30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیان کرنا بڑا مشکل ہے، آپ نے تبلیغ دین میں جو محنت فرمائی اور مسلکِ حق اہل سنت کو جو فائدہ پہنچایا ، وہ خصوصاً مخالفین اہل سنت کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے، مخالفین حضرت مولانا کی دینی خدمات سے اس قدر پریشان ہیں کہ وہ ہر وقت کوشش میں ہیں کہ کسی طرح حضرت کے فیض کو منقطع کردیں ، اسی سلسلے میں وہ حضرت پر کئی حملے بھی کرچکے ہیں ، مگر شاید وہ لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ
فانوس بن کر جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جس کوروشن خدا کرے
یہ حضرت مولانا کے اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج ہر سنی کی زبان پر آپ کی تعریف ہوتی ہے۔ راقم الحروف نے گوجرانوالہ کے قیام میں اپنے نواسے ’’ محمد داؤد صاحب ‘‘ سے ان کے بارے میں بہت پیاری پیاری باتیں سنیں ، جب کہ میرے داماد ابو داؤد صادق صاحب بھی اپنے رسالے ’’ رضائے مصطفی صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم میں ان کے بارے میں ، ان کی تعریف میں کچھ نہ کچھ تحریر کرتے رہتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ’’ اللہ تعالٰی ان کی تمام دینی، مسلکی ، مذہبی کاوشوں کو قبول فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم
میں نے مسجد چوہدریاں رنگ پورہ روڈ کی ایک ہی مسجد میں سابقہ ۶۴ سال میں ۶۴ مصلے سنائے، میں اس کا ثواب حضرت کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کرتا ہوں ۔ اللہ قبول فرمائے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(20) حضرت علامہ مولاناعارف سعیدی مُدَّظِلُّہُ العَالِی
قال اللہ تعالٰی:
وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (۱۰۴) (پ ۴، ال عمران: ۱۰۴) (ترجمۂ کنز الایمان: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے )
رہبرِ قوم حضرت علامہ مولانا محمد الیاس قادری زید مجدہ ایک تنظیم ، ایک سچے اور مخلص مسلمان جواپنے سینے میں معاشرے کی بے راہ روی ، عریانی اورفحاشی کے خاتمے کی تڑپ، جہنم کے دردناک عذاب سے لوگوں کو بچانے کا سچا جذبہ رکھنے والے بندئہ مومن ہیں جو عنفوانِ شباب سے ہی صلوۃ و سنت کی تحریک لے کر کراچی سے تن تنہا بے سرو سامانی کے عالم میں نکلے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں (افراد) کو جہنم کے کناروں سے پکڑ پکڑ کر جنت کے راستے پر گامزن کردیا۔
ایسے معاشرے میں کہ جہاں نوجوانوں کے خون کی گرمی بڑھتی ہو، خواہشاتِ نفسانی کے طوفان میں بڑے بڑے علماء و مفکرین اور دانشور انِ قوم اپنی تحریکوں کو ڈوبتا ہوا دیکھ رہے ہوں یا ان کی تحریکیں محض ریٹائرڈ ملازمین یا عمر کی آخری اسٹیج پر پہنچے ہوئے افراد کے گرد گھوم رہی ہوں ، نوجوان ہیپی کٹ لباس اور اسٹائل میں گم ہوچکے ہوں اور دیکھنے والے دیکھ لیں کہ نوجوان نسل کے لیے خواہشات کے مندروں کو مسمار کرنا انتہائی مشکل ہے وہی نوجوان چند دن اس مردِ مجاہد کی صحبت میں بیٹھیں تو ان کی زندگی یکسر بدل جائے، سر پر عمامہ سجالیں ، لباس، اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا، کھانا پینا، سید المرسلین صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کی اداؤں میں گم کردیں ۔
جب ابتدائے اسلام کی روایات اور خیر القرون کی پاکیزگی جیسے اوصاف ضعیف اور کمزور کردیئے گئے ہوں ، ڈِش، کیبل، ٹی وی میڈیا پر کروڑوں بلکہ اربوں روپے سے اسلام دشمن قوتیں اسلام کو مٹانے پر سرگرمِ عمل ہوں دنیائے اسلام کی حقیقی روح کا نظارہ تروتازہ مہکتے ہوئے پھولوں کی طرح دیکھے، سونگھے اور محسوس کرے تو پھر حق و ہی ہے جس کی گواہی دل بھی دے اور زبان بھی کہے: ’’ ہاں ہاں کیوں نہ کہوں اس صدی کا محی السنۃ والدین ‘‘ ۔اگر دلیل چاہئے، آج کے علماء ہی کو دیکھ لیجئے اگرچہ خود عمل میں جدوجہد میں کامل بھی ہوں مگر انکی صحبتیں ایسی مثالیں پیش کرنے سے عاری ہیں ۔ کم از کم میری نگاہیں سوائے دعوتِ اسلامی کے ماحول کے ایسے مناظر کے نظارہ کو ترستی ہیں ۔
اللہ کرے اس مردِ قلندر کی عشقِ مصطفی صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم سے سرشارجدوجہد نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں چھا جائے، لوگ اپنے ملک میں نظامِ مصطفی صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کے نفاذ کی جدوجہد کرتے ہیں مگر خود ان کے گھر اس دولت سے محروم ہوتے ہیں ۔اے دعوتِ اسلامی!تیری تحریک پر قربان کہ تو نے کئی گھروں میں نظامِ مصطفی صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کو نافذ کر دکھایا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(21) حضرت علامہ مولانا صاحبزادہ عبد المالکمُدَّظِلُّہُ العَالِی
(خلیفہ ٔ مجاز پیر سید اکبر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ، مہتمم جامعہ اکبریہ میانوالی)
حضرت مولانا محمد الیاس قادری عطارؔ مدظلہ العالی سے میری شناسائی 1986ء سے ہے جب وہ کھارادر کی جامعہ مسجد کے فٹ پاتھ پر مذہبی کتابوں اور تبرکات کا اسٹال لگایا کرتے تھے۔ باوجود کٹھن کام اور محنت کے انہوں نے تبلیغ دین کے فریضہ میں کبھی کوتاہی نہ فرمائی۔ کھارادر کی مسجد سے اٹھنے والی علم و عرفان کی لہروں نے پورے ملک بلکہ پوری دنیا کو منور فرمایا۔
پنجاب میں جب دعوتِ اسلامی نے اپنے مشن کا آغاز کیا تو اس دعوت کی تحریک کو دس سال گزر چکے تھے ، میانوالی میں دعوتِ اسلامی کا پہلا وفد حضرت مولانا محمد الیاس قادری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع