھ سے بار بار اور بہت ساری جگہوں پر یہ سوال کیا گیا کہ یہ لوگ خواب میں کبھی مدینہ دیکھتے ہیں تو کبھی کیا دیکھتے ہیں ۔ میں نے کہا: بھئی جو جس چیز میں رہے گا وہ وہی دیکھے گا۔میں مثال دیتا ہوں کہ کوئی کپڑا بیچتا ہے تو رات بھر قینچی چلاتا رہتا ہے اسی طرح کوئی تصور مدینہ کی یادوں میں بسا رہتا ہے تو ظاہر سی بات ہے اس کو خواب میں مدینہ نظر آئے گا ۔مدنی چینل کے بارے میں تو میرا اپنا نظریہ یہی ہے کہ آج کے حالات میں حاجت کا تحقق ہوچکا ہے۔ حاجت بھی ہمارے یہاں فقہی اصطلاح ہے ، اگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو بہت سارے لوگوں کے دین و ایمان، عزت و ناموس خطرے میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ اب تو بہت ضروری ہوگیا کہ ہمارے لوگ آئیں ورنہ موجودہ حالات اچھے خراب کا لوگ امتیاز ختم کردیں گے۔ اسلام عالمی مذہب ہے، پورے عالم میں ہمیں پہنچانا ہے ۔ظاہر بات ہے کہ مجھ میں یاابوبکر بھائی میں وہ سکت نہیں کہ پوری دنیا میں ہم جاسکیں ۔ اس لیے اسلام کے عالمگیر مذہب ہونے کا تقاضا ہے کہ الیکٹرونک میڈیا جو کہ اس وقت نعمتِ الٰہیہ ہے اس کو استعمال کیا جانا چاہیے اور اگراس کو استعمال نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب ہم لوگ بیٹھ کر اپنے کمرے میں ماتم کے سوا کچھ نہ کرسکیں گے۔ مدنی چینل سے متعلق مجھے بتایا گیا کہ اس پر ایڈ تک نہیں آتے کہ ایڈ آئیں گے تو لیڈیز آئیں گی۔ اس لیے یہ لوگ ایڈ نہیں لگاتے اور اس پر میوزک بھی نہیں ۔ مجھے حیرت ہے کہ اتنا بڑا چینل ایڈ کے بغیر کیسے چل رہا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ پروردگار عالم کا کرم ہے اور فیضانِ اولِیاءے کرام ہے کہ یہ چل رہا ہے اور اس کو باقی رکھنے کے لیے ہم اہل ثروت افراد سے گزارش کریں گے کہ اس کو اسی اسلامی رنگ ڈھنگ سے باقی رکھنے کے لیے آپ حضرات تعاون کریں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع