30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ- (پ ۲۸المجادلہ: ۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔
حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ''علمائے کرام ، عام مؤمنین سے سات سو درجے بلند ہوں گے اور ہر دو درجوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہوگی۔''
اللہ عَزَّوَجَلَّ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِۚ-وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ (۴۳) (پ۲۰، العنکبوت۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان فرماتے ہیں اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔
علماء کے فضائل پراحادیث مبارکہ:
حضورنبیٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: علماء ، انبیاء (علیہم السلام) کے وارث ہیں ۔ (سنن ابی داؤد ، کتاب العلم ، باب فی فضل العلم ، الحدیث۳۶۴۱، ص۱۴۹۳)
نبیٔ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے: لوگوں میں سے افضل وہ مؤمن عالم ہے کہ جب اس کی ضرورت پڑے تو نفع دے اور جب اس سے بے نیازی برتی جائے تو وہ بھی بے نیاز ہو جائے۔'' (شعب الایمان للبیہقی، باب فی طلب العلم ، فصل فضل العلم وشرفہ ، الحدیث۱۷۲۰، ج۲، ص۲۶۹ملخصا)
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے: لوگوں میں درجہ نبوت کے زیادہ قریب علماء اور مجاہدین ہیں۔ علماء ، انبیائے کرام علیہم السلام کی لائی ہوئی تعلیمات کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں جبکہ مجاہدین انبیائے کرام علیہم السلام کی لائی ہوئی شریعت (کی حفاظت) کے لئے اپنی تلواروں سے جہاد کرتے ہیں ۔ (سیر أعلام النبلاء ، الطبقۃ الخامسۃ والعشرون ، الرقم۴۳۳۷، الحسینی محمد بن محمد بن زید ، ج۱۴، ص۵۲، مختصرًا)
میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!علم اور علماء کے تو کیا ہی کہنے!بہر حال علم اور علماء کی قدر وہ لوگ ہی کرتے ہیں جن کو اللہ تعالی عقل سلیم عطا فرماتا ہے۔الحمدللّٰہعَزَّوَجَلَّ فی زمانہ پندرہویں صدی کی عظیم علمی و روحانی شخصیت شیخ طریقت امیر اہلسنّت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاس کے مصداق ہیں ۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ علَمائے اہلسنّت دامت فیوضہم سے بے پناہ عقیدت و محبت رکھتے ہیں ، آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نہ صرف خود انکی تعظیم کرتے ہیں بلکہ اگر کوئی آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے سامنے علَمائے اَہلسنّت دامت فیوضہم کے بارے میں کوئی نازیبا کلِمہ کہہ د ے تو اس پرسخت ناراض ہوتے ہیں ۔
ایک موقع پرکسی نے ٹیلیفون پر بعض علَمائے اہلسنّت کے بارے میں سخت نازیبا کلِمات بیان کیے۔ اس پر آپ نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اُسے توبہ کرنے کی تاکید کی اور امامِ اَہلسنّت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْکے فرمانِ عبرت نشان سے آگاہ کیا جس میں آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہنے عالِم کی تَوہین کی صورَتیں اور ان کے بارے میں حکمِ شرعی بیان کیا ہے۔ (فرمایا: ) فتاویٰ رَضَویہ میں ہے: ’’ اگر عالِمِ دین کو اِس لئے بُرا کہتا ہے کہ وہ ’’ عالِم ‘‘ ہے جب تو صَرِیح کافِرہے اور اگر بوجہ علْم اُس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کِسی دُنیوی خُصُومت (یعنی دُشمنی) کے باعثِ بُرا کہتا ہے، گالی دیتا ہے اور تَحقیر کرتا ہے تو سخت فاسِق و فاجِر ہے اور اگر بے سبب (یعنی بلاوجہ) رنج (بُغْض) رکھتا ہے تو مَرِیْضُ الْقَلْب وَ خَبِیْثُ الْباطِن (یعنی دل کا مریض اور ناپاک باطِن والا) ہے اوراُس (یعنی خواہ مخواہ بغض رکھنے والے) کے کُفر کا اندیشہ ہے، ’’ خُلاصہ ‘‘ میں ہے: ’’ مَنْ اَبْغَضَ عَالِماً مِّنْ غَیْرِ سَبَبٍ ظَاہِرٍ خِیْفَ عَلَیْہِ الْکُفْر ‘‘ یعنی جو بِلا کسی ظاہری وجہ کے عالمِ دین سے بغض رکھے اُس پر کُفر کا خوف ہے۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ ج ۲۱ ص ۱۲۹ )
اِمام فخر الدِّین رازی علیہ رحمۃ اللہ الھادی تفسیرکبیر میں یہ روایت نقل فرماتے ہیں : ’’ جس نے عالِمِ دِین کی توہین کی، تحقیق اس نے علم دِین کی توہین کی اور جس نے علمِ دِین کی توہین کی، تحقیق اس نے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی توہین کی۔ ‘‘ (تَفْسِیرِ کَبِیر مُختصَراًج۱ ص۴۰۸ داراحیاء التراث العربی بیروت) اسی تفسیر کبیر میں جلد۱صفحہ۴۱۱ پر ہے : ’’ جس نے عالِم کو حقیر سمجھا ، اُس نے اپنے دِین کو ہلاک کیا ۔ ‘‘
دعوتِ اسلامی سے تمام وابَستگان بلکہ ہر مسلمان کے لئے ضَروری ہے کہ وہ عُلَمائے اہلسنّت سے ہر گز نہ ٹکرائیں ، اِن کے اَدب و احِترام میں کوتاہی نہ کریں ، عُلَمائے اہلسنّت کی تَحقیر سے قَطْعاً گریز کریں ، بِلا اجازتِ شرعی ان کے کردار اور عمل پر تنقید کرکے غیبت کا گناہِ کبیرہ، حرام اور جہنَّم میں لے جانے والاکام نہ کریں ۔
ایک بارامیر ِا ہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ حضور! اگر کوئی عالم صاحِب غصہ میں آکر جھاڑدیں تو کیا ان کی بد اَ خلاقی کی گرفت نہ کی جائے ؟
ارشاد فرمایا : ’’ ایسے موقع پر اپنے اوپر غور کریں کہ ہوسکتا ہے کہ آپ ہی کی کو تاہی کی وجہ سے انہیں غصہ آگیا ہوگا یا یوں سوچیں کہ اس وقت یہ اندرونی طورپر پریشان ہونگے لہٰذا بتقاضائے بَشَرِیَّت غصہ میں آگئے ہوں گے کوئی حَرَج نہیں یہ عالمِ دین ہیں اور علمی معاملات میں ان کے مجھ پر احسانات ہیں ۔اس طرح ذہن بنا کر درگزر سے کام لیں۔یوں بھی درگزر کرنے کا بہت ثواب ہے جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے ۔ ’’ جو ایک مسلمان سے درگزر کریگا اللہ عَزَّوَجَلَّاس (درگزر کرنے والے) سے بروزِ قِیامت دَر گزر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع