30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(38) حضرت مولانا صاحبزادہ سعید احمد شاہ مُدَّظِلُّہُ العَالِی
سرزمینِ پاکستان پر اللہ رب العزت کا فضل عظیم ہے کہ اس پر نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی سنتوں کو زندہ کرنے والا مجاہد موجود ہے۔ اس سے میری مراد فخر اہلِ سنت ، سراپا عجز و نیاز ہستی علامہ محمد الیاس قادری صاحب عطار ہیں ۔ جنابِ عطار وہ عظیم قافلہ سالار ہیں ، جنہوں نے نوجوانوں کی ز ندگیوں کا رخ سینما ہالوں ، فحش گیتوں ، شراب اور جوئے سے ہٹا کر عشقِ رسول صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کے نشے میں مخمور رہنے کی طر ف موڑ دیا۔بہت سے تھری پیس سوٹ پہننے والے، کلین شیو، جدت پسند نوجوانوں کو خوفِ خدا اور حبِ رسول صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کا درس دے کر ان کی زندگیوں میں ایسا انقلاب برپا کیا کہ وہ مسجدوں کو آباد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، ان کے سروں پر عمامے ہیں ، ان کے نورانی چہروں کے گرد داڑھیوں کا مبارک حلقہ ہے۔ وہ نہ صرف خود سنتِ رسول صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم پر عمل کرتے ہیں بلکہ دوسرے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو بھی اسلامی اطوار اپنانے کی تلقین کرتے ہیں ۔
اس طرح جن بیبیوں ، ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں تک یہ دعوت پہنچی وہ بھی سر پر دوپٹہ اوڑھنے لگیں ، باپردہ ہوگئیں اور دین کی تبلیغ و اشاعت کا فریضہ سر انجام دینے لگیں ۔دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اس عظیم ہستی کے علم و عمل میں لافانی برکتیں عطا فرمائے۔آمین بجاہ حبیبہ الکریم علیہ التحیۃ والتسلیم والسلام
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(39) حضرت مولانا پروفیسر حافظ عون محمد سعیدی مُدَّظِلُّہُ العَالِی
آدمی کی اصل پہچان اس کا کام ہوتا ہے، باقی تمام پہچانیں عارضی ہوتی ہیں ، نبیین ، صدیقین، شہداء اور صالحین اپنے علم و عمل کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں ، دنیا ان کا نام عزت و احترام سے لیتی ہے۔ فرعون، نمرود، ہامان، شداد اور قارون اپنی شیطانیت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں ، دنیا ان کا نام گالی کے طور پر استعمال کرتی ہے۔گویا آدمی کی شناخت اس کے عمل اور کردار کی وجہ سے ہے۔ اس دور میں ایسے افراد دنیا میں موجود ہیں جنہوں نے ملت کی رہنمائی کا فر یضہ سر انجام دیا اور مشرق و مغرب ان کے نام سے گونج اٹھے، مؤرخین نے ان کا نام زریں حروف سے لکھا اور پڑھنے والوں نے ان کے نام کو بے اختیار چوم لیا۔
ایسے ہی مقدس ناموں میں امیر اہل سنت ، امیر دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کا نام نامِی اسم گرامی بھی آتا ہے۔ بندہ نے اگرچہ آپ کی زیارت فقط ایک مرتبہ ہی کی ہے اور ملاقات کا موقع بھی نہیں ملا مگر ان کے علم و عمل کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کی ہستی وقت کی آواز ہے … ملت کی پکار ہے… آنکھوں کا نور ہے … دل کا سرور ہے… ٹوٹے دلوں کا سہارا ہے… اور مردہ دلوں کے لیے آبِ حیات ہے۔آپ کے نزدیک محبت و نفرت کے پیمانے دنیا سے نہیں دین سے تعلق رکھتے ہیں ، عزت و عظمت کا معیار دولت و ثروت نہیں ، شریعت و طریقت ہے، عروج و زوال کا سبب مادیت نہیں ، روحانیت ہے، یعنی آپ آیۂ کریمہ ’’ صِبْغَةَ اللّٰهِۚ- وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً٘-وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ(۱۳۸) ‘‘ (پ۱ البقرہ: ۱۳۸) (ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے اللہ کی رَیْنی (رنگائی) لی اور اللہ سے بہتر کس کی رَیْنی (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں ۔) کی عملی تفسیر ہیں ، پروفیسر ڈاکٹر مسعود صاحب اپنی کتاب شاعرِ صحبت میں اس آیت کے حوالے سے یوں رقم طراز ہیں ۔
’’ اللہ کا رنگ … اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ بہتر ہے !… یہ قرآن کا چیلنج ہے … اللہ کا رنگ جب چڑھتا ہے تو سارے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں … حسن پر ایک نیا شباب آتا ہے… ایک نیا نکھار آتا ہے… لا یزال ولا زوال … جس کو دیکھو کھنچا چلا آتا ہے… کوئی نفرت نہیں کرتا… سبھی محبت کرتے ہیں … سبھی دل نچھاور کرتے ہیں … لیکن دنیا کے رنگ ہوا کی طرح اڑ جاتے ہیں … ان کو قرار نہیں کہ دنیا کو قرار نہیں … وہ حی قیوم ہے… ابدی ازلی ہے، انتہی۔
حضرت امیر اہل سنت کی ذات والا صفات بے شمار حسین و جمیل خوبیوں کا مرقع ہے… پھول کی پنکھڑیوں کی طرح … ایک اٹھاؤ تو دوسری … دوسری اٹھاؤ تو تیسری …
کائناتِ حسن جب پھیلی تو لامحدود تھی
اور جب سمٹی تو تیرا نام ہو کر رہ گئی
اللہ تعالٰی امیر اہلسنّت کا سایہ ہم پر قائم و دائم رکھے، آپ کی ذات ، بیاباں کی شب ِ تاریک میں قندیل رحمانی
کی حیثیت رکھتی ہے، اور آپ کے زیر سایہ ہم سب کو دین کی ترقی و ترویج کے لیے تن من دھن وار نے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمحافظ عون محمد سعیدی
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(40) حضرت علامہ مولانا حلیم احمد اشرفی مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(استاذ جامعہ دار العلوم امجدیہ باب المدینہ کراچی)
سنجیدگی سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کی اصلاحِ احوال کے لیے بہت سی صورتیں اختیار کی گئیں اوراب بھی اپنے مزاج کے اعتبار سے کدو کاوش کی جارہی ہے اورمحمد الیاس قادِری صاحب نے ایک نیا طریقہ اورنیا پروگرام شروع کیا اوراپنے مقصد میں بڑی عظیم کامیابی حاصل کی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع